عباس علی بیگ پہلے ہندوستانی کرکیٹر جن کو خوبصورت نوجوان خاتون نے بوسہ دیا۔
19 مارچ 1939 کو برٹش انڈیا کے حیدرآباد شہر میں پیدا ہوئے۔ 1954 سے انھوں فرسٹ کلاس کرکٹ کے ذریعے اپنا پہلا میچ رنجی ٹرافی کے دوران آندھرا پردیش کے خلاف کھیلا۔ اس کے بعد دوسرا میچ میسور کے خلاف کھیلا۔
اپنے دوسرے میچ میں 105 رنز ناٹ آؤٹ اور 43 رنز بنائے۔ اس سیزن کے رنجی ٹرافی کے اختتام تک انھوں نے 62 کے اوسط سے 187 رنز بنائے اور انھیں بہترین کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا۔
1950 کے آخر میں عباس علی تعلیم کے سلسلے میں انگلینڈ چلے گئے۔ انگلینڈ میں آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے میچ بھی کھیلے۔ انھوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے 15 میچ کھیلے۔
اسی دوران انھوں نے فری فارسٹرز کے خلاف کھیلتے ہوئے 221 رنز ناٹ آؤٹ اور 87 رنز بنائے۔ اس وقت کے مشہور کھلاڑی ڈیرک ڈی سارم نے 208 اور 75 رنز بنائے تھے۔ اس ریکارڈ کو عباس علی بیگ نے توڑا۔ اس وقت فرسٹ کلاس کرکٹ میں ٹیم کے لیے سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی بن گئے۔
اسی دوران ہندوستان کا انگلینڈ دورہ تھا۔ سیریز کے چوتھے میچ میں وجے مرچنٹ کو گیند لگنے سے زخمی ہونے کی وجہ سے ان کی جگہ عباس علی بیگ کو ٹیم انڈیا میں شامل کیا گیا۔ اس وقت عباس علی بیگ کی عمر 20 سال اور 131 دن تھی۔ چوتھے ٹیسٹ کی دوسری اننگ میں بہترین 112 رنز بنائے اور ہندوستان کے سب سے کم عمر سنچری بنانے والے کھلاڑی بن گئے۔
اس میچ میں پالی عمریگر نے بھی سنچری بنائی تھی۔ اس کے باوجود ہندوستان وہ ٹیسٹ میچ ہار گیا۔ عباس علی بیگ نے اپنی بہترین کارکردگی کی وجہ سے ٹیم میں مضبوطی سے جگہ بنا لی تھی۔ عباس علی بیگ نے میچ کی چوتھی اننگ میں سنچری بنانے والے پہلے بلے باز کا ریکارڈ بھی قائم کیا تھا۔
انگلینڈ سیریز اختتام کے بعد اس سال آسٹریلیا نے ہندوستان کا دورہ کیا۔ عباس علی کو ٹیم انڈیا میں شامل کیا گیا۔ کانپور کے دوسرے ٹیسٹ میں دونوں اننگز میں 19 اور 36 رنز بنائے، اور ٹیم انڈیا کو آسٹریلیا کے خلاف پہلی فتح کے ساتھ ہندوستانی پرچم ترنگا بلند ہوا۔ اس کے بعد بمبئی ٹیسٹ میں عباس علی نے پہلی اننگ میں 50 رنز بنائے اور ناری کنٹریکٹر کے ساتھ مل کر 133 رنز کی بہترین اشتراکی اننگ کھیلی۔
اس کے بعد عباس علی خاموش نہیں بیٹھے۔ اپنی دوسری اننگ میں بہترین 58 رنز بنائے ان کی بہترین بلے بازی کی وجہ ہندوستان میچ برابری پر ختم کرنے میں کامیاب رہا۔ اسی میچ کے دوران چائے کا وقفہ تھا۔ عباس علی اپنے ساتھی رام ناتھ کے ساتھ پویلین جارہے تھے۔
اس وقت ایک خوبصورت خاتون میدان پر آگئی اور عباس علی کے گال کا بوسہ لیا۔ عباس علی اس طرح میدان پر خاتون کے ذریعے بوسہ لینے والے پہلے ہندوستانی کرکیٹر بن گئے۔ اس وقت وجے مرچنٹ نے اپنے انٹرویو میں کہا "مجھے حیرت ہے جب میں سنچری اور دوہری سنچری بنارہا تھا اس وقت یہ خوبصورت نوجوان خواتین کہاں تھیں”
پاکستان نے جب ہندوستان کا دورہ کیا اس وقت بھی عباس علی ٹیم انڈیا میں شامل کیے گئے۔ اس ٹیسٹ سیریز میں عباس علی نے چار اننگز میں صرف 34 رنز ہی بنائے۔ جس کی وجہ سے انھیں اگلے میچ میں شامل نہیں کیا گیا۔ اس وقت عباس علی کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے انھیں کئی نفرت انگیز خطوط کا سامنا کرنا پڑا۔
اس کے بعد 1966 میں ویسٹ انڈیز نے ہندوستان کا دورہ کیا اور عباس علی کو پھر ایک موقع ملا۔ مگر عباس علی نے اپنے دو ٹیسٹ میچ میں صرف 48 رنز ہی بنائے۔ اس کے بعد عباس علی بیگ کو ٹیم انڈیا میں شامل نہیں کیا گیا۔ عباس علی بیگ نے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ 23 جولائی 1959 کو انگلینڈ کے خلاف کھیلا۔ اور آخری ٹیسٹ میچ 31 دسمبر 1966 کو ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلا۔
انھوں نے 1959 سے 1966 تک ٹیسٹ کرکٹ میں دس ٹیسٹ میچ کھیلتے ہوئے 428 رنز بنائے۔ جس میں ایک سنچری اور دو نصف سنچریاں رہی۔ بہترین کارکردگی 112 رنز اور چھ کیچ بھی شامل ہیں۔
فرسٹ کلاس میچوں میں
1954-76 تک حیدرآباد کی طرف سے کھیلا۔
1959-62 تک آکسفورڈ یونیورسٹی کی طرف سے کھیلا۔
1960-62 تک انگلینڈ میں سومرسیٹ کی طرف سے کھیلا۔
فرسٹ کلاس کرکٹ میں 235میچوں میں 12367 رنز کے ساتھ 21 سنچریاں اور 64 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ لیگ بریک اسپین گیند بازی میں 660 وکٹوں کے ساتھ بہترین گیند بازی رہی 26 رنز دے کر دو وکٹ کے ساتھ شاندار 154 کیچ بھی شامل ہیں۔




