سرورقسیاسی و مذہبی مضامین
اصلاح ضروری ہے اس برائی کی جو مسلمانوں میں بھی در آئی ہے ۔محمد مصطفی علی سروری
سنی کی عمر 12 برس تھی اور وہ ساتویں کلاس میں پڑھتا تھا۔ دوستوں کے ساتھ اس کو پہلی مرتبہ شراب نوشی کرنے کا موقع ملا اور سنی جب 9 ویں کلاس میں گیا تو تب تک وہ باضابطہ طور پر پابندی سے شراب پینے لگا تھا۔ سب کچھ ایسے ہی چل رہا تھا۔ سنی اسکول کو بھی جاتا، دوستوں کے ساتھ شراب نوشی بھی چلتی تھی۔
سنی کے لیے اصل مسئلہ تب پیدا ہوا جس وقت سال 2007ء میں اس کے والد ریٹائر ہوگئے۔ جس کے بعد ان کی تنخواہ وظیفہ میں بدل گئی۔ آمدنی گھٹ گئی۔ انہوں نے سنی کو جیب خرچ دینا بھی بند کردیا۔ یہ تو سنی کے والد کے حالات بدلے تھے۔ سنی کے لیے تو شراب پینا ضروری تھا۔ والد پیسے نہیں دیتے تھے تو اس نے اپنی شراب کے لیے خود ہی پیسے کمانا شروع کردیا۔
9 ویں جماعت میں تھا نوکری کہاں سے ملتی تھی بس ایسے ہی ایک دوست نے پیسے کمانے کا راستہ بتلادیا کہ اگر وہ اپنا خون بیچنے لگے تو اس سے پیسے مل سکتے ہیں۔ اور پھر ان پیسوں سے شراب خریدی جاسکتی ہے۔ بس کیا تھا سنی نے اپنا خون فروخت کرنا شروع کردیا۔
لیکن یہ سلسلہ بھی زیادہ دن نہیں چل سکتا تھا اس لیے سنی کے دوستوں نے مشورہ دیا کہ وہ کاروبار کرے اور بزنس کر کے وہ اتنا کماسکتا ہے کہ اپنی شراب کے لیے اس کو دوسروں سے مانگنا نہ پڑے۔
اب اصل مسئلہ یہ تھا کہ کاروبار کرنے کے لیے پیسے چاہئے تھے۔ پھر دوستوں نے سمجھایا کہ پیسہ دینا تو گھر والوں کا ہی کام ہے۔ سنی نے پھر اپنے گھر والوں سے 50 ہزار روپئے لے کر سال 2011-12ء کے دوران اپنا ہوٹل کا کاروبار شروع کیا۔
پڑھائی تو دسویں کلاس میں آتے آتے ختم ہوگئی تھی۔ اب گھر والوں سے پیسے لے کر کاروبار شروع کیا تو تب بھی شراب کی عادت نے پیچھا نہیں چھوڑا۔ سال 2013-14 کے دوران ہوٹل کے کاروبار میں بھی نقصانات نے سنی کو مجبور کردیا کہ وہ اس کو بند کردے۔
یہ صرف کاروبار ہی بند نہیں ہوا بلکہ وہ لڑکی بھی سنی کو چھوڑ کر چلی گئی جو اس کی دوست بنی تھی۔ سنی ڈپریشن میں چلا گیا۔ اس کو لگنے لگا کہ تعلیم وہ حاصل نہیں کرسکا۔ شراب پینے کے لیے اس کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ کاروبار اس کا ڈوب گیا۔ جس لڑکی کو چاہتا تھا وہ بھی بھاگ گئی ہے تب اس نے فیصلہ کیا کہ اب اس کی زندگی کا کوئی مقصد باقی نہیں رہا۔
اخبار نیو انڈین ایکسپریس میں شائع 6؍ نومبر 2021ء کو پرسنتا مزمدار کی رپورٹ کے مطابق سنی نے اپنی زندگی کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا اس نے کیا کیا وہ یاد نہیں رہا لیکن جب اس کی آنکھیں کھلی تو اس نے اپنے آپ کو ICU کے بیڈ پر لیٹا ہوا پایا۔
گھر والوں نے علاج کروایا تو سنی دواخانے سے باہر صحت یاب ہوکر نکلا اور سونچنے لگا کہ اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے۔ کیا شراب پینا زندگی کا مقصد ہے۔ نہیں یہ سونچ کر سنی نے محنت مزدوری کرنا شروع کیا اور پکا ارادہ کرلیا کہ وہ نہ تو نشہ کا غلام ہے اور نہ ہی کسی لڑکی کا۔
