سرورققومی خبریں

یونیورسٹیوں کو کھولنے اوراسکالرشپ کی مانگ کررہے طلبہ کو حراست میں لیا گیا

یونیورسٹیوں کو کھولنے اوراسکالرشپ کی مانگ کررہے طلبہ کو حراست میں لیا گیا۔

نئی دہلی،21جنوری(اردونیا.ان)پولیس نے جمعرات کے روز یونیورسٹیوں کو کھولنے اور ’فیلوشپ‘ کی رقم کی بروقت فراہمی کا مطالبہ کرنے والے بہت سے طلبہ کو وزارت تعلیم کے سامنے حراست میں لے لیا۔

جواہرلال نہرو یونیورسٹی اسٹوڈنٹ یونین کی صدرآئیشی گھوش نے ٹویٹ کیاکہ ایس ایف آئی کارکنان کو ایم ایچ آر ڈی کے سامنے حراست میں لیا گیا ،وہ فوری طور پر کیمپس کھولے جانے، ’ڈیجیٹل ڈیوائڈ‘ (ڈیجیٹل دور سے فائدہ اٹھانے والے اور سہولیات سے محروم لوگوں کے مابین فرق کو) کم کرنے ، فیلوشپ کی رقم بروقت دئے جانے، ریزرویشن پالیسی کو کمزور کرنابندکرنے اور دماغی صحت کی پریشانیوں کے لئے صلاح و مشورہ فراہم کرانے کی مانگ کررہے تھے۔

ایک سینئر پولیس عہدیدار نے بتایا کہ ایس ایف آئی کے تقریبا 15 ارکان ایم ایچ آر ڈی (وزارت تعلیم) کے سامنے جمع ہوئے تھے۔ انہوں نے کہاکہ ان میں سے کم از کم 7-8 کو حراست میں لیا گیا ہے اور انہیں مندر مارگ پولیس اسٹیشن لے جایا گیا ہے۔ آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (اے آئی ایس اے) اور جواہر لال نہرو اسٹوڈنٹس یونین (جے این یو ایس یو) کی طرف سے یونیورسٹی گرانٹ کمیشن(یو جی سی) کے چیئرمین کومیمورنڈم بھی پیش کیاگیا۔

طلبہ تنظیموں کا کہنا تھا کہ وسائل کی کمی اورغیر مساوی تقسیم نے مزدوروں، کسانوں اور پسماندہ طبقات کے طلبہ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔وہیںاس کا طلبہ پر زیادہ اثر پڑ رہا ہے۔آئیسا کے سکریٹری جنرل پرسنجیت کمار اور جے این یو اسٹوڈنٹس یونین کے جنرل سکریٹری ستیش چندر یادو نے خط پر دستخط کرکے تمام یونیورسٹیوں اور کالجوں کو کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button