نئی دہلی،06؍ جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دہلی ہائی کورٹ نے سبرامنیم سوامی کی ایئر انڈیا کے ڈس انویسٹمنٹ کے عمل کو منسوخ کرنے کی عرضی کو مسترد کر دیا۔ مرکزی حکومت نے ایئر انڈیا کے 100 فیصد حصے کو ختم کر دیا ہے، جسے ٹاٹا گروپ نے 18,000 کروڑ روپئے میں خریدا تھا۔
تاہم ایئر انڈیا کو ٹاٹا گروپ کے حوالے کرنے کا عمل ابھی جاری ہے۔ راجیہ سبھا ایم پی اور بی جے پی کے سینئر لیڈر سبرامنیم سوامی نے اس عمل پر روک لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔
اس میں ملوث افسران کے کردار کی سی بی آئی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا تھا۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ ٹاٹا سنز نے ایئر انڈیا کو 18000 کروڑ روپئے میں خریدا ہے۔ 8 اکتوبر 2021 کو ہونے والی نیلامی کے عمل میں ٹاٹا سنز نے سب سے زیادہ بولی لگا کر ایئر انڈیا کی ملکیت حاصل کی ۔
جس کے بعد قرضوں میں ڈوبی ایئر انڈیا کو نجی ہاتھوں میں دینے کی مرکزی حکومت کی کوشش پوری ہو گئی۔غور طلب ہے کہ ایئر انڈیا کو ٹاٹا سنز نے ہی شروع کیا تھا، حالانکہ اس وقت اس کا نام ٹاٹا ایئر سروسز تھا۔ ٹاٹا نے 1932 میں ایئر انڈیا کا آغاز کیا تھا۔



