قومی خبریں

   جعلی ریمڈیسیویر کیس:  جبل پور کے ملزم نے حراست کو سپریم کورٹ میں کیاچیلنج ، ایم پی اور مرکزی حکومت کو نوٹس

نئی دہلی ،3؍ جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) سپریم کورٹ نے پیر کو مرکز اور مدھیہ پردیش حکومت کو ایک ملزم کی عرضی پر نوٹس جاری کیا  جسے جبل پور سے جعلی ریمڈیسیویر انجکشن کی خرید و فروخت میں حراست میں لیا گیا تھا۔ اس ملزم پر کرونا کی دوسری لہر کے دوران جعلی انجکشن فروخت کرنے کا الزام ہے۔
ملزم نے راسوکا میں اپنی تحویل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس اے ایس بوپنا کے بنچ نے مرکزی وزارت داخلہ اور ایم پی کے محکمہ داخلہ کے سکریٹریوں کو نوٹس جاری کیا ہے۔
ملزم دیویش چورسیا نے ایم پی ہائی کورٹ میں ان کی طرف سے دی گئی حراست کو چیلنج کرنے والی عرضی خارج ہونے کے بعد سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ سپریم کورٹ نے دونوں حکومتوں سے دو ہفتوں میں جواب طلب کیا ہے۔ایڈوکیٹ اشونی کمار دوبے کے ذریعہ دائر درخواست میں دیویش نے کہا ہے کہ مجھ پر نیشنل سیکورٹی ایکٹ (این ایس اے) 1980 لگانے کے لئے حراستی حکم میں ذکر کردہ دلیلیں غیر معقول ہیں۔
درخواست میں استدلال کیا گیا ہے کہ این ایس اے کی دفعات کے مطابق حراست میں لینے والی اتھارٹی کو ریکارڈ پر یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ کس طرح متعلقہ ملزم امن و امان اور سماجی تحفظ کے لیے خطرہ ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کو طویل عرصے تک حراست میں رکھنے کے بعد آج تک یہ نہیں بتایا گیا کہ اس پر این ایس اے کیوں لگایا گیا؟
ملزم 10 مئی 2021 سے حراست میں ہے۔ ایسے ہی ایک معاملہ میں عدالت عظمیٰ جبل پور کے ایک ڈاکٹر کی حراست کے حکم کو مسترد کرچکی ہے ۔ سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے 24 اگست 2021 کو جبل پور کے سٹی ہسپتال کے ڈائریکٹر سربجیت سنگھ موکھا کے حکم کو خارج کرتے ہوے  یہ حکم جاری کیا تھا۔
ہائی کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت دائر حراست کیخلاف ملزم کی درخواست خارج کر دی تھی۔ اسے موکھا نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
ڈاکٹر موکھا پر چورسیا اور دیگر کے ساتھ مل کر جعلی ریمڈیسیویر انجکشن خریدنے اور انہیں کورونا کے مریضوں پر لگا کر غیر قانونی منافع کمانے کا الزام تھا۔ عدالت عظمیٰ نے دو بنیادوں پر ڈاکٹر موکھا کی تحویل کے حکم کو کالعدم قرار دیا تھا۔ 

متعلقہ خبریں

Back to top button