عدالت کا عجیب فیصلہ: بس ڈرائیور کو سنائی گئی ۱۹۰؍ سال قید کی سزا ، حادثہ میں ۲۲؍ مسافر زندہ جل گئے تھے
پنا ؍بھوپال ، ۲؍ جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مدھیہ پردیش کے پنا میں 6 سال قبل بس حادثے میں 22 مسافر زندہ جل گئے تھے۔ عدالت نے اس حادثہ میں بس ڈرائیور کو مجرم قرار دیا۔ ایڈیشنل سیشن جج آر پی سونکر نے بس ڈرائیور شمس الدین (47 سال) کو 190 سال قید کی سزا سنادی۔ ڈرائیور کو ہر ایک کاؤنٹ پر 10 سال کی الگ الگ شرائط کی سزا سنائی گئی ہے۔
وہیں عدالت نے بس مالک گیانیندر پانڈے کو بھی قصوروار پایا ہے۔عدالت نے بس مالک کو محض 10 سال قید کی سزا بھی سنائی ہے ۔ ڈرائیور شمس الدین کو آئی پی سی سیکشن 304 کے پارٹ 2 کے تحت قصوروار پایا گیا ہے۔ طویل سماعت کے بعد اب فیصلہ آیا ہے۔ ڈرائیور اور بس کا مالک دونوں ہی ستنا ضلع کے رہنے والے ہیں۔
یہ بس حادثہ 4 مئی 2015 کو منڈلا کے نیشنل ہائی وے پر پانڈو فال کے قریب پیش آیا۔ انوپ ٹریولز کی بس ایم پی 19 پی 0533 20 فٹ گر کر پلٹ گئی تھی۔ 32 سیٹوں والی بس چھتر پور سے تقریباً 12.40 بجے روانہ ہوئی تھی۔
ایک گھنٹے کے بعد بس پنا ضلع میں پانڈو فالس کے قریب ایک پل پر پہنچی، جہاں ڈرائیور نے اپنا کنٹرول کھو دیا۔ اس کے بعد بس تقریباً آٹھ فٹ نیچے کھائی میں گر گئی۔ کھائی میں گرنے کے بعد اس میں آگ لگ گئی اور 22 مسافر زندہ جل گئے تھے۔قابل ذکر ہے کہ پولیس نے بس کے مالک گیانیندر پانڈے اور ڈرائیور شمس الدین عرف جگ دمبے کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 279، 304A، 338، 304/2 اور 287 اور موٹر وہیکل ایکٹ کی دفعہ 182، 183، 184 اور 191 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔
6 سال تک جاری رہنے والی طویل سماعت کے بعد عدالت نے اپنا فیصلہ سنادیا ہے۔لیکن یہ فیصلہ خود اپنے آپ میں ایک سوالیہ نشان ہے کہ آخر جس انسان کی عمر محض 80-90سال ہوتی ہے ، اسے 190سال قید کی کیوں سزا سنائی گئی ، جو کہ خود اپنے آپ میں حیران کن ہے ۔



