قومی خبریں

کرونانامی خوف کا لامتناہی سلسلہ : الفا، ڈیلٹا، اومی کرون کے بعد اب’ فلورنا‘ کا خطرہ ،ماہرین کے ماتھے پر شکنیں

نئی دہلی،3؍ جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)گزشتہ دو سالوں سے کرونا نے دنیا کو پریشان کر رکھا ہے۔ ہر صبح ایک نئی گھبراہٹ دستک دینے لگ جاتی ہے کہ آج کیا نیا ہونے والا ہے۔ کبھی الفا، کبھی ڈیلٹا اور کبھی اومیکرون،اور اب فلورنا Florona Virus۔ کرونا دنیا بھر کے سائنسدانوں کیلئے آ رام کا موقع نہیں دے رہا ہے۔

ایسے میں اب اسرائیل میں سرخیوں میں رہنے والی کرونا وائرس کی نئی دریافت شدہ قسم’ فلورونا‘ نے ایک بار پھر ہلچل مچا دی ہے۔ فلورونا کے بارے میں اب تک موصول ہونے والی معلومات کے مطابق یہ کرونا وائرس کی کوئی نئی قسم نہیں ہے، بلکہ اسے دوہرے انفیکشن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

جہاں کورونا کے ساتھ انفلوئنزا وائرس کا بیک وقت انفیکشن ہوا ہے۔صہیونی ریاست اسرائیل سے موصولہ رپورٹ کے مطابق اسپتال میں داخل ایک حاملہ خاتون میں کرونا اور انفلوئنزا کا کیس دیکھا گیا ہے۔

اومیکرون کے بڑھتے کیسز اور ڈیلٹا ویرینٹ کے پھیلنے کے ساتھ اس طرح کے دوہرے انفیکشن کے بارے میں گھبرانا فطری ہے۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ ڈاکٹروں نے پچھلے چند ہفتوں میں اسرائیل میں انفلوئنزا کے کیسز میں اضافہ دیکھا ہے۔

دونوں انفیکشن کے بیک وقت ہونے کا تعلق قوت مدافعت میں کمی کے باعث ہے، تاہم جس حاملہ خاتون کا کیس سامنے آیا ہے اسے ویکسین نہیں لگائی گئی ہے۔یو ایس سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن (سی ڈی سی) کا کہنا ہے کہ علامات ظاہر ہونے میں ایک یا دو دن لگ سکتے ہیں۔

تاہم کرونا کے معاملہ میں اگر اس شخص کو بھی فلو ہوا ہو تو علامات ظاہر ہونے میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ فلو میں ایک آدمی میں 1 سے 4 دن کے اندر علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ ویسے انفیکشن کے 2 سے 14 دن بعد بھی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔

سی ڈی سی کا کہنا ہے کہ دونوں انفیکشن علامات ظاہر ہونے سے پہلے ایک سے دوسرے میں منتقل بھی ہو سکتے ہیں۔ ایسے لوگ بھی ہیں جن میں علامات بہت ہلکی ہیں یا وہ غیر علامتی ہیں۔

دونوں انفیکشنز متاثرہ شخص سے قربت ، اس کی چھینک، کھانسی یا بلغم کے ذریعے اڑنے والے چھوٹے ذرات کے ذریعہ پھیلتے ہیں۔کووڈ کے دور میں فلورونا کی آمد کو لے کر ماہرین کے ماتھے پر ایک اضافی شکن دیکھی جاسکتی ہے ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button