سوانح حیات فلمی و اسپوریٹس

ٹیم انڈیا کے مائیہ ناز کپتان، بلے باز اور بہترین فیلڈر، تین اننگز میں تین سنچریوں کا عالمی ریکارڈ،مشہور کرکیٹر محمد اظہر الدین

محمد اظہر الدین 8 فروری 1963 کو حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔ والد محمد عزیز الدین اور والدہ یوسف سلطانہ۔ اسکولی تعلیم آل سینٹس اسکول سے حاصل کی۔ نظام کالج اور عثمانیہ یونیورسٹی سے کامرس گریجویشن پاس کیا۔ بچپن سے ہی کھیل میں دلچسپی تھی۔ اپنے زمانے کے کرکٹ کھلاڑیوں سے بہت متاثر تھے۔ جس کی وجہ انھیں بھی کرکٹ میں دلچسپی تھی۔ محمد اظہر الدین کو کرکٹ کے میدان میں اظہر یا پھر اجو سے پکارا جاتا تھا۔

اظہر الدین شروعات سے ہی کلائی اسٹروک کے لیے مشہور تھے۔ بائیں ہاتھ سے بلے بازی اور بائیں ہاتھ سے ہی گیند بازی بھی کیا کرتے۔  اظہر الدین نے 31 دسمبر 1984 کو انگلینڈ کے خلاف اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا۔  اپنے پہلے ٹیسٹ کے وقت ہی مسلسل تین اننگز میں تین سنچریوں کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر اپنی شناخت بناتے ہوئے کرکٹ میں  ریکارڈ قائم کیا۔

جو آج تک اظہر الدین کے نام ہے۔ 20 جنوری 1985 میں اپنا پہلا یک روزہ میچ بھی انگلینڈ کے خلاف کھیلا۔ مگر یک روزہ میچوں میں دو سال کے لمبے عرصہ کے بعد سری لنکا کے خلاف کھیلتے ہوئے 108 رنز بناتے ہوئے اپنی پہلی سنچری مکمل کی۔

1987 میں نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلتے ہوئے برق رفتاری سے 62 گیندوں پر سنچری بناتے ہوئے ہندوستان کو فتح دلانے میں کامیاب ہوئے۔ ویسے تو محمد  اظہر الدین فرسٹ کلاس میچوں کے ذریعے اپنی شناخت اور کرکٹ کے شیدائیوں کو اپنی طرف متوجہ کر رکھا تھا۔

اس وقت ان کی بہترین بلے بازی میں 226 رنز کا شور پورے ہندوستان میں تھا۔ اسی دوران انگلینڈ کی ٹیم ہندوستان کے دورہ پر آئی ہوئی تھی۔ انگلینڈ نے ہندوستانی خیمہ میں تہلکہ برپا کر رکھا تھا۔ اس وقت ٹیم انڈیا کے کھلاڑی انگلینڈ کے سامنے ٹک نہیں پا رہے تھے۔

جس کی وجہ سے درمیانی بلے باز بھی سنبھل نہیں پائے۔ اس وقت ایسے کھلاڑی کی تلاش تھی جو انگلینڈ کے گیند بازوں کو سبق سکھا سکے۔ اس وقت محمد اظہر الدین کا نام سامنے آیا جیسا کے کرکٹ کے شروعاتی دور سے اظہر الدین تک ہوا۔ جب کبھی بھی انگلینڈ نے ٹیم انڈیا کو مشکل میں رکھا اس وقت محمد نثار یا پھر اظہر جیسے کھلاڑی نے ہی انگلینڈ کے گیند بازوں کی جم کر پٹائی کی اور ٹیم انڈیا کو فتح دلائی۔

اس مرتبہ بھی اظہر الدین نے انگلینڈ کے گیند بازوں کی جم کر پٹائی کی اور ٹیم انڈیا کو ایک مستحکم پوزیشن دلانے میں کامیابی حاصل کی۔ اظہر الدین نے اپنی پہلی اننگ میں بہترین 47 رنز بنائے اور اس کے بعد کی تین اننگز میں تین سنچریاں بناتے ہوئے انگلینڈ ٹیم پر رنز کی بارش شروع کردی جسے انگلینڈ کی ٹیم آج تک نہیں بھول سکی۔ 

محمد اظہر الدین نے 99 ٹیسٹ میچ کھیلے جن میں 6215 رنز بنائے۔ 22 سنچریاں اور 21 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ بہترین کارکردگی رہی 199 رنز اس کے ساتھ 105 شاندار کیچ بھی شامل ہیں۔ اسی طرح یک روزہ میچوں میں 9378 رنز بنائے۔ سات سنچریوں کے ساتھ 58 نصف سنچریاں رہیں۔ بہترین اسکور رہا 153 رنز ناٹ آؤٹ۔ گیند بازی میں 12 وکٹیں۔ بہترین گیند بازی 19 رنز دے کر تین وکٹ، اس کے علاوہ 156 بہترین کیچ بھی شامل ہیں۔ 

