سوانح حیات فلمی و اسپوریٹس

فرسٹ کلاس کرکٹ میں بہترین کارکردگی مگر ٹیسٹ میچ میں ناکام، تیز گیند باز رشید پٹیل

سلام بن عثمان

کرکٹ کی تاریخ میں کئی بہترین گیند بازوں اور بلے بازوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں اپنی بہترین کارکردگی کی وجہ سے انھیں ٹیسٹ میچ کھیلنے کا موقع ملا۔ ان میں سے کئی کھلاڑیوں نے اپنی عمدہ اور بہترین کارکردگی سے ٹیم انڈیا میں جگہ بنائی اور شہرت بھی حاصل کی۔  مگر کئی کھلاڑیوں کو چند ٹیسٹ میچوں کے بعد ٹیم انڈیا میں جگہ نہیں مل سکی۔

جس کی خاص وجہ ناقص کارکردگی رہی یا پھر کسی سیاست کی وجہ سے انھیں ٹیم انڈیا میں دوبارہ موقع نہیں مل سکا۔ کچھ کو تو ایک ٹیسٹ میچ میں خراب کارکردگی کی وجہ سے آئندہ سیریز میں موقع نہیں ملا۔ اس کے بعد ان کھلاڑیوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں بہترین کارکردگی سے کرکٹ بورڈ کو اپنی طرف متوجہ کرتے رہے مگر دوبارہ انھیں ٹیم انڈیا میں شامل نہیں کیا گیا۔

ان میں سے دائیں ہاتھ کے تیز گیند باز جنھوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا مگر ٹیسٹ میچ میں وہ کمال نہیں کرسکے۔ وہ تھے دائیں ہاتھ کے بہترین تیز گیند باز رشید پٹیل۔ 

یکم جون 1964 کو گجرات کے شہر کنتھا میں رشید غلام احمد پٹیل پیدا ہوئے۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں بہترین دائیں ہاتھ کے تیز گیند باز تھے۔ رشید پٹیل نے فرسٹ کلاس کرکٹ 1986 سے 1996 تک بطور تیز گیند باز بڑودہ کے لیے کھیلا۔

89-1988 میں نیوزی لینڈ ٹیم ہندوستان کے دورے پر آئی ہوئی تھی اس وقت ٹیم انڈیا کو دائیں ہاتھ کے تیز گیند باز درکار تھے۔ اس وقت رشید پٹیل کا شمار  فرسٹ کلاس کرکٹ میں بہترین تیز گیندبازوں میں تھا۔ رشید پٹیل کو نیوزی لینڈ کے خلاف ممبئی کے وانکھیڈے اسٹیڈیم میں کھیلنے کا موقع ملا۔

رشید پٹیل نے اپنے پہلے ٹیسٹ میچ کی دونوں اننگز میں 51 رنز دینے کے بعد ایک بھی وکٹ حاصل نہیں کر سکے۔  انھیں یک روزہ میچ میں بھی موقع دیا گیا مگر یہاں بھی اپنے دس اوورز میں 58 رنز دئیے اور وکٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

رشید پٹیل کی تیز گیند بازی ٹیم انڈیا کے کام نہیں آسکی۔ ناقص کارکردگی کی وجہ سے انھیں باقی میچوں میں موقع نہیں دیا گیا۔ٹیسٹ میچ میں ناکامی کے بعد 1990 میں جمشید پور کی دلیپ ٹرافی کے فائنل میچ ویسٹ زون کے مقابل نارتھ زون سے تھا۔

اس فائنل میچ کے دوران دونوں ٹیموں کے درمیان سرد جنگ چل رہی تھی۔ اسی دوران رشید پٹیل اور رمن لامبا کے درمیان میدان پر جھڑپ ہوگئی۔  رشید پٹیل اسٹمپ اور رمن لامبا بلہ لیے دونوں میں زبانی جھگڑے کے درمیان اسٹمپ اور بلہ اٹھا لیے۔

مگر کچھ ہی دیر میں دونوں کو خاموش کیا گیا۔ اس کے بعد کرکٹ بورڈ نے دونوں کو طلب کیا۔ مادھو راؤ سندھیا کے ساتھ مشتمل تین رکنی کمیٹی میں منصور علی خاں پٹوڈی اور راج سنگھ ڈونگر پور تھے۔ رشید پٹیل پر 13 ماہ کی پابندی عائد کی گئی اور رمن لامبا پر دس ماہ کی پابندی لگی۔

پابندی ختم ہونے کے بعد رشید پٹیل نے دوبارہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں واپسی کی۔ مگر رشید پٹیل کے کھیل میں وہ بات نہیں تھی جو اس کے پہلے تھی۔رشید پٹیل نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا "ٹیم انڈیا کے لیے کھیلنا ایک بہترین تجربہ تھا۔ مجھے بین الاقوامی سطح پر کامیابی نہیں ملی کیونکہ میرے پاس تجربہ بہت کم تھا۔

میں نے بہت زیادہ میچ نہیں کھیلے تھے۔ مجھے نیوزی لینڈ کے خلاف تیز گیند بازی میں کپل دیو کے ساتھ کھیلنے کا موقع ملا۔ مجھ سے 14 اوورز کرائے گئے۔ 51 رنز دینے کے بعد مجھے وکٹ نہیں ملا۔ اس وقت ٹیم انڈیا میں تجربہ کار کھلاڑی اور بین الاقوامی سطح کے نامور کھلاڑی موجود تھے جن میں کپل دیو، دلیپ وینگسرکر، کرن مورے، محمد اظہرالدین۔ ٹیم انڈیا اس وقت کرکٹ میں ایک اعلیٰ ٹیم تھی۔ میں نے ہمیشہ وانکھیڈے اسٹیڈیم میں اچھی گیند بازی کی مگر ٹیسٹ میچ میں مجھے کامیابی نہیں مل سکی۔

جس کی وجہ سے ٹیسٹ میچ کھیلنے کا موقع نہیں ملا۔ جب کبھی ممبئی کے وانکھیڈے اسٹیڈیم میں میچ ہوتا ہے اس وقت رشید پٹیل میچ دیکھنے ضرور پہنچتے ہیں۔

تیز گیند باز رشید پٹیل,گیند باز,کرکٹ,ٹیسٹ میچ میں ناکام،,left-arm-fast-bowler-rasheed-patel

متعلقہ خبریں

Back to top button