
وی ایچ پی نے کانگریس،ٹی ایم سی اورعام آدمی پارٹی سمیت اپوزیشن کے ممبران پارلیمنٹ سے رابطہ کیا
نئی دہلی ا19دسمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی)کے مرکزی ورکنگ صدر آلوک کمار نے کہا ہے کہ قبائلی دوسرے مذاہب کو اپناتے ہیں، انہیں ریزرویشن اور آئین کے تحت فراہم کردہ دیگر سہولیات کا فائدہ نہیں ملنا چاہیے۔تقریباً دو سال کے بعد وی ایچ پی نے ہندوتوا اور قوم پرستی کے مسئلہ پر ممبران پارلیمنٹ سے ملاقات اور تبادلہ خیال شروع کیا ہے۔ اب تک بی جے پی، کانگریس، جے ڈی یو، شیوسینا، نیشنل کانفرنس، ترنمول کانگریس، سی پی آئی (ایم) اور اے اے پی سمیت 329 ایم پیز کے ساتھ بات چیت اور میٹنگیں ہو چکی ہیں۔
وی ایچ پی نے ممبران پارلیمنٹ سے ملاقات اور بات چیت کرتے ہوئے لالچ، خوف یا فریب کے ذریعے تبدیلی مذہب کے معاملے کو سامنے رکھا۔ اس کے علاوہ قبائلیوں کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ کہا گیاہے کہ وہ اپنی عبادت، روایت اور عقیدے کا طریقہ بدل لیتے ہیں لیکن آئین کے ذریعے قبائلیوں کو فراہم کردہ ریزرویشن اور دیگر سہولتیں لیتے رہتے ہیں۔
اس سلسلے میں وی ایچ پی نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے سخت قانون بنانے کا مطالبہ کیا اور ارکان پارلیمنٹ سے تجاویز بھی طلب کیں۔وی ایچ پی نے ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ بات چیت کے دوران یہ مسئلہ بھی اٹھایاہے کہ بنگلہ دیش اور پاکستان میں اقلیتوں پر ظلم و ستم کے خلاف دنیا کے دوسرے ممالک کی رائے کیسے حاصل کی جائے۔
ورکنگ پریذیڈنٹ آلوک کمار نے کہاہے کہ وی ایچ پی اور ممبران پارلیمنٹ کے درمیان بات چیت میں اتفاق رائے اور خیالات کے کئی مسائل سامنے آئے ہیں۔