فرسٹ کلاس کرکٹ میں 229 میچوں میں 15855 رنز 54 سنچریوں کے ساتھ 74 نصف سنچریوں کا ریکارڈ بھی قائم کیا۔ بہترین کارکردگی رہی 226 رنز۔ گیند بازی میں 17 وکٹوں کے ساتھ بہترین گیند بازی رہی 36 رنز دے کر تین وکٹیں اور شاندار 220 کیچ بھی شامل ہیں۔ 

محمد اظہر الدین نے ٹیسٹ کرکٹ میں ٹیم انڈیا کے لیے 31 دسمبر 1984 کو کلکتہ کے ایڈن گارڈن اسٹیڈیم میں اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلتے ہوئے پہلی اننگ میں 47 رنز بنائے۔ اور دوسری اننگز میں 322 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 110 رنز بنائے۔ اس کے بعد اگلے دو ٹیسٹ میچوں کی دونوں اننگز میں مزید دو سنچریاں بنائیں۔ اس کے بعد انگلینڈ کی ٹیم محمد اظہر الدین کے جارحانہ بلے بازی سے سہمے ہوئے تھے۔ 

انگلینڈ کے دورہ پر لارڈز کے میدان پر ٹیم انڈیا کو فالوآن کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس وقت محمد اظہر الدین نے پھر ایک مرتبہ 85 گیندوں پر 131 رنز کی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹیم انڈیا کو ایک مستحکم پوزیشن پر پہنچایا۔

اس وقت انگلینڈ کے سابق کرکٹر وکس مارک نے اپنے کالم آبزرور میں لکھا "محمد اظہر الدین کی اس سنچری کو بہترین اور شاندار سنچری قرار دیا” اس کے بعد مانچسٹر کے دوسرے ٹیسٹ میں اظہر الدین نے 179 رنز کی شاندار اننگ کھیلی۔

سچن ٹنڈولکر کے ساتھ 112 رنز کی بہترین اشتراکی اننگ بھی رہی۔ محمد اظہر الدین جب اپنا 39 ٹیسٹ میچ کھیل رہے تھے اس وقت 155 گیندوں پر اپنی دسویں سنچری مکمل کی اور میچ برابری پر ختم ہوا۔ 

97-1996 میں جب جنوبی آفریقہ کی ٹیم ہندوستان کے دورہ پر آئی اس وقت محمد اظہر الدین نے برق رفتاری سے 74 گیندوں پر سنچری بنائی۔ اور سابق کپتان اور مشہور کھلاڑی کپل دیو کے بنائے ہوئے ریکارڈ کی برابری کی۔ اسی سیریز میں بلے بازی کرتے ہوئے گیند لگنے سے چوٹ کی وجہ سے محمد اظہر الدین کو پویلین جانا پڑا۔ مگر بعد میں نائٹ واچمین جواگل سریناتھ کے جلد آؤٹ ہونے پر محمد اظہر الدین کو دوبارہ بلے بازی کے لیے میدان میں آنا پڑا۔

کرکٹ کے زخمی شیر نے اس وقت 35 گیندوں میں 50 رنز برق رفتاری سے بنائے اور ہندوستان کے دوسرے تیز رفتار بلے باز کی فہرست میں شامل ہوئے۔ ساتھ ہی میچ کے پہلے وقفے میں شاندار 91 رنز بناتے ہوئے آٹھویں وکٹ کے لیے انل کمبلے کے ساتھ بہترین 161 رنز کی اشتراکی اننگ کا ریکارڈ بھی قائم کیا۔

اظہر الدین نے ہکنگ اور پلنگ کے طرز انداز کو اپناتے ہوئے شارٹ گیندوں پر حملہ اور کمزور گیندوں کو سکسر اور چوکے کا راستہ بھی دکھایا۔ اظہر الدین نے جنوبی افریقہ کی اس سیریز میں چوتھی اور ٹیسٹ میچ کی پندرہویں سنچری بنائی۔

اس سیریز میں ایک اور کارنامہ انجام دیتے ہوئے بہترین 163 رنز بنائے اور ٹیم انڈیا کو ٹیسٹ میچ کی تاریخ میں سب سے بڑی جیت کا ریکارڈ بھی قائم کیا۔ انھیں مین آف دی میچ اور سیریز کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ 

محمد اظہر الدین کرکٹ میں بنیادی طور پر بہترین مڈل آرڈر بلے باز کے ساتھ گیند بازوں کی شارٹ گیند کو باؤنڈری یا سکسر جمانے والے کھلاڑی کے علاوہ سلیپ پر کیچ لینے والے بہترین فیلڈر کے لیے مشہور تھے۔ محمد اظہر الدین نے اپنے 99 ٹیسٹ میچ میں 45 کے اوسط سے 6215 رنز بنائے جس میں 22 سنچریاں اور 21 نصف سنچریاں شامل ہیں۔

