لکھنؤ ،9نومبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)3 اکتوبر کو لکھیم پور کھیری میں کسانوں کو تھار گاڑی سے کچلنے کے معاملہ میں ایک نیا انکشاف سامنے آیا ہے۔ اس معاملہ میں فرانزک لیب کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہنگامہ آرائی کے دوران جو فائرنگ ہوئی، وہ مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا ٹینی کے بیٹے آشیش مشرا کے اسلحہ سے ہوئی تھی۔
اس معاملہ پر سپریم کورٹ نے تحقیقاتی ٹیم پر ایک خاص شخص کو بچانے کی بات کرکے برہمی کا اظہارکیا ہے۔خیال رہے کہ تشدد میں چار کسانوں سمیت آٹھ افراد مارے گئے تھے۔رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ اشیش مشرا مونو کی ریوالور اور اس کے دوست انکت داس کے ری پیٹر گن اور پستول سے فائرنگ کی گئی تھی۔
اس وقت دونوں ملزمان لکھیم پور کھیری ڈسٹرکٹ جیل میں بند ہیں۔اے ایس پی ارون کمار سنگھ نے کہا کہ کیس سے متعلق شواہد کی رپورٹس آنا شروع ہو گئی ہیں، جنہیں تحقیقات کے لیے بھیجا گیا تھا۔ جس کی بنیاد پر مزید تفتیش کی جائے گی۔
پیر کو سپریم کورٹ نے اس معاملہ کی سماعت کرتے ہوئے سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہاتھا کہ اسے لکھیم پور کھیری تشدد کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی جانچ کی نگرانی کے لیے یوپی حکومت کی طرف سے بنائے گئے عدالتی کمیشن پر بھروسہ نہیں ہے‘۔عدالت نے ایس آئی ٹی کی جانچ کی اسٹیٹس رپورٹ پر بھی شدید ناراضگی کا اظہار کیاتھا۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ تفتیش میں آزادی اور غیر جانبداری کے لیے نگرانی کسی دوسرے ریاست کے ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کو کرنی چاہیے۔ اس معاملہ پر اگلی سماعت 12 نومبر کو مقرر کی گئی ہے۔
چیف جسٹس این وی رمن، جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس ہیما کوہلی پر مشتمل سپریم کورٹ کی بنچ نے بھی اسٹیٹس رپورٹ کو دیکھنے کے بعد جانچ کی سست رفتار ی پر عدم اطمینان ظاہر کیا تھا ۔ بنچ نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ایک خاص ملزم کو بچانے کے لیے ثبوت جمع کیے جا رہے ہیں۔



