
نئی دہلی،22جنوری(اردودنیا.ان)اتر پردیش کی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ وہ ہاتھرس جاتے ہوئے گرفتار ہونے والے صحافی صدیق کپن کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اپنی والدہ سے بات کرنے کے لئے سہولت فراہم کرنے کے امکان پر غور کررہی ہے۔ کیرالہ سے تعلق رکھنے والے صحافی کپن کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ہاتھرس جارہے تھے ،جہاں اجتماعی عصمت دری کے بعد ایک نوجوان خاتون کو قتل کردیا گیاتھا۔ کیرل یونین آف ورکنگ جرنلسٹس کی جانب سے پیش ہوئے کپل سبل نے کہا کہ کپپن کی والدہ بے ہوش ہوگئیں اور وہ اپنے بیٹے کو دیکھنا چاہتے ہیں۔
ایسی صورتحال میں ویڈیو کانفرنسنگ کے آپشن کا سہارا لیا جانا چاہئے تاکہ کپن کی والدہ اپنے بیٹے کو زندہ دیکھ سکیں، اس کے لئے ہم نے درخواست دائر کی ہے۔ تب بنچ نے کہا کہ ہم اس کی اجازت دے سکتے ہیں۔اس دوران یوپی حکومت کی طرف پیش ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتانے کہا کہ اس معاملے کو ان پر چھوڑ دیا جائے اور اتھارٹی اس معاملے میں ویڈیو کانفرنسنگ کی سہولت کے امکان کو دیکھے گی۔
اس سے قبل یوپی حکومت نے کپن کی ضمانت کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ کپپن پر پی ایف آئی کا ممبر ہونے کا الزام ہے۔ اس پر ہاتھرس واقعے کے دوران امن کی خلاف ورزی کا الزام ہے۔مشہور صحافی صدیق کپن کی ہاتھرس جاتے ہوئے گرفتاری کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے دوران یوپی حکومت نے 2 دسمبر کو کہا تھا کہ اس معاملے کی تحقیقات کے دوران کچھ حیران کن حقائق سامنے آئے ہیں۔ ہاتھرس میں دلت کی اجتماعی عصمت دری اور ہلاکت کے بعد صحافی ہاتھرس جارہے تھے جب یوپی پولیس نے انہیں گرفتار کرلیا۔
یونین آف ورکنگ جرنلسٹس کی جانب سے کپن کی گرفتاری پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔ کپل سبل نے کیس کی سماعت کے دوران ارنب گوسوامی کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ سپریم کورٹ نے خودکشی کیلئے اکسانے کے مقدمے میں عبوری ضمانت منظور کی ہے اور وہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کا حوالہ دے رہے تھے۔
کپپن کی رہائی کے لئے دائر درخواست پر سماعت کے دوران یوپی حکومت نے سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ داخل کیا جس میں کہا گیا ہے کہ وہ امن و امان کو خراب کرنے اور ذات پات کی تفریق پیدا کرنے کے مقصد سے ہاتھرس جارہے تھے۔ ملزم کپن غیر قانونی تحویل میں نہیں بلکہ عدالتی تحویل میں ہے۔




