قومی خبریں

لکھیم پور واقعہ: وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا تھا کہ بیٹے کیخلاف شواہد ملیں، تو استعفیٰ دوں گا

چارج شیٹ کے بعد مشکلات بڑھیں ، کیا اب ٹینی استعفیٰ دیں گے؟

لکھنؤ ،3؍ جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) تحقیقاتی ٹیم نے لکھیم پور کیس میں 14 لوگوں کو ملزم بنایا ہے۔ ان ملزمان میں وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا کا رشتہ دار بھی شامل ہے۔ اس معاملے میں کلیدی ملزم مرکزی وزیر کا بیٹا آشیش مشرا ہے۔ تین اکتوبر کو تکونیا قصبے میں ہونے والے تشدد میں چار کسانوں اور ایک صحافی سمیت آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ایف آئی آر اسی تاریخ کی رات درج کی گئی تھی۔

اس کیس میں 14 لوگوں کو ملزم نامزد کیا گیا تھا۔

دوسری جانب بی جے پی لیڈر کی جانب سے درج کرائی گئی ایف آئی آر میں اب تک سات ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔اب سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ کیا چارج شیٹ داخل ہونے کے بعد اجے مشرا ٹینی وزیر مملکت برائے داخلہ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے؟ اپوزیشن اسے مسلسل ایشو بنا رہی ہے۔

مسلسل دباؤ کی وجہ سے حکومت نے پارلیمنٹ سے سڑک تک یہ بھی کہا کہ اگر ٹینی کا بیٹا قصوروار پایا جاتا ہے تو قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ اجے مشرا ٹینی نے خود کہا ہے کہ اگر ان کے بیٹے کیخلاف ایک بھی ثبوت ملتا ہے،تو وہ استعفیٰ دے دیں گے۔5 اکتوبر کو اجے مشرا ٹینی نے کہا تھاکہ میں مسلسل اپنی بات رکھ رہا ہوں۔

ہمارے پاس اس بات کے ثبوت ہیں کہ میں اور میرا بیٹا موقع پر موجود نہیں تھے۔ اگر میرے بیٹے کی موجودگی ثابت ہو گئی، تومیں وزیر کے عہدے سے استعفیٰ دے دوں گا۔اس کے بعد 8 اکتوبر کو ایک نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے ٹینی نے کہا تھاکہ پورے معاملہ کی منصفانہ جانچ ہو رہی ہے، مجھے اور میرے بیٹے کو سیاسی انتقام کی بنیاد پر پھنسایا جا رہا ہے۔

ہمارے پاس ایسے بہت سے شواہد موجود ہیں جویہ ثابت کرتے ہیں کہ میں اور میرا بیٹا موقع پر موجود نہیں تھے۔ جائے وقوعہ اور مقام سے فاصلہ تقریباً 4 کلومیٹر تھا۔ایس آئی ٹی نے اپنی چارج شیٹ میں اجے مشرا ٹینی کے بیٹے کو اہم ملزم نامزد کیا ہے۔

اس معاملہ پر اپوزیشن نے سڑک سے پارلیمنٹ تک ہنگامہ کیا۔ راہل گاندھی نے کہا تھا کہ اجے مشرا ٹینی کوہر حال میں استعفیٰ دینا پڑے گا، یہ لکھ کر لے لو۔ اس کی وجہ سے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں بھی ہنگامہ ہوا۔ یوپی کے انتخابات بھی قریب ہیں۔

ایسے میں حکومت پر اجے مشرا ٹینی کا استعفیٰ لینے کا دباؤ بہت بڑھ رہا ہے، تاہم یہ سوال برقرار ہے کہ کیا اجے مشرا اپنے عہدے سے مستعفی ہوں گے ، یہ وقت ہی بتائے گا ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button