یک روزہ میچوں میں بھی بے مثال ریکارڈ قائم کرتے ہوئے 92۔36 کے اوسط سے 9378 رنز بنائے بطور بہترین فیلڈر شاندار 56 کیچ بھی لیے۔ محمد اظہر الدین اپنے پہلے اور آخری ٹیسٹ میچ میں سنچری بنانے والے واحد اور ہندوستان کے پانچویں بلے باز ہیں۔ 

سال 2000 میں محمد اظہر الدین کو میچ فکسنگ میں ملوث کیا گیا۔ جس کی وجہ سے بی سی سی آئی نے ان پر کرکٹ نا کھیلنے کی تا حیات پابندی عائد کر دی۔ سال 2000 میں جنوبی افریقہ کے دورہ کے دوران سیریز جس میں ٹیم انڈیا کو 2:3 سے فتح حاصل ہوئی تھی۔

اس سیریز میں محمد اظہر الدین نے 28 کے اوسط سے 112 رنز بھی بنائے تھے۔ اس کے باوجود اس وقت کے اہم کھلاڑیوں کو بھی میچ فکسنگ کے دائرہ میں لیا گیا۔ محمد اظہر الدین  19 فروری 2009 میں انڈین نیشنل کانگریس پارٹی میں شامل ہوئے۔

اس وقت کے عام انتخابات میں اتر پردیش کے مرادآباد سے جیت حاصل کی۔ اور پارلیمنٹ کے رکن بنے۔ اس کے بعد 2019 میں اپنے شہر حیدرآباد کے سکندرآباد سے انتخابات میں حصہ لینے کا ارادہ بنایا مگر ٹکٹ حاصل نہیں ہوئی۔ محمد اظہر الدین کو 1986 میں ارجن ایوارڈ اور 1988 میں ہندوستان کا چوتھا سب سے بڑا شہری ایوارڈ پدم شری سے نوازا گیا۔

1991 میں وزڈن کے پانچ سال کے بہترین کھلاڑیوں میں سے محمد اظہر الدین کا انتخاب کرتے ہوئے انھیں اعزاز سے نوازا گیا۔

محمد اظہر الدین نے 1987 میں نورین سے شادی کی جن سے ان کے دو بیٹے اسدالدین اور ایازالدین۔ سال 2011 میں ان کے چھوٹے بیٹے ایازالدین کا ایک سڑک حادثہ میں موت واقع ہوئی۔ اس وقت کی کئی مشہور و معروف شخصیات جن میں آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ کرن کمار ریڈی اور دیگر سیاستدان اظہر الدین اور ان کے اہل خانہ کو تسلی دینے کے لیے اسپتال پہنچے۔

محمد اظہر الدین نے 1996 کو بیوی نورین کو طلاق دی اور مشہور بالی ووڈ اداکارہ سنگیتا بجلانی سے شادی کی۔ اس کے بعد محمد اظہر الدین کا نام  بیڈمینٹن کھلاڑی جوالا گٹا کے ساتھ لیا جانے لگا۔ جس کے چلتے 2010 میں افواہ گشت کرنے لگی کہ اظہر الدین نے سنگیتا بجلانی کو طلاق دے دیا۔

مگر محمد اظہر الدین نے ان تمام افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ وہ آج بھی سنگیتا بجلانی کے ساتھ شادی شدہ زندگی گذار رہے ہیں۔ 

ٹونی ڈیسوزا کی ہدایت کاری میں بننے والی بالی ووڈ فلم اظہر الدین پر مبنی تھی۔ اس فلم میں عمران ہاشمی اظہر الدین کے کردار میں نظر آنے والے تھے۔ اداکارہ نرگس فخری سنگیتا بجلانی اور پراچی دیسائی اظہر الدین کی پہلی بیوی کے کردار میں تھی۔

مگر میچ فکسنگ اسکینڈل کو اس فلم کے ذریعے وائٹ واش کرنے کے لیے تنقید کا نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے یہ فلم منظر عام پر نہیں آسکی۔ اسوقت محمد اظہر الدین تلنگانہ پردیش کمیٹی کے ورکنگ صدر کے عہدے پر فائز ہیں۔

 

India World record,محمد اظہر الدین,کرکٹ,سنچری,Proud captain of Team India World record of three centuries in three innings,Muhammad Azharuddin,mohammad azharuddin,mohammad azharuddin stats,mohammad azharuddin wife,mohammad azharuddin net worth,mohammad azharuddin age,mohammad azharuddin son,mohammad azharuddin ipl,mohammad azharuddin rcb,mohammad azharuddin education,mohammad azharuddin movie

متعلقہ خبریں

Back to top button