قمر حسین انصاری
ہندوستان میں عام طور پر ہارٹ اٹیک یا قلب پر حملہ 60 سال کی عمر سے زیادہ لوگوں میں ہوتا ہے، لیکن 1960ء سے یہ بیماری 40 سال سے کم عمر کے نوجوانوں میں بھی دیکھی جارہی ہے۔
حالیہ سروے میں یہ دیکھا گیا ہے کہ ہاسپٹل میں شریک ہارٹ اٹیک سے مریضوں میں تقریباً 30% مریض نوجوان ہیں جن کی عمر 40 سال سے کم ہے، اس کی کئی وجوہات ہیں جو نئی صدی کے معیار زندگی سے جڑے ہوئے ہیں ۔
آج کا نوجوان مال و دولت ، شان و شوکت، آرائش و زیبائش، حسن و جمال، مقابلہ بازی کی دوڑ میں لگا ہوا ہے اور اپنے آپ کو جوکھم میں ڈال رہا ہے جیسے
٭ بلاوقفہ مسلسل کام
٭ غیرمنظم معمولات زندگی
٭ کھانے پینے میں بداحتیاطی جیسے جنک فوڈ کا زیادہ استعمال
٭ بیٹھی ہوئی زندگی (Sedentary Life Style)
٭ ورزش کی کمی
٭ حد سے زیادہ خواہشات اور تفکرات (Stress)
انسان اشرف المخلوقات ہے جو خداوندہ قدوس کا ایک شاہکار ہے۔ چہ جائیکہ کہ اس کا ہر عضو (Organ) ایک شاہکار ہے۔ خود اللہ فرماتا ہے۔ سورۃ التین کی آیت نمبر 4 میں ’’بیشک ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا‘‘۔
انسان کے جسم میں دل کو مرکزی اہمیت حاصل ہے جو جسم کے درمیانی حصہ (Chest) میں ہڈیوں کے ایک پنجرے میں دو پھیپھڑوں کے بیچ ایک جھلی (Pericadium) میں محفوظ ہے، دل ایک پٹھوں سے بنا (Muscular Pump) پمپ ہے جو بلاوقفہ چوبیس گھنٹے مسلسل کام کرتا ہے اور جسم کے ہر حصے کو خون اور غذائیت پہونچاتا ہے، دل کا وزن اوسطاً پاؤ کیلو 254 گرام ہوتا ہے اور اس کا حجم ایک بند مٹھی (Closed Fist) کے برابر ہوتا ہے۔
حرکت قلب صحت مند انسانوں میں 60 سے 72 مرتبہ ایک منٹ میں ہوتی ہے اور تقریباً 5 سے 6 لیٹر صاف خون غذائیت اور آکسیجن کے ساتھ مختلف شریانوں (Circulatory System) سے جسم کے ہر حصے کو پہنچتا ہے جو دل میں پھیلے ہوئے (Network of Pacemakers) کے کنٹرول سے باقاعدہ رہتا ہے۔ دل اپنے آپ کو (Coronary Arteries) شریانوں سے خون اور غذائیت پہنچاتا ہے۔
اوپر بیان کردہ 1 سے 6 وجوہات سے ان شریانوں میں چکناہٹ جمع ہونا شروع ہوتی ہے جس سے یہ شریانیں تنگ (Narror) ہونے لگتی ہیں۔ دل کو خون رُک رُک کر پہنچتا ہے اور سینے میں درد ہوتا ہے جسے (Angina Pectoris) کہتے ہیں۔
اس کی آخری کیفیت ہارٹ اٹیک میں ظاہر ہوتی ہے جب دل کی شریانیں پوری طرح بند (Block) ہوجاتی ہیں جو وقت پر مناسب علاج نہ ملنے سے جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ دوسرے اہم اسباب جن سے ہارٹ اٹیک کے امکانات بڑھتے ہیں، وہ اس طرح ہیں۔
٭ سگریٹ نوشی اورشراب نوشی جو آج کل کے نوجوانوں میں عام ہیں۔
٭ ذیابیطس جو کنٹرول میں نہیں ہے۔
٭ جنک فوڈ سے خون میں کوالسٹرال کی زیادتی ہونا
٭ ہائی بلڈ پریشر
٭ موٹاپا
٭ 25 سے 30 فیصد لوگوں میں یہ مرض وراثت میں آتا ہے۔
٭ نیند کی کمی اور تفکرات (Stress)
ہماری زندگی اللہ کی طرف سے ایک امانت ہے اور ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کی حفاظت صحت مندانہ طور پر کریں، میری نوجوانوں سے اپیل ہے کہ مندرجہ ذیل تدبیریں اپنائیں۔
٭ سگریٹ نوشی فوراً بند کریں۔
٭ اپنی معیار زندگی میں اعتدال لائیں اپنی خواہشات اور نفس پر کنٹرول کریں۔
٭ جنک فوڈ بندکریں۔
٭ اوراپنے وزن کو کنٹرول میں رکھیں
٭ سبزی ترکاری اور مچھلی کا زیادہ استعمال کریں، بہ نسبت مرغن غذائیں جیسے بکرے اور مرغ کے گوشت اور بریانی وغیرہ سے پرہیز کریں ۔
٭ ہلکی پھلکی ورزش کرتے رہیں۔
٭ پانچ وقت کی نماز مسجد جاکر پڑھیں جو بذات خود ایک بہترین ورزش ہے۔
٭ دن میں کم از کم 7 یا 8 گھنٹے کی نیند پوری کریں۔اور آخر میں اللہ سے مسلسل دعا کرتے رہیں کہ وہ ہمارا دل صحت مند اور ان کی نعمتوں کا شکر گذار رہے تاکہ ہماری آئندہ زندگی ہمارے لئے اور ہماری فیملی کیلئے خوشگوار رہے۔
٭ ہر 3 مہینے میں دو ٹسٹ کرائیں ، HB A1C اور Lipid Profile اگر نارمل ہے تو ٹھیک ہے نہیں تو ڈاکٹر سے رجوع کریں اور علاج کروائیں، اپنی شوگر، بلڈ پریشر کو مناسب علاج سے کنٹرول میں رکھیں۔ جن نوجوانوں کو پہلے سے دل کی شریانوں کی بیماری (CAD) ہے، وہ اپنے ساتھ ایک ایمرجنسی کٹ رکھیں جس میں
(1) Asprin 325 Mg دو گولیاں
(2) Clopidogrel 75 Mg دو گولیاں
(3) Atorvas 40 Mg دو گولیاں
جوں ہی ہارٹ اٹیک کا شبہ ہو جیسے سینے میں شدید تکلیف، پسینے کے ساتھ سانس کا پھولنا ہو تو فوراً یہ کٹ کی گولیاں کھالیں تاکہ ہارٹ اٹیک (Heart Attack) کی شدت میں کمی ہو اور خون میں Cholestrol کی کمی ہو اور خون پتلا ہو اور پھر ہاسپٹل سے رجوع ہوں۔



