مومن فیاض احمد
علم والوں کی ہر دور میں عزت رہی ہے۔مذہب اسلام میں علم حاصل کرنے کی بڑی ہی فضیلیت ہے۔ ایک حدیث کے مطابق جو شخص علم کی راہ میں نکلتا ہے فرشتے اس کی راہ میں اپنے پروں کو بچھا دیتے ہیں۔ ہر والدین و سرپرست چاہتے ہیں کہ ان کی اولاد تعلیمی میدان میں انقلاب برپا کرے۔
ایسا کر بھی سکتے ہیں لیکن اس کے لیے سنجیدگی کے ساتھ منصوبہ بندی کرنا پڑے گی اور بہت ساری قربانیاں دینی پڑی گے۔ اسی طرح ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ پڑھ لکھ ایک اچھا انسان بنے اور اپنے سماج اور قوم کی خدمت کرسکے وہیں بہت سے لوگوں کا خواب ہوتا ہے کہ سول سروس کے امتحان میں کامیاب ہوں اور ایک اچھا آئی اے ایس آفیسر بنے۔
کیا آپ بھی آئی ایس آفیسر بننا چاہتے ہیں ؟ کیاآپ کا بھی خواب ہے کہ ملک کے لیے بطور آئی اے ایس اپنی خدمات دیں؟
یہ ایک انتہائی اہم اور بڑی ذمہ داری ہے ۔اس کے لیے صحیح شخصیت کا انتخاب کرنا بھی بہت ضروری ہے۔آئی اے ایس کا امتحان کچھ اس طرح سے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اس کے ذریعے امیدوار کی ذہانت کو سامنے لایا جائے اور ایسے ہی ذہین امیدوار کو ا س کے لیے منتخب کیا جائے۔ اس امتحان میں ہر سال لاکھوں طلبہ اس امتحان میں شریک ہوتے ہیں۔
جس میں سے صرف ہزار طلبہ کو منتخب کیا جاتا ہے۔یہ ہندوستا ن کی سب سے بڑی سرکاری نوکر ی ہے جو انسانی زندگی کو کہیں نہ کہیں ضرور متاثر کرتی ہے۔شہر ہویا ضلع،ریاستی حکومت ہو یا مرکزی حکومت کہیں نہ کہیں اہم عہدوں پر آئی اے ایس آفیسر ہی ہوتا ہے۔
نوٹیفیکیشن:۔ ہر سال یونین پبلک کمیشن(UPSC) کی جانب سے فروری کے مہینے میں اس کا نوٹیفیکشن ظاہر کیا جاتا ہے۔ اس میں آئی اے ایس کے ساتھ ساتھ تقریباً ۲۴؍سینٹرل سروسیس بھی ظاہر کی جاتی ہے۔
IAS:(Indian Administrative Services)
IPS:(Indian Police Services)
IFoS: (Indian Forest Services)
کو آل انڈیا سروسیس کہا جاتا ہے۔بقیہ سینٹر سروسیس میں آئی ہے۔ اس میں خاص طور پر
IFS: (Indian Foreign Services) ہوتی ہے۔
شرائط: ہندوستان کا شہری ہونا لازمی ہے۔ اس کے ساتھ ہی تبت کے رفیوجی،نیپال اور بھوٹان کے لوگ بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ لیکن آئی اے ایس اور آئی پی ایس بننے کے لیے امیدوار کو ہندوستانی ہونا لازمی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ ہندوستان کے وہ لوگ جو دیگر ممالک میں رہتے ہیں وہ بھی اس امتحان میں شریک ہو سکتے ہیں۔
تعلیمی لیاقت:۔ کسی بھی منظور شدہ یونیورسٹی سے گریجویشن ہونا لازمی ہے۔ گریجویشن کے فائنل ایئر کے طلبہ بھی شریک ہو سکتے ہیں۔ا س کی خاص بات یہ ہوتی ہے کہ کم از کم مارکس کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔
No Minimum percentage require ساتھ ہی ساتھ کوئی مضامین بھی اس میں لازمی نہیں ہے یعنی کسی بھی مضامین کے گریجویٹ اس امتحان میں شریک ہو سکتے ہیں۔
عمر کی حدیں(Age Limits) :۔ اس امتحان کے لیے امیدوار کی عمر ۲۱؍(اکیس سال) ہونا لازمی ہے۔الگ الگ زمروں کے لیے عمر کی حدیں مختلف ہیں۔
عام امیدوار (General Categoty) کے لیے: ۳۲( بتیس سال)،OBC کے لیے: ۳۵؍(پینتیس سال)، ایس سی ؍ایس ٹی(SC/ST ): ۳۷(سینتیس سال)، معذروں کے لیے تو اور بھی زیادہ ہے۔عمر کی حدیں یکم اگست سے طے کی جاتی ہے۔
فارم بھرنے سے پہلے کچھ اہم معلومات: طلبہ کو فارم بھرتے وقت خود کا نام، والدین کا نام لازمی ہے۔سول سروس کے پریلم امتحان کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے پورے ملک کے ۷۲(بہتر) مراکز پر ایک ساتھ یہ امتحان لیا جاتا ہے۔فارم بھرنے کے لیے ایک ماہ کا وقت درکار رہتا ہے۔یہ آن لائن رہتا ہے ۔
فارم بھرتے وقت متبادل مضامین(Optional Subjects) بتانا ہوتا ہے۔اس کے نوٹیفیکشن میں ۲۶ متبادل مضامین ہیں جن میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا ہے اور اپنے امتحان کا میڈیم بھی بتانا ہوتا ہے۔انگریزی یا ہندی کسی بھی ایک زبان میں امتحان دے سکتے ہیں۔
فارم بھرتے وقت اپنے پسند کی سروس لکھنا ہوتا ہے۔ اس کو Service Preference کہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اپنے پسند کی ریاست بھی ترتیب وار بتانا ہوتی ہے کہ آپ کہاں اور کس ریاست میں کام کرنا پسند کریں گے۔
Attempts : اس امتحان میں ہر کٹیگری کے لیے الگ الگ attempts ہیں۔
(۱) جنرل کٹیگری کے لیے ۶(چھ)
Attempt ( ۲)او۔بی ۔سی کے لیے ۹(ن)
Attempt( ۳) ایس سی؍ایس ٹی کے لیے Attempt کی حد نہیں ہے۔
امتحان کا پلان: یو پی ایس سی اس امتحان کو دو مرحلوں میں لیتی ہے۔پہلا مرحلہ ابتدائی امتحان(Prelim Exam ) ،دوسرا مرحلہ مین امتحان ، مین امتحان کے دوحصے ہوتے ہیں
۱) تحریری امتحان ۲) انٹرویو
پہلا مرحلہ ابتدائی امتحان(Prelim Exam ) : پہلے مرحلے ابتدائی امتحان(Prelim Exam ) کہتے ہیں۔ ان کے مارکس فائنل امتحان میں نہیں ملاتے ہیں۔یہ امتحان کوالیفائی کرنا لازمی ہے۔
مین امتحان : مین امتحان کے دونوں حصوں کے مارکس کی بنیاد پر فائنل میرٹ لسٹ تیار کی جاتی ہے۔
ابتدائی امتحان (Prelim Exam) کا نصاب:سول سروس کے ابتدائی امتحان(Prelim Exam ) میں دو پرچے ہوتے ہیں۔
Paper I General Studies یہ سارے ٹاپک کو کور کرتا ہے۔جیسے تاریخ، جغرافیہ،کرنٹ ایونٹ، جنرل سائنس،ماحولیات، تیکنالوجی، انڈین پالیٹی اینڈ گورنس وغیرہ جبکہ پرجہ ۲ میں ایس ایس سی بینکنگ امتحان قسم کے سوالات ہوتے ہیں۔جیسے Logical Resoning, Comprehensive, Basic Numeracy وغیرہ ہوتے ہیں۔
