سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

غیروں کے خلاف لڑائی کریں گے  جب شرارت اپنوں کی ہو تب-✍️محمد مصطفی علی سروری

سال 2022ء کے پہلے ہی دن ہمارے ملک ہندوستان کی 100 سے زائد مسلم خواتین کو اس وقت ایک تلخ تجربے کا سامنا کرنا پڑا جب انہیں پتہ چلا کہ انٹرنیٹ پر ان کی تصاویر اور پرسنل معلومات کے ساتھ ان کو ہراج کرنے کے لیے پیش کیا گیا ہے۔
3؍ جنوری کی آئوٹ لک کی رپورٹ کے مطابق جن 100 مسلم خواتین کی تصاویر آن لائن لگائی گئی اور جن کو ہراج کرنے کے لیے پیش کیا گیا تھا ان میں نامور صحافی اور سماجی جہد کار خواتین بھی شامل تھیں۔ آئوٹ لک میگزین کی رپورٹ کے مطابق بُلی بائی نام کے ایپ کے بارے میں یکم؍ جنوری 2022ء کو پتہ چلا یہ ایپ Github کے پلیٹ فارم سے پیش کیا گیا تھا۔اسی ایپ پر مسلمان خواتین کی بولی لگائی گئی۔ 
قارئین کرام یہ کوئی پہلا موقع نہیں جب ہندوستان کی مسلم خواتین کو اس طرح آن لائن ہراج کے لیے پیش کیا گیا ہو۔ اس سے قبل بھی جولائی 2020ء میں سُلّی ڈیلس کے نام سے کئی مسلم خواتین کو آن لائن ہراج کے لیے پیش کیا گیا تھا۔
اس وقت احتجاج کے بعد اس ایپ کو بند کردیا گیا مگر اس کے آگے کوئی کاروائی نہیں کی گئی اور اب جب ایک نئے پلیٹ فارم سے دوبارہ مسلم خواتین کو ہراج کرنے کے لیے پیش کیا گیا تو ان میں بہت ساری مسلم خواتین وہی تھیں جنہیں پچھلی مرتبہ بھی آن لائن ہراج کے لیے پیش کرتے ہوئے ہراساں کیا گیا تھا۔
بلی بائی کے تنازعہ پر نہ صرف متاثرہ خواتین نے پولیس میں شکایات درج کروائی بلکہ راہول گاندھی کے بشمول بڑے بڑے سیاسی قائدین نے بھی اپنے سخت احتجاج درج کروایا۔ اس طرح کی حرکات کو خواتین کے ساتھ اہانت سے تعبیر کیا۔ 
قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں، دہلی پولیس، مہاراشٹر پولیس کے بشمول مختلف ریاستوں میں پولیس نے نہ صرف شکایات درج کی بلکہ کاروائی شروع کرنے کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔
4؍ جنوری2022ء کی صبح مہاراشٹرا پولیس نے بنگلور سے انجینئرنگ کے ایک طالب علم کی گرفتاری کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ 
قارئین بلی بائی کے خلاف ملک بھر میں آواز اٹھائی جارہی ہے اور ہر گوشے سے خاطیوں کے خلاف سخت ترین کاروائی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ شیو سینا کی خاتون رکن پارلیمنٹ پرینکا چترویدی نے بھی مسلم خواتین کی اس اہانت پر صدائے احتجاج بلند کیا ہے۔
قارئین مسلم خواتین کی آن لائن ہراسانی کے اس معاملے نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کرلی ہے اور ہر سطح پر اس طرح کی حرکات کی مذمت کی جارہی ہے۔ اب میں آپ حضرات کی توجہ ایسے واقعات کی جانب مبذول کروانا چاہتا ہوں جو کسی قانون نافذ کرنے والی ایجنسی سے زیادہ خود مسلم کمیونٹی اور کمیونٹی کے ذمہ داروں کی توجہ کے مستحق ہیں۔ اس حوالے سے مسلمانوں کو فوری حرکت میں آنے کی ضرورت ہے۔ 
آج مسلم نوجوانوں کو اس بات کی تعلیم دینا ضروری ہوگیا ہے کہ سوشیل میڈیا کا استعمال کیسے کریں۔ ہمارے گھروں میں پس پردہ رہنے والی ماں بیٹیوں کی جانب سے سوشیل میڈیا کا ذرا سا غلط استعمال کس طرح بے پناہ مصائب کو دعوت دیتا ہے۔ اس کا اندازہ لگانا ضروری ہے۔ 
یہ واقعہ دسمبر 2021ء کا ہے۔ شہر حیدرآباد کے مضافاتی علاقہ میلادیو پلی کے پولیس اسٹیشن سے فیاض نامی ایک نوجوان رجوع ہوکر شکایت درج کرواتا ہے کہ اس کو کچھ نوجوانوں نے خوب مارپیٹ کا نشانہ بنایا ہے۔ تفصیلات کے مطابق فیاض سوشیل میڈیا کے ایک چیانل کی انسٹاگرام کے ذریعہ ایک لڑکی سے دوستی ہوجاتی ہے۔
یہ آن لائن دوستی جلد ہی اتنی گہری ہوجاتی ