قومی خبریں

راجستھان سے نکلا بلی بائی ایپ کے ماسٹر مائنڈ نیرج بشنوئی کا کنکشن ، لی تھی خصوصی ٹریننگ

ناگور،۸؍جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ملک بھر میں موبائل ایپ کے ذریعہ سنسنی پھیلانے والے بلی بائی ایپ کا راجستھان سے سیدھا تعلق ہے۔ اس ایپ کا ماسٹر مائنڈ نیرج وشنوئی ناگور کا رہنے والاہے۔21 سالہ نیرج انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ اس بدنام زمانہ مکروہ ایپ کے ذریعے مسلم طبقہ کی معزز خواتین کی ہتک عزت کے لئے آن لائن جنسی بولی لگائی جا رہی تھی۔

ملزم نیرج بشنوئی حال ہی میں دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے آسام کے جورہاٹ سے گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس نے اسے دہلی کی عدالت میں پیش کیا۔ اب عدالت نے پولیس کو نیرج کے ٹھکانے کی جانچ کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق بلی بائی ایپ بنانے والے نیرج ناگور کے روتو گاؤں میں پیدا ہونے کے بعد خاندان کے ساتھ آسام کے جورہاٹ چلاگیا تھا۔

وہ حال ہی میں خاندانی شادی کے سلسلے میں راجستھان آیا تھا۔ نیرج ویلور انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (VIT)، بھوپال، سیہور، مدھیہ پردیش سے بی ٹیک کر رہا تھا۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد ادارہ نے اسے معطل کر دیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے اس ایپ کے لیے خصوصی ٹریننگ لی تھی۔نیرج نے پولیس کو بتایا ہے کہ اس نے بلی بائے ایپ کو سلی ڈیلز ایپ سے کاپی کیا تھا۔

اس کے کوڈ اور گرافکس کو ایڈٹ اور دوبارہ ڈیزائن کیا۔ اس نے ٹوئٹر ہینڈل بھی بنایا۔ انہوں نے بتایا کہ اس نے نومبر 2021 میں گٹ ہب اکاؤنٹ اور ایپ بنائی تھی۔ دسمبر 2021 میں اپ ڈیٹ ہوا۔ قابل ذکر ہے کہ اس معاملہ میں نیرج کی گرفتاری سے قبل ممبئی پولیس نے شویتا سنگھ کو اتراکھنڈ کے ادھم سنگھ نگر سے گرفتار کیا تھا۔

اس سے پہلے شویتا سنگھ کو اس معاملے میں اہم ملزم بتایا جا رہا تھا۔ لیکن، اب دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ شویتا سنگھ، مینک راول اور وشال جھا نیرج کے کہنے پر کام کرتے تھے۔دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کے لیپ ٹاپ اور فون سے کئی شواہد ملے ہیں۔ ان سے ایسا لگتا ہے کہ وہ بلی بائی ایپ کا ماسٹر مائنڈ ہے۔ اس کے لیپ ٹاپ سے کئی لوگوں کے پروفائل بھی ملے ہیں۔

اس ایپ کے لیے کئی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی بنائے گئے تھے۔ ان پر پروفائلز کی تشہیر کی گئی تھی۔ قابل ذکر ہے کہ نیرج وشنوئی کے والد آسام میں دکان چلا کر گزر اوقات کرتے ہیں ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button