نئی دہلی 8 جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)فوجی اسکولوں پر منعقدہ ایک ویبنار کی صدارت کرتے ہوئے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہاکہ، ’’100 نئے سینک اسکولوں کا قیام مسلح افواج میں لڑکیوں کی شمولیت اور قومی سلامتی میں تعاون کے لیے ایک موقع فراہم کرے گا۔
‘‘راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ حکومت مسلح افواج میں خواتین کے کردار کو بڑھانے میں یقین رکھتی ہے اور اس سلسلے میں حکومت نے سینک اسکولوں میں لڑکیوں کے داخلے کے لیے راستہ ہموار کرنے اور خواتین افسران کو مستقل کمیشن فراہم کرانے سمیت متعدد اقدامات کیے ہیں۔
انہوں نے اعتماد جتاتے ہوئے کہا کہ نئے سینک اسکولوں کا قیام ملک کی خدمت کرنے کے لڑکیوں کے خوابوں کو پوراکرنے کے لیے انہیں حوصلہ فراہم کرے گا۔وزیر دفاع نے سینک اسکولوں کی توسیع کے فیصلے کو گذشتہ چھ۔سات برسوں کے دوران حکومت کے ذریعہ کیے گئے متعدد اہم اقدامات میں سے ایک قرار دیا ، جن کا مقصد ملک کی جامع ترقی کو یقینی بنانے کے لیے بچوں کو دی جانے والی بنیادی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ دفاع اور سینک اسکولوں کا انضمام آنے والے وقت میں تعمیر قوم میں ایک اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں ایک جانب ’سینک‘ اتحاد، نظم و ضبط اور عبودیت کا مظہر ہے، وہیں ’اسکول‘ تعلیم کا مرکز ہے، اس لیے، سینک اسکول بچوں کو اہل شہری بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
راج ناتھ سنگھ نے مزیدکہاہے کہ حکومت ملک کے نوجوانوں کو معیاری تعلیم فراہم کرانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، اور اس سلسلے میں حکومت معاشرے کی چوطرفہ ترقی کے لیے ایک ٹھوس بنیاد قائم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’معیاری تعلیم اقوام متحدہ کے ذریعہ اختیار کیے گئے ہمہ گیر ترقی کے 17 اہداف میں چوتھا ہدف ہے۔
’معیاری تعلیم‘ کے تحت دیگر اہداف بھی ہیں۔ ان اہداف کو حاصل کرنا ہماری مضبوط عہدبستگی رہی ہے۔ سرو شکشا ابھیان اور راشٹریہ مادھیہ مِک شکشا ابھیان جیسی متعدد اسکیمیں چلائی جا رہی ہیں۔ 100 نئے سینک اسکولوں کا قیام اس سمت میں اٹھایا گیا ایک اور اہم قدم ہے۔
‘‘وزیر دفاع نے سوامی وویکانند، مہاتما گاندھی، ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اور سروپلی رادھا کرشنن جیسے صاحب بصیرت قائدین ، جنہوں نے اکیڈمک تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں کی جسمانی، ذہنی، اخلاقی نشو ونما پر زور دیا تھا، کے نظریات کو نافذ کرنے کے لیے سینک اسکول سوسائٹی کی تعریف کی۔ انہوں نے اس حقیقت کے لیے سینک اسکولوں کی ستائش کی کہ ان اسکولوں نے مسلح افواج میں اب تک 7000 سے زائد افسران کی بھرتی میں اپناتعاون دیا ہے، اور ملک کو سابق چیف آف دی آرمی اسٹاف جنرل دیپک کپور (سبکدوش) اور جنرل دلبیر سنگھ سہا گ(سبکدوش) جیسے افسران کے علاوہ ناگالینڈ کے وزیر اعلیٰ نیفیو ریو؛ آربی آئی کے سابق گورنر ڈی سبا رائو اور فلم ہدایت کار راکیش روشن جیسی شخصیات دی ہیں۔
راج ناتھ سنگھ نے تعلیم کو ایک کلیدی شعبہ قرار دیا جو تمام ترشعبوں کی ترقی میں ایک کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے نجی شعبوں کو، بچوں کی مجموعی نشو و نما کو یقینی بنانے کے لیے اس شعبے میں ’آتم نربھرتا‘ کی حصولیابی کے لیے حکومت سے ہاتھ ملانے کی تلقین کی۔ سینک اسکولوں کی توسیع کو لے کر حکومت کی پہل قدمی میں شامل ہونے کے لیے نجی شعبے سے اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا،’’آج، ہمارا ملک ہرایک شعبے میں آتم نربھرتا کے راستے پر تیزی کے ساتھ گامزن ہے۔
ملک عوامی اور نجی شعبوں میں بہتر تال میل کی وجہ سے دفاع، صحت، مواصلات، صنعت اور نقل و حمل جیسے شعبوں میں نئی بلندیاں سر کر رہا ہے۔تعلیم کے شعبے اور بچوں کی مجموعی نشو و نما میں ایک انقلاب برپا کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ تبھی ممکن ہے جب دفاع، تعلیم اور نجی شعبے کے درمیان مضبوط باہمی تعاون ہو۔ یہ ویبنار اس شراکت کاری کی ایک بنیاد ہے۔
‘‘وزیر دفاع نے ملک کے نوجوانوں کو مواقع فراہم کرانے کے لیے حکومت کی عہد بستگی کا اعادہ کیا۔ اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ نئے سینک اسکولوں کا قیام اس سمت میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا، انہوں نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی-2020؛ نیشنل کیڈٹ کور میں اسامیوں میں اضافہ؛ کھیلو انڈیا، اسٹارٹ اپ انڈیا اور فٹ انڈیا جیسی مہمات وزیر اعظم نریندر مودی کی وہ چند پہل قدمیاں ہیں جن کے ذریعہ ملک کے نوجوان اور روشن اذہان اپنے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کر سکتے ہیں۔
مجموعی ترقی کو یقینی بنا سکتے ہیں اور ملک کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں۔راج ناتھ سنگھ نے دفاع کے محکمہ اور سینک اسکول سوسائٹی کو ،سینک اسکولوں کی کارکردگی اور آڈٹ کی بنیاد پر ان تمام اسکولوں کی درجہ بندی کے لیے ایک ضابطہ تیار کرنے کی صلاح دی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں مختلف اختراعی کوششوں کے لیے حوصلہ فراہم کرنے سمیت اسکولوں میں صحت مند مسابقت کو فروغ حاصل ہوگا۔
انہوں نے کہاہے کہ نصاب کے ساتھ ساتھ، بچوں کو حب الوطنی اور ملک کے تئیں وفاداری کادرس بھی دیا جانا چاہئے کیونکہ یہ ان کی کردار سازی میں مدد گارثابت ہونے کے ساتھ ساتھ ملک کے لیے بھی مفید ہے۔



