سرورقگوشہ خواتین و اطفال

مردوں کو قابو میں رکھنے کے رہنما اصول– شمائلہ حسین

کامیاب شادی شدہ زندگی کے 14 راز – شمائلہ حسین

میں نے کامیاب زندگی کے چند راز کسی نہ کسی طرح جان لیے، پھر سوچا ان چیزوں کو پبلک کر دوں، کیا پتہ کب کس کا بھلا ہوجائے۔

سنا ہے کہ مرد کے دل کا راستہ اس کے معدے سے گزرتا ہے۔ اتنی نفسیاتی، جسمانی اور شخصی الجھنوں کا حل صرف پیٹ بھر دینے تک محدود کر کے کسی سیانی ترین عورت نے اپنا راستہ آسان کیا ہو گا۔ بعد میں باقی معصوم خواتین نے اس بات کو پلے سے باندھ لیا اور مرغن غذائیں کھلا کھلا کے گھر کے مردوں کی توند بڑھا دی۔

اگر یقین نہ آئے تو خود دیکھ لیجیے، شادی کے چھ ماہ بعد اکثر میاں بیوی دونوں ہی باوزن شکم لیے پھرتے ہیں۔ عورت تو حاملہ ہوجاتی ہے، مگر میرا سوال ہے: میاں کے پیٹ پر چربی بڑھنے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟

اب آپ چاہیں دھیمے سروں میں کہیں یا با آواز بلند، مگر مرد کے دل کا راستہ جہاں سے ہمارے ہاں کی عورتوں نے تاڑ رکھا ہے، اس کا نتیجہ ایسے بڑھے ہوئے پیٹ کے ساتھ ہی سامنے آتا ہے۔ کوئی بڑی بوڑھی سیدھا راستہ کبھی نہیں بتاتی، آخر استاد اپنے سارے گر تو شاگرد کو نہیں دیتا۔


💍 میں نے شادی شدہ زندگی کے چند کامیاب اصول دریافت کیے

میں نے بہت سوچا، لوگوں سے بات کی، روزمرہ زندگی کو چھانا اور شادی شدہ کامیاب زندگیوں کے چند راز دریافت کیے۔ پھر سوچا، کیوں نہ ان باتوں کو پبلک کر دیا جائے، شاید کسی کا بھلا ہو جائے۔


1️⃣ بھولے پن کی اداکاری

اگر آپ کی شادی قسمت سے ہو گئی ہے تو اپنے شوہر کے سامنے ایسے بھولے پن کی اداکاری کریں جیسے آپ ابھی بچوں والے جھولے سے اتری ہوں۔
ہر بات پر حیران آنکھیں کھول کر پوچھیں: “اچھا یہ کہاں ہوتا ہے؟ مجھے تو کچھ پتہ نہیں!”
یہ جملے آپ پر بہت سی ذمہ داریاں آنے سے روک دیتے ہیں۔


2️⃣ شرمانے کی اداکاری

جب بھی میاں قریب آئیں، ضرورت سے زیادہ شرمانے اور گھبرانے کی اداکاری کریں۔
“کیا کر رہے ہیں، کوئی دیکھ لے گا!”
ایسے جملے کہنے سے میاں کے سینے میں غیرت دو چند ہو جاتی ہے۔


3️⃣ ساس کا مقابلہ مت کریں

کچن میں جا کر اپنی ساس کا مقابلہ کرنے کی کوشش مت کریں۔
میاں کو ماں کے ہاتھ کا کھانا ہمیشہ جنتی لگتا ہے۔
ہمیشہ یہ کہتی جائیں: “امی جیسا کھانا میں کہاں بنا سکتی ہوں! امی، آپ ہی روز پکایا کریں نا!”


