بین ریاستی خبریں

پٹنہ ہائی کورٹ کے کئی جج اور ملازمین کورونا پازیٹیو، آج سے ہوگی ورچوئل سماعت

پٹنہ ،3؍ جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پیر کو پٹنہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سنجے کرول اور جسٹس سنجیو پرکاش شرما کی ڈویژن بنچ نے کروناسے پیدا ہونے والی صورتحال کے معاملے پر مفاد عامہ کی عرضی (PIL) کی سماعت کی۔

شیوانی کوشک کی طرف سے دائر پی آ ئی ایل کی سماعت کرتے ہوئے ڈویژن بنچ نے بہار حکومت سے کہا کہ وہ اومیکرون کے خطرے کے پیش نظر کی جا رہی تیاریوں اور ضروری طبی وسائل کی فراہمی کے بارے میں پیش رفت رپورٹ داخل کرے۔

آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، پٹنہ (پٹنہ ایمس) کے وکیل ونے کمار پانڈے نے سماعت کے دوران بتایا کہ عدالت نے اس سے قبل بہار حکومت سے بھی کہا تھا کہ وہ طبی عملے، ادویات، آکسیجن اور ایمبولینس وغیرہ کے بارے میں تفصیلات فراہم کرے۔

اس معاملہ کی اگلی سماعت اب 5 جنوری کو ہوگی۔ خیال رہے کہ اس سے قبل بھی ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو تمام سہولیات اور ان کے انتظامات سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس آرڈر میں خصوصی طور پر آکسیجن کی پیداوار اور ذخیرہ اندوزی کئے جانے سے متعلق رپورٹ طلب کی گئی تھی۔

پیر کو ہوئی سماعت کے دوران بنچ نے زبانی طور پر کہا کہ ریاست میں کرونا انفیکشن تیزی سے پھیل رہا ہے، ہائی کورٹ کے کچھ جج اور اہلکار بھی کرونا کا شکار ہو گئے ہیں، اس لیے منگل سے عدالتی سماعت ورچوئل ذرائع سے ہو گی، تاہم اس سماعت میں ججوں اور اہلکاروں کی تعداد پر کوئی بات نہیں کی گئی۔

لیکن عدالت نے جس سنجیدگی کے ساتھ یہ سماعت کی ہے، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ریاستی عوام کے لئے اومیکرون سے متعلق سخت احکامات کی پابندی کرنی ہوگی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button