بہترین وکٹ کیپر اور بلے باز ، اپنے پہلے ٹیسٹ میچ میں زخمی ہونے کے باوجود میدان میں واپسی کی… سید صبا کریم
سلام بن عثمان،کرلاممبئی
14 نومبر 1967 کو بہار کے پٹنہ شہر میں پیدا ہوئے۔ پٹنہ کے سینٹ زیوئیرس ہائی اسکول سے تعلیم حاصل کی۔بچپن ہی سے کرکٹ میں دلچسپی تھی۔ اسکول اور کالج کے زمانے سے کرکٹ کھیلا۔ اور اپنے شوق پر پوری توجہ دی۔ اور تعلیم کے فوراً بعد 15 سال کی عمر میں بہار سے اپنے فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز کیا۔
ساتھ ہی انھوں نے ٹیسکو کے کارپوریٹ کمیونیکیشن ڈویژن میں کام کیا۔ 1991 میں رنجی ٹرافی میں اڑیسہ کے خلاف اپنے کیریئر کے بہت بڑے اسکور 234 رنز سے کیا۔ سید صبا کریم کا پہلی مرتبہ انتخاب97-1996 میں ہوا۔ جنوبی افریقہ میں اسٹینڈرڈ بینک سیریز میں نین مونگیا کے متبادل کے طور پر انتخاب ہوا۔
صبا کریم نے بہترین وکٹ کیپر کے علاوہ بہترین بلے بازی کا مظاہرہ کیا۔ بلے بازی میں 55 اور 38 رنز کی بہترین اننگ کھیلی۔ ان کی بہترین کارکردگی سے انھیں ایسا لگا ٹیم انڈیا میں اب جلد موقع ملے گا۔ مگر صبا کریم کو سات سال کے طویل عرصہ کے بعد ٹیم انڈیا میں شامل کیا گیا۔
جب کہ ان سے پہلے کرن مورے اور رابن سنگھ ان دونوں کو طالب علمی کے دوران ہی ٹیسٹ میچ میں شامل کر لیا گیا تھا۔سید صبا کریم نے 1996 میں جنوبی افریقہ کے خلاف اپنے پہلے یک روزہ بین الاقوامی میچ میں 48 گیندوں پر 55 بیش قیمتی رنز بنائے۔ اور یک روزہ میچ میں اپنی شناخت بنائی۔
اس کے بعد اپنے دوسرے ہی میچ میں 46 گیندوں میں 38 رنز بنائے اور میچ برابری پر ختم ہوا۔ اس وقت ایک لمحہ ایسا نظر آرہا تھا کی ٹیم انڈیا کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مگر صبا کریم کی بلے بازی نے ایک ایسے موڑ پر کھڑا کردیا کہ ٹیم انڈیا کی فتح یقینی نظر آنے لگی تھی۔ اس کے باوجود صبا کریم یک روزہ میچوں میں کبھی شامل کر لیے جاتے تو کبھی انھیں آرام کرایا جاتا تھا۔
اس وقت نین مونگیا اور دھونی کے علاوہ اپنے ہم عصروں کے ساتھ گروپ بندی کے شکار ہوئے۔ سید صبا کریم کو ٹیسٹ میچ میں موقع ملا، اپنے پہلے ٹیسٹ میچ میں وکٹ کے پیچھے کیچ لینے کے دوران گیند آنکھ پر لگی۔ آنکھ پر چوٹ لگنے کے باوجود بھی میدان میں واپسی کی اور 15 رنز بھی بنائے اور وکٹ کے پیچھے ایک کیچ بھی پکڑا۔
مگر بدقسمتی سے آنکھ کی سرجری کے باوجود بھی ٹھیک نہیں ہو سکے۔
جب انھیں یہ معلوم ہوا کہ آنکھ پر پہنچنے والا نقصان مستقل ہے تو صبا کریم نے ایک سال بعد کرکٹ کو خیر باد کہا۔ صباکریم اس وقت 33 سال کے تھے مگر انھوں نے 18 سال کی طویل فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی جس کی وجہ سے ایک بہترین تجربہ ان کو حاصل تھا۔
جب صبا کریم کو ٹیم انڈیا میں شامل کیا گیا تو کئی سوال اٹھے، مگر دلیل کے طور پر فرسٹ کلاس کرکٹ میں سب سے زیادہ مسلسل رنز بنانے والوں میں سے ایک تھے۔ سید صبا کریم نے 95-1994 تک بہار کے لیے کھیلے اور اس کے بعد بنگال چلے گئے تاکہ وہ اپنی شناخت بنا سکیں۔
سید صبا کریم نے 10 نومبر 2000 کو بنگلہ دیش کے خلاف اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا۔ اور یہی ان کا واحد ٹیسٹ میچ اور آخری ٹیسٹ میچ رہا۔ آنکھ پر گیند لگنے سے سرجری کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے انھیں کرکٹ کو خیر باد کہنا پڑا۔ 23 جنوری 1997 میں اپنا پہلا یک روزہ میچ ساؤتھ افریقہ کے خلاف کھیلا اور آخری یک روزہ میچ 30 مئی 2000 کو بنگلہ دیش کے خلاف کھیلا۔
ٹیسٹ کرکٹ میں واحد ٹیسٹ میچ رہا جس میں انھوں نے 15 رنز بنائے اور وکٹ کے پیچھے ایک کیچ پکڑا۔ 34 یک روزہ میچوں میں 362 رنز کی بہترین اننگز کھیلتے ہوئے، ایک نصف سنچری بنائی اور ان کی بہترین کارکردگی رہی 55 رنز۔
وکٹ کے پیچھے 27 کیچ اور تین اسٹمپنگ بھی شامل ہے۔فرسٹ کلاس کرکٹ میں 120 میچوں کے سفر میں 7310 رنز بنائے جس میں۔ 22 سنچریاں اور 33 نصف سنچریاں رہیں۔ بہترین کارکردگی رہی 234 رنز رنجی ٹرافی میں اڑیسہ کے خلاف۔ 243 وکٹ کے پیچھے کیچ اور 55 بہترین اسٹمپنگ بھی شامل ہیں۔
کرکٹ کو خیر باد کرنے کے بعد کرکٹ میچ کےکمینٹیٹر کے طور پر کام کیا۔ 27 ستمبر 2012 میں ایسٹ زون کے لیے قومی سلیکٹرز میں جگہ ملی۔ یکم جنوری 2018 میں سید صبا کریم کو بی سی سی آئی نے کرکٹ آپریشنز کے جنرل منیجر کے عہدے پر فائز کیا۔ اس وقت بنیادی طور پر کرکٹ کے شعبہ کو اسٹریٹیجک، آپریشنل منصوبوں پر عمل در آمد، میچ کے ضابطے،میچ کے مقامات، ڈومیسٹک پروگرام کے ساتھ انتظامیہ کی تکمیل کا تعین کرنا، یہ تمام زمہ داری صبا کریم کو سونپی گئی تھیں۔
اس وقت اس عہدے کے لیے سابق تیز گیند باز وینکٹیش پرساد کا نام بھی سامنے آیا تھا۔ مگر سید صبا کریم کے تجربہ کو دیکھتے ہوئے انھیں عہدے پر فائز کیا گیا۔ 2020 میں او جی ایس کے طور پر کریڈیٹ اشتہار میں نمایاں ہوئے۔