4️⃣ شاپنگ کے باوجود شکوہ

چاہے میاں جتنی مرضی شاپنگ اور آؤٹنگ کروائیں، ہمیشہ سہیلیوں اور بہنوں کے شوہر کا ذکر کر کے سیاپا ضرور کریں۔
چاہے ان کے پاس صرف دو سویٹر اور تین شرٹس ہوں، اپنی وارڈروب کی کمی کا شکوہ کرتے رہیں۔


5️⃣ اپنی کمائی پر قابض رہیں

اگر آپ بھی کماتی ہیں تو میاں کو یاد دلاتی رہیں کہ عورتوں کی کمائی پر مردوں کا کوئی حق نہیں۔
شوہر پیسہ کمانے کی مشین ہے، اسے کبھی احساس نہ ہونے دیں کہ آپ مالی طور پر مضبوط ہیں۔


6️⃣ بچوں کے خرچ کا دباؤ

بچوں کے خرچوں کا رونا روتی رہیں تاکہ شوہر دوسری عورت کی طرف دیکھنے کی فرصت نہ پائے۔
احسان جتانا ازدواجی طاقت کا بہترین ہتھیار ہے۔


7️⃣ رائے دینے میں نرمی دکھائیں

اپنی رائے شوہر پر مسلط مت کریں۔
سادگی سے بات پہنچائیں اور آخر میں کہہ دیں:
“باقی آپ زیادہ سمجھدار ہیں، مجھے ایسی چالاکیاں کہاں آتی ہیں!”


8️⃣ پاکباز امیج برقرار رکھیں

آزاد خیال عورتوں کے لچھن گنواتی رہیں تاکہ میاں کو آپ کی شرافت پر یقین رہے۔
میرا جسم میری مرضی جیسے نعروں کو برا بھلا کہیں، فیمینزم پر تنقید کریں — پھر چاہیں تو مہینوں تک میاں سے فاصلہ رکھیں، کوئی فرق نہیں پڑے گا۔


9️⃣ موبائل میں احتیاط

میاں کے سامنے کبھی موبائل استعمال نہ کریں۔
اور ان کے گھر آنے سے پہلے ساری چیٹ صاف کر دیں۔


🔟 عمر کا احساس دلاتی رہیں

اگر آپ عمر میں کم ہیں تو میاں کو بوڑھا، گنجا اور موٹا ہونے کا احساس دلاتی رہیں۔
یہ احساس ازدواجی کنٹرول کا نرم مگر طاقتور حربہ ہے۔


11️⃣ حسین سہیلیوں سے دوری

اپنی زیادہ حسین، ذہین یا جوان سہیلی کو شوہر سے مت ملوائیں۔
ورنہ آپ کو بلاوجہ اپ ٹو ڈیٹ رہنے کی دوڑ میں لگنا پڑے گا۔


12️⃣ روایات کا سہارا

اخلاقی اقدار اور خاندانی روایات کو تھامے رکھیں تاکہ کسی بھی جھگڑے کی صورت میں خاندان آپ کا ساتھ دے۔


13️⃣ بچوں سے اپنی پوزیشن مضبوط کریں

بچوں کو اپنے کیمپ کا حصہ بنائیں۔ جیسے جیسے وہ بڑے ہوں گے، میاں اپنی بیٹھک تک محدود ہوتے جائیں گے۔


14️⃣ ہمیشہ تھوڑا شکوہ رکھیں

میاں کچھ بھی کرے، آپ ہمیشہ کہیں: “بس اتنا ہی؟”
یہ جملہ ازدواجی اثر قائم رکھنے کا آزمودہ فارمولا ہے۔


💫 اختتامی حقیقت

یہ سب باتیں بظاہر مزاح ہیں مگر حقیقت یہی ہے کہ ہمارے سسٹم میں ایک نابالغ ذہن کی عورت کو وہ آسانیاں حاصل ہیں جو ایک باشعور اور خودمختار عورت کو نصیب نہیں ہوتیں۔
شادی شدہ زندگی میں اگر یہ چالاکیاں نہ اپنائی جائیں تو اکثر عورتیں مشکل میں پڑ جاتی ہیں۔

لیکن سب سے اہم راز یہ ہے کہ مرد کو جذباتی طور پر بلیک میل کرنا مشکل نہیں۔
آپ کے آنسو، مظلومیت اور "عورت کارڈ” بڑے سے بڑے سورما کو ہلا سکتے ہیں —
بس شرط یہ ہے کہ آپ ظلم نہ ہوتے ہوئے بھی زندگی کے اسٹیج پر اداکاری کے فن سے مکمل طور پر واقف ہوں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button