وہ آزاد ہے اور اپنے گھر والوں کے لیے ذمہ دار ہے۔ شائد یہی احساس تھا جس نے سنی کو آگے بڑھ کر اپنی زندگی نئے سرے سے شروع کرنے کی توانائی فراہم کی۔23؍ اگست 2018ء کی تاریخ سنی کو اچھی طرح یاد ہے۔ اس دن اس نے اپنے Aakhol Ghar نام کے ہوٹل کو دوبارہ شروع کیا۔
پہلے کی بہ نسبت اس مرتبہ سنی کے ہاں ایک نیا جذبہ تھا۔ اس نے اس بات کو بخوبی سمجھ لیا تھا کہ اس کی زندگی نہ تو شراب نوشی کے لیے بنی تھی اور نہ ہی ایسی کسی لڑکی کے لیے جو اس کی غریبی کو دیکھ کر اس کا ساتھ چھوڑ دیتی ہے۔
سنی نے جب اپنے لیے جینا شروع کیا اور یہ جان لیا کہ اس کے اصل ہمدرد اس کے گھر والے ہی ہیں۔ تب کاروبار میں اس کو فائدہ ہونے لگا۔ حالانکہ کاروبار کوئی نیا نہیں تھا۔ لیکن نیت اور جذبہ ضرور بدل گیا اور پھر فروری کے آتے آتے سنی نے اپنا دوسرا وینچر شروع کیا۔ اس کا نام روغن جوش رکھا۔ یہ بھی ایک ہوٹل تھی۔
اخبار نیو انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے سنی نے بتلایا کہ میری ہوٹل کو آنے والے کسٹمرس میں سرکاری ملازمین سے لے کر یومیہ اجرت پر کام کرنے والے تک شامل ہوتے ہیں۔ میری ہوٹل میں ایک وقت میں ایک ساتھ صرف 32 افراد ہی بیٹھ کر کھانا کھاسکتے ہیں لیکن کھانا کھانے کے خواہشمند حضرات کی تعداد سینکڑوں میں ہوتی ہے تب انہیں قطار بھی بنانا پڑتا ہے اور انتظار بھی کرنا پڑتا ہے۔
اب سنی کے ہوٹل میں کام کرنے والے ملازمین کی تعداد 12 تک پہنچ گئی ہے اور اخباری رپورٹ کے مطابق وہ ماہانہ 2 لاکھ روپئے منافع کمارہا ہے۔قارئین ذرا اندازہ لگائیں کہ سنی کی ہوٹل کتنی بڑی ہے جہاں پر ایک وقت میں صرف 32 افراد ہی بیٹھ سکتے ہیں۔
شراب کا نشہ کرنے والوں کو سنی کا مشورہ ہے کہ ہر شرابی کو اس بات کا احساس کرنا چاہیے کہ یہ ایک خراب عادت ہے اور اس خراب عادت سے وہ خود ہی باہر نکل سکتا ہے۔دوسرے صرف مشورے دے سکتے ہیں۔
قارئین یہ تو آسام سے تعلق رکھنے والے سنی باروا کی کہانی ہے جو کہ نیو انڈین ایکسپریس اخبار میں 6؍ نومبر 2021ء کو شائع ہوئی۔ آیئے اب ذرا مسلم کمیونٹی کے درمیان بڑھتی ہوئی نشہ کی عادات کے بارے میں پتہ کرتے ہیں۔ اگر کوئی یہ کہے کہ مسلمانوں میں نشے کی عادات نہیں کے برابرہے تو پولیس کی کاروائیوں میں ہونے والی گرفتاریوں اور پولیس کے ہاں درج ہونے والے کیس کو اگر ہم ملاحظہ کریں تو تصویر کا کچھ اور ہی رخ سامنے آئے گا۔
مسلمانوں میں شراب نوشی کی یا نشے کی لت کوئی نئی بات نہیں ہے۔ پہلے زمانے میں نشے کرنے والوں کو دنیا آسانی سے جان جاتی تھی۔ اردو زبان کے بہت سارے شعرا کے بارے میں کتابوں میں لکھا ہے کہ وہ لوگ شراب نوشی کے عادی تھے اور اسی عادات نے ان کی جان تک لینے کے اسباب پیدا کیے۔ عام مسلمانوں میں بھی خاص کر نوجوان نسل میں نشہ کرنے اور شراب نوشی کرنے کا منفی رجحان مسلسل بڑھتا جارہا ہے۔
مسائل تو ہر قوم اور نسل کے لوگوں کے ساتھ جڑے ہیں۔ شہر حیدرآباد کے ایک 35 سال نوجوان کے متعلق اکتوبر 2021ء میں خبر آئی کہ اس نوجوان کو ریئل اسٹیٹ کے کاروبار میں نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری جانب قرضوں کا بوجھ بھی بڑھتا گیا۔