سول سروس ابتدائی امتحان(Prelim Exam ) :یہ سول سروس کا پہلا پڑائو ہے اسے جون کے مہینے میں ہمارے ملک کے ۷۲ شہروں کے مراکز میں ایک ساتھ لیا جاتا ہے۔ اس کے لیے لاکھوں کو فارم بھرتے ہیں۔یہ امتحان دو پرچوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ پہلا پرچہ جو کہ عام معلومات پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کے لیے ۱۰۰ (سو ) سوالات ہوتے ہیں اور دو گھنٹے کا وقت ہوتا ہے۔ ہر سوال کے لیے دو مارکس ہوتے ہیں۔
دوسرا پرچہ ایپٹی ٹیوڈ پر مبنی ہوتا ہے ۔ اس میں ۸۰(اسی) سوالات ہوتے ہیں اور دو گھنٹے کا وقت ہوتا ہے۔ اس امتحان میں ون تھرڈ (1/3)مارکس منفی(نیگیٹو) ہوتے ہیں۔یہ اکلوتا امتحان ہوتا ہے جس میں سب سے زیادہ مقابلہ ہوتا ہے۔ کیونکہ لاکھوں لوگوں میں سے صرف پندرہ ہزار کے قریب لوگوں کو منتخب کیا جاتا ہے۔ ابتدائی امتحان کو کوالیفائی کرنا لازمی ہوتا ہے۔ اس کے بعد ہی سول سرو س کے مین امتحان میں شریک ہو سکتے ہیں۔
سول سروس مین امتحان:۔ابتدائی امتحان کا نتیجہ جولائی کے آخری میں ظاہر کردیا جاتا ہے۔ جو امیدوار اس کو کامیاب کر لیتے ہیں انہیں سول سروس مین امتحان کے لیے دوبارہ آن لائن فارم بھرنا ہوتا ہے جس کے لیے انہیں پندرہ(۱۵) دنوں کا وقت ملتا ہے۔ اسے ڈی ۔جی ۔ایل اپلیکیشن فارم بھی کہتے ہیں۔
آئی اے ایس انٹریو میں اس کا کرداربہت اہم ہوتا ہے۔ مین امتحان کے سوالات سبجیکیٹیو ہوتے ہیںان کو حل کرنے کے لیے طلبہ کو تین گھنٹے کا وقت دیا جا تاہے۔ سول سروس کے مین امتحان میں دو طرح کے پرچے ہوتے ہیں ایک تو وہ پرچہ جو تمام امیدواروں کے لیے یکساں ہوتا ہے،اور دوسرا متبادل مضامین کے پرچے ہوتے ہیں۔جو کہ ہر ایک مضامین کے لیے الگ الگ ہوتے ہیں۔
امیدوار متبادل مضمون منتخب کر کے اس کا پرچہ دیتے ہیں۔ مین امتحان میں نو(۹) پرچے ہوتے ہیں اور کل مارکس 1750 ہوتے ہیں ۔ان نو پرچوں میں سے سات (۷) پرچوں پر اپنی توجہ زیادہ مرکوز کرنا ہوتا ہے ۔کیونکہ سات پرچوں میں سے ہی میرٹ لسٹ بنائی جاتی ہے۔انگلشں اور عام زبان کا پرچہ صرف پاس کرنا ہوتا ہے اور اس کے مارکس نہیں جوڑتے ہیں۔خاص بات یہ ہے کہ جس میڈیم سے آپ نے فارم بھرا ہے اسی میڈیم سے آپ امتحان دے سکتے ہیں۔
دوسرے میڈیم سے پرچہ لکھنے پر آپ کا پرچہ چیک نہیں ہوگا۔ ایسی ہدایت ہر پرچے پر لکھی ہوتی ہے۔ انکلشں اور کوئی بھی ہندوستانی زبان میں پاس ہونے کے لیے صرف پچیس فی صد مارکس لانے ہوتے ہیں۔ ہندوستانی زبان کا لازمی پرچہ ارونا چل پردیش، منی پور، میکھالیہ، میزورم ، ناگا لینڈ، سکم، کے طلبہ کے لیے لازمی نہیں ہوتا ہے۔ یہ دونوں پرچے تین سو مارکس کے ہوتے ہیں۔بقیہ تمام پرچے 250مارکس کے ہوتے ہیں۔ان نو پرچوں کا ٹوٹل مارکس 1750ہوتا ہے۔
نصاب (Syllabus) : سول سروس کا نصاب Civil services Essey Paper اس ٹاپک پر تین گھنٹے میں دو مضمون لکھنا ہوتا ہے ۔ہر ایک مضمون 125 مارکس کا ہوتا ہے۔ اس میں پالیٹکس، سوسائٹی، ٹیکنالوجی،فلاسفی جیسے عنوان دیے جاتے ہیں۔
جنرل اسٹیذیز پیپر ۱: اس میں Indian History, Culture,World Geography & Society جیسے ٹاپک کو کور کیا جاتا ہے۔
