
نئی دہلی،06؍ جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دہلی میں گزشتہ سال چھترسال اسٹیڈیم میں پہلوان ساگر دھنکڑ قتل کیس میں مفرور ایک اور ملزم کو دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے گرفتار کیا ہے۔ اس قتل کیس میں اب تک 18 لوگوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گزشتہ سال مئی کے مہینے میں ساگر پہلوان کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔
قتل کا الزام اولمپک میڈلسٹ سشیل پہلوان اور ان کے ساتھیوں پر ہے۔اسپیشل سیل کے ڈی سی پی جسمیت سنگھ کے مطابق اسپیشل سیل کی ٹیم تقریباً ایک ماہ سے ان کے گاؤں مدن پور ڈباس کے قریب اولمپک میڈلسٹ سشیل پہلوان کی معاون پروین ڈباس کے بارے میں معلومات حاصل کر رہی تھی۔
3-4 جنوری کی نصف شب دہلی کے سلطان پور ڈباس گاؤں کے قریب پریم پیاؤ روڈ پر ایک ٹیم بنا کر جال بچھا دیا گیا۔
پروین دباس کو رات کو سڑک پر آتے دیکھا گیا۔ اسے گھیر کر پکڑ لیا۔گرفتار ملزم پروین ڈباس نے انکشاف کیا ہے کہ اس نے سشیل پہلوان اور اس کے 18-20 ساتھیوں کے ساتھ چھترسال اسٹیڈیم میں 4-5 مئی 2021 کی نصف شب اپنے مخالفین کو بری طرح پیٹا تھا ۔ حملے کے دوران ساگر دھن کھڑ، سونو محل، امیت اور ان کے دیگر ساتھی زخمی ہوگئے۔
یہ سب ساگر دھنکڑ کو سبق سکھانے کے لیے کیا گیا۔ کیونکہ ابھرتے ہوئے پہلوان ساگر دھن کڑ سے سشیل پہلوان کی بالادستی کو لے کر تنازعہ تھا۔ ساگر دھن کڑ کی اگلے دن اسپتال میں موت ہوگئی۔ سشیل پہلوان بین الاقوامی سطح کے بڑے پہلوان ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی سطح پر ریسلنگ میں 10 سے زیادہ تمغے جیتے ہیں، جن میں ورلڈ چمپئن شپ، اولمپکس، کامن ویلتھ، ایشین گیمز کے تمغے شامل ہیں۔



