
عدالت ِ عالیہ کا یوپی حکومت سے سوال-یوپی سرکار بتائے کتنے اسکولس میں ایک بھی طالب علم نہیں ہے ؟
الٰہ آباد ، 19دسمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)الہ آباد ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت سے پوچھا ہے کہ ریاست میں ایسے کتنے پرائمری اور اپر پرائمری اسکول ہیں، جن میں ایک بھی طالب علم زیر تعلیم نہیں ہے ۔ عدالت نے اس سلسلے میں حکومت سے اسکولوں کی خستہ حالی اور تعلیمی معیار کے حوالے سے بھی معلومات طلب کی ہیں۔
یہ حکم چیف جسٹس راجیش بندل اور جسٹس پیوش اگروال کی ڈویژن بنچ نے نند لال کی مفادعامہ کی درخواست پر دیا ہے۔ ایڈوکیٹ مہندر کمار شکلا نے عرضی پر بحث کی۔عرضی میں الٰہ آباد (پریاگ راج‘ کے دارا گنج میں اپر پرائمری اور پرائمری اسکول سمیت کئی اسکولوں کا معاملہ اٹھایا گیا ہے۔
درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اس وقت پری سیکنڈری اسکول میں ایک بھی طالب علم نہیں ہے ، جبکہ اساتذہ کام کر رہے ہیں۔ اسی طرح دیگرا سکولوں میں تعلیم کا معیار انتہائی ناقص ہے۔
عرضی میں کہا گیا ہے کہ بلاک ایجوکیشن آفیسر کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کلاس 4 کی سطح کے کئی اساتذہ کو انگریزی بھی نہیں آتی۔ درست ہندی بھی لکھنے پر قادر نہیں ہیں ۔بہت سے اساتذہ نے کوئی تعلیمی کام سرے سے کیا ہی نہیں ہے۔ اسی طرح شہر کے ایک اسکول کے ٹیچر پر 5 کروڑ روپے کے غبن کا الزام ہے۔
ایک اور ٹیچر پر بھی 25 ہزار روپے کے غبن کا الزام ہے۔ کتابوں کی خریداری کے لیے جاری کیے گئے فنڈز کے غلط استعمال کا بھی الزام ہے۔ جب کہ کئی اسکول ایسے منظر عام پر آئے ہیں جن میں مڈ ڈے میل نہیں بنایا جاتا اور اگر بنایا بھی جاتا ہے تو انتہائی ناقص معیار کا بنایا جاتا ہے۔
درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اسکولوں کی خراب تعلیمی سطح اور خراب حالت کے باعث والدین اپنے بچوں کو اسکول نہیں بھیج رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے طلبہ کی تعداد صفر ہوگئی ہے۔
اس صورتحال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے عدالت نے ریاستی حکومت سے پوچھا ہے کہ پوری ریاست میں ایسے کتنے اسکول ہیں جن کے طلبہ کی تعداد صفر ہے یا ایک بھی طالب علم نہیں ہے۔ عدالت نے ریاستی حکومت سے کہا ہے کہ وہ ریاست بھر کے اسکولوں میں زیر تعلیم بچوں کی تعداد ریکارڈ مرتب کر ے ۔