جنرل اسٹیذیز پیپر۲: اس میںGovernance Constitution Polity,Social Justice & International Relations سے سوالات آتے ہیں۔
جنرل اسٹیذیز پیپر ۳: اس میںTechnology, Economic Development,Biodiversity, Environment Security & Diasaster Management میں سے سوالات آتے ہیں۔
جنرل اسٹیذیز پیپر۴: اس میں Ethics,Integrtiy,Aptitue پر مبنی ہوتا ہے۔
عام زبان میں کہا جائے تو آپ کیا سوچتے ہیں؟ آپ کی سوچ کیا ہے؟
کسی حادثے کو لے کر آپ کا ردعمل کیا ہوتا ہے؟ تمام جنرل اسٹیڈیز کے پرچوں میں بیس(۲۰) سوالات ہوتے ہیں۔تین گھنٹوں میں پرچہ حل کرنا ہوتا ہے۔ ۱۰ مارکس کے لیے کم از کم ۱۵۰ الفاظ اور ۱۵ مارکس کے لیے ۲۵۰ الفاظ کی حد دی جاتی ہے۔ لیکن Ethics کے پرچے میں کیس اسٹڈی آتی ہے۔
اس لیے اس پرچے میں صرف ۱۲ سوالات ہی پوچھے جاتے ہیں۔پرچے کا اسٹراکچر (خاکہ) فکس نہیں ہوتا ہے۔ یہ کسی بھی سال بدل سکتا ہے۔متبادل مضمون میں آٹھ سوالات آتے ہیں جن کا جواب بھی تین گھنٹے میں دینا ہوتا ہے۔
سول سروس کے مین امتحان میں پندرہ ہزار طلبہ میں سے صرف ڈھائی ہزار طلبہ ہی انٹرویو کے لیے اہل قرار دیے جاتے ہیں۔
انٹرویو یا پرسنالٹی ٹیسٹ: مین امتحان کا رزلٹ مارچ میں ہی ظاہر کر دیا جا تا ہے۔ انٹریو سول سروس کا دوسرا اہم حصہ ہوتا ہے۔ اسے پرسنالٹی ٹیسٹ بھی کہتے ہیں۔ یہ انٹرویو ۲۷۵ مارکس کا ہوتا ہے۔ انٹرویو میں پوچھے جانے والے سوالات پہلے سے طے شدہ نہیں ہوتے زیادہ تر سوالات درخواست فارم میں درج شدہ معلومات کی بنا پر ہی پوچھے جاتے ہیں ۔
اس لیے اس بات کا بہت خاص دھیان رکھیں کہ آپ اپنی جو بھی تفصیل درخواست فارم میں بھر رہیں ہیں وہ پوری سچائی اور حقیقت پر مبنی ہو۔انٹریو کے لیے امیدوار کو دلی کے دھولپور بلڈنگ میں آنا ہوتا ہے۔
یہاں امیدوار کے سبھی اوریجنل دستاویزات کی جانچ ہوتی ہے۔ اس کے لیے انہیں ایک کامن ہال میں بٹھا دیا جاتا ہے۔یو پی ایس سی کے ممبرس کی صدارت میں ایک انٹریو پینل بنا یا جاتا ہے۔ جو کہ امیدواار کا انٹریو لیتے ہیں۔ انٹریو پینل کے لیے ملک کے الگ الگ علاقوں سے لوگوں کو بلایا جاتا ہے ۔
آئی اے ایس انٹریو میں امیدوار کی خود اعتمادی، ایٹی ٹیوڈ، مسائل کو حل کرنے کی اسکیل وغیرہ کی جانچ کی جاتی ہے۔یہ انٹرویو تقریباً بیس دنوں تک چلتا ہے ۔انٹرویو ختم ہونے کے دس دنوں کے بعد فائنل رزلٹ آجاتا ہے۔فائنل میرٹ لسٹ انٹرویو،اور سول سروس مین امتحان کے تحریری امتحان مل کر رزلٹ بنتا ہے ۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ 2050 مارکس میں سے فائنل میرٹ لسٹ بنتی ہے۔ فائنل سلیکیشن کے لیے انہیں منسٹری سطح پر بھیجا جاتا ہے جس کی بنیاد پر یہ سرو س مہیا کی جاتی ہے۔ ۱ سے ۱۰۰ نمبر حاصل کرنے والے کو آئی اے ایس سروس مل جاتی ہے۔پھر اسی ترتیب سے آگے کی سروس تفویض کی جاتی ہے۔



