قومی خبریں

اومیکرون کا خوف ‘ ضرورت پر نائیٹ کرفیو، دفاتر میں عملہ کی تعداد کم کی جائے

ٹرانسپورٹ پر بھی تحدیدات عائد کی جائیں۔ وار رومس کو سرگرم کرنے ریاستوں کو مرکز کی ہدایت

تلنگانہ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) ساری دنیا میں دہشت پھیلانے والے کورونا کی نئی شکل اومیکرون پر مرکزی حکومت نے پھر ایک مرتبہ ریاستوں کو الرٹ جاری کرتے ہوئے تمام احتیاطی اقدامات کرنے اور ضرورت پڑنے پر نائیٹ کرفیو نافذ کرنے کے علاوہ آفسوں میں عملہ کی تعداد گھٹانے ، ہجوم کو ایک جگہ جمع ہونے سے روکنے کے علاوہ ٹرانسپورٹ پر بھی تحدیدات عائد کرنے پر زور دیا ہے۔

مرکزی محکمہ صحت کے سکریٹری راجیش بھوشن نے آج شام تمام ریاستوں اور مرکزی میر انتظام علاقوں کے حکام کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے بتایا کہ کورونا کی نئی شکل اومی کرون ڈیلٹا کے بہ نسبت تین گنا تیزی سے پھیل رہی ہے ، جس پر تمام ریاستوں کو سخت فیصلے کرنے کی ضرورت ہے ۔ اومی کرون پر قابو پانے کیلئے فوری وار رومس کو سرگرم کرنے پر زور دیا ۔

مرکزی ہیلت سکریٹری نے بتایا کہ ملک کے مختلف مقامات پر ڈیلٹا کے کیس کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگیا ہے ۔ ساتھ ہی اومی کرون کیس کی تعداد 200 سے تجاوز کرچکی ہے جس پر ریاستوں کو فوری ایکشن میں آنے کی ضرورت ہے ۔ تھوڑی سی بھی غفلت اور لاپرواہی بہت بڑا نقصان کرسکتی ہے ۔

اومی کرون کو کنٹرول کرنے کیلئے ریاستوں کو اضلاع سطح پر سخت نگرانی رکھنے کیلئے سخت فیصلے کرنے بھی تیار رہے۔ جن علاقوں میں کیسس بڑھ رہے ہیں وہاں کنٹونمنٹ زونس قائم کریں۔ ایک ہی مقام پر زیادہ لوگوں کو جمع ہونے کی اجازت نہ دی جائے ۔

دفاتر میں عملہ کی تعداد کو گھٹایا جائے ۔ ٹرانسپورٹ کی سرگرمیوں پر تحدیدات عائد کرنے کا مکتوب میں مشورہ دیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ ہاسپٹلس میں بیڈس، ایمبولنس ، آکسیجن کے آلہ جات ، ادویات اور طبی سہولتوں میں اضافہ کرنے کیلئے ایمرجنسی فنڈس کا استعمال کرلینے کے بھی احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ صد فیصد ٹیکہ اندازی کو یقینی بنانے کیلئے ضروری اقدامات کی جائے ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button