قومی خبریں

دہلی فسادات: عدالت نے 10 ماہ تک پیش نہ ہونے پر لگایا جرمانہ، کمشنر کو جانچ کی ہدایت

نئی دہلی ، 13 دسمبر:(اردودنیا/ایجنسیاں)مجسٹریٹ کورٹ نے دہلی فسادات کے مقدمات کی سماعت کے دوران پراسیکیوٹر کے گزشتہ 10 ماہ سے دہلی کی عدالت میں حاضر نہ ہونے پر ریاستی حکومت پر جرمانہ عائد کیا ہے، وہیں عدالتی اخراجات کے لیے پراسیکیوٹر کا احتساب طے کرنے کے لیے پولیس کمشنر کو تحقیقات کرنے اور جرمانے کی رقم تنخواہ سے وضع کرنے کا حکم دیا ہے۔

چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ (سی ایم ایم) ارون کمار گرگ نے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر (ایس پی پی) کی عدم موجودگی کی وجہ سے فروری 2020 کے فرقہ وارانہ فسادات کیس میں سماعت کے دوران التوا کی درخواست کے بعد 3,000 روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔

جج نے التوا کی درخواست کی اجازت دیتے ہوئے ریمارکس دیا کہ 30 جنوری 2021 کو کیس میں چارج شیٹ داخل ہونے کے بعد سے ایس پی پی ایک بار بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ انہوں نے 10 دسمبر کے حکم میں کہا کہ التوا کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے ریاست کو عدالت میں 3000 روپے جمع کرانے کا حکم دیا جاتا ہے۔

جج نے کہا کہ عدالت نہیں چاہتی کہ اخراجات کا بوجھ سرکاری خزانے پر پڑے، اس لیے میں دہلی کے پولیس کمشنر کو حکم دیتا ہوں کہ وہ عدالتی اخراجات کا احتساب طے کرنے کے لیے انکوائری کریں اور اس رقم کو ملازمین کی تنخواہ سے وضع کریں ۔سی ایم ایم گرگ نے ہدایت دی کہ عدالتی حکم کی ایک کاپی ڈی سی پی (نارتھ ایسٹ ڈسٹرکٹ) اور پولس کمشنر کو ہدایت کے ساتھ بھیجی جائے تاکہ وہ پراسیکیوٹر کی موجودگی کو یقینی بنائیں۔

ایک روز قبل فسادات کے مقدمات کی سماعت کرنے والی عدالت نے ایس پی پی کی عدم موجودگی کی وجہ سے ان مقدمات کے نمٹانے میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا تھا، اس کے علاوہ دہلی پولیس کو ریاست کی نمائندگی کے لیے مزید پراسیکیوٹر مقرر کرنے کی ہدایت بھی دی گئی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button