قرضوں کا مطالبہ لے کر لوگ جب اس نوجوان کے گھر پہنچنے لگے تو یہ نوجوان اپنے بیوی اور بچوں اور گھر کو چھوڑ کر شہر کی ایک لاج میں قیام کرنے لگا جہاں سے رقم آنے کی امید تھی وہ لوگ بھی ٹالتے گئے۔ جن کو رقم دینا تھا ان کا مطالبہ شدت اختیار کرگیا۔
حبیب نگر پولیس اسٹیشن کے حدود میں پھر ایک دن یہ خبر موصول ہوئی کہ 35 سال کے نوجوان کی مسلسل شراب نوشی سے موت واقع ہوگئی۔پولیس کے مطابق یہ نوجوان گذشتہ دو مہینوں سے لاج میں قیام پذیر تھا۔ انتقال سے پہلے اس نے خوب شراب پی لی اور قئے کرنے کے بعد اس کی موت واقع ہوگئی۔
حالات خراب ہوجانے کے بعد نشہ کی عادات اختیار کرنے سے نہ تو قرضوں کا بوجھ کم ہوا اور نہ کوئی مسئلہ حل ہوا ۔قارئین یہ کسی غیر نوجوان کی کہانی نہیں بلکہ ایک مسلم نوجوان کی ہے جس کی کثرت شراب نوشی کے سبب موت واقع ہوگئی ہے۔
یہ تو ایک ایسا واقعہ ہے جس کا سوشیل میڈیا پر خوب ذکر ہوا۔ یہاں پر اس کا ذکر اس لیے کیا گیا کہ قوم و ملت کے فکر مند حضرات اس بات کا نوٹ لیں کہ قوم کے نوجوانوں کی خاصی تعداد میں نشہ کے عادی بنتی جارہی ہے اور یہ نشہ صرف شراب کا نہیں بلکہ کئی طرح کا ہے۔ سونگھنے کے نشے سے لے کر کھانے پینے اور تو اور طبی ادویات کا غلط استعمال سے نشہ کی عادات عام ہوتی جارہی ہیں۔
نشہ کی روک تھام کرنا نوجوانوں کو اس لعنت سے بچانا پولیس اور حکومت کے اداروں کی ہی ذمہ داری نہیں ہے۔ قوم کی فکر کرنے والوں کو بھی اس حوالے سے آگے آنا ہوگا۔ کتنے نوجوان ہیں جو سنی کی طرح حالات کی مار کھاکر سیدھے راستے پر چلنے لگتے ہیں اور کتنے نوجوان ایسے ہیں جو حالات سے پریشان ہوکر نشے کی چھائوں میں سکون تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اپنی زندگی سے تو ہاتھ دھوتے ہی ہیں ساتھ ہی اپنے رشتہ داروں اور چاہنے والوں کی زندگی بھی ہمیشہ کے لیے مسائل میں ڈال کر منوں مٹی تلے چلے جاتے ہیں۔
کیا ہم مسلم نوجوانوں کو شراب اور نشے کی لت سے دور رکھنے کے لیے کام کرنے والی کسی مسلم تنظیم سے واقف ہیں۔ جو نشے کے عادی افراد کی مذہبی اور نفسیاتی کونسلنگ کر کے طبی امداد فراہم کرے۔
جب تک ہم تسلیم نہیں کریں گے کہ مسلمانوں میں نشے کی بری عادات در آئی ہیں شائد تب تک کوئی مسلم جماعت اور تنظیم اس حوالے سے کام کرنے کی اہمیت اور ضرورت کو تسلیم نہیں کرے گی۔
تسلیم کیجئے گا شراب نوشی اور نشہ کی عادات بھی ایک سماجی مسئلہ ہے۔ اس کا حل ڈھونڈنا ہماری ذمہ داری ہے۔ جب اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے تو یقینا نشہ اور شراب کی عادات سے چھٹکارے کے لیے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں حل بھی موجود ہوگا۔ ہمیں بحیثیت مسلمان برائیوں کے خلاف جدو جہد کرنا، برائیوں سے نفرت کرنا ہے۔ برے لوگوں سے نہیں۔
(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)
sarwari829@yahoo.com



