پانچ ریاستوں کاانتخابی بگل بجا،10مارچ کونتائج کااعلان ہوگا،15جنوری تک انتخابی اجلاس پرپابندی
کاغذات نامزدگی کاآن لائن اندراج ،امیدواروں کوفوجداری مقدمات کی تفصیل شائع کرنی ہوگی
انتخابی اہلکاروں کے لیے ویکسین کی دونوں خوراک لازمی،پولنگ بوتھ پر افراد کی تعداد کم کی جائے گی
نئی دہلی 8جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)الیکشن کمیشن نے انتخابی بگل بجادیاہے ۔اس نے پریس کانفرنس میں پانچ ریاستوں کے انتخابات کی تاریخوں کااعلان کردیا ہے ۔آج شام میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنرنے اعلان کیا کہ یوپی، گوا، منی پور، اتراکھنڈ اور پنجاب میں سات مرحلوں میں اسمبلی انتخابات ہوں گے۔
اس میں یوپی میں 10فروری سے لے کر سات مارچ تک سات مرحلوں میں، گوا، پنجاب اور اتراکھنڈ میں 14فروری کوایک مرحلہ میں اور منی پور میں 27فروری اور تین مارچ کودومرحلوں میں اسمبلی انتخابات ہوں گے۔ تمام ریاستوں میں 10 مارچ کو ووٹوں کی گنتی کی جائے گی۔
یوپی میں الیکشن کا پہلا مرحلہ 10 فروری، دوسرا 14فروری،تیسرا20 فروری،چوتھا23 فروری،پانچواں 27 فروری ،چھٹا 3مارچ اورساتواں مرحلہ 7مارچ کوہوگا۔ الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ 15 جنوری تک کوئی انتخابی اجلاس نہیں ہوگا۔ کورونا کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر الیکشن کمیشن ایک ہفتے بعد صورت حال کا جائزہ لے گا اور ضرورت پڑنے پر اہم فیصلے کرے گا۔
پانچ ریاستوں میں 690 سیٹوں پرانتخابات ہونے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے کہاہے کہ ان پانچ ریاستوں میں کل 18.35 کروڑ ووٹر ہیں۔انتخابی امیدواروں کو آن لائن کاغذات نامزدگی کی سہولت حاصل ہوگی۔ اس سے الیکشن آفس میں ہجوم سے بچا جا سکے گا۔ منی پور اور گوا میں اسمبلی انتخابات کے لیے امیدوار 28 لاکھ روپے خرچ کر سکتے ہیں۔
الیکشن کمشنر نے کہاہے کہ کوویڈ سے محفوظ انتخابات کا انعقاد ہماری ترجیح ہوگی۔ سی ای سی نے کہاہے کہ کورونا قوانین کے ساتھ انتخابات کراناہماری ذمہ داری ہے۔ تمام پولنگ اسٹیشن گراؤنڈ فلور پر ہوں گے۔ سینیٹائزر، تھرمل اسکینر اور فیس ماسک لازمی ہوگا۔
بزرگ اور معذور افراد کو پولنگ بوتھ تک لے جانے کے لیے وہیل چیئرز اور دیگر ضروری انتظامات بھی کیے جائیں گے۔ الیکشن کمشنر نے کہاہے کہ اب پولنگ اسٹیشن پر ووٹرز کی تعداد 1500 کے بجائے 1250 ہو گی۔ اس کے لیے 16 فیصد پولنگ اسٹیشنز بڑھائے جائیں گے۔
زیادہ تربوتھ پر ووٹ ڈالنے کے لیے 1000 سے کم ووٹرزہوں گے۔ ہر اسمبلی سیٹ پرایک پولنگ بوتھ مکمل طور پر خواتین کے زیر انتظام ہوگا۔ 1620 بوتھ خواتین کے ذریعے چلائی جائیں گی۔ یہ خواتین کو بااختیار بنانے کی طرف ایک قدم ہوگا۔الیکشن کمیشن نے کہاہے کہ داغدار امیدواروں کے بارے میں جاننا ہر ووٹر کا حق ہے۔
لازمی طور پر ایسے امیدواروں کو اپنے فوجداری مقدمات تین بار اخبارات میں شائع کروانے ہوں گے۔ سیاسی جماعتوں کو بھی اپنی ویب سائٹ پر یہ معلومات دینی ہوں گی۔ سیاسی جماعتوں کو بتانا ہو گا کہ ان مجرمانہ پس منظر کے لیڈروں کو امیدوار کیوں بنایا گیاہے۔
الیکشن ڈیوٹی میں مصروف اہلکاروں کوویکسین کی دو ڈوز کاہونابھی ضروری ہے۔الیکشن کمیشن ریاستوں کے ہیلتھ سکریٹریوں کے ساتھ ویکسینیشن کی صورتحال پر نظر رکھے گا۔ پولنگ بوتھ پر ہجوم سے بچنے کے لیے 1500 کے بجائے 1250 ووٹرز ہوں گے۔ اس کے لیے 16 فیصد پولنگ بوتھ بڑھا دیے گئے ہیں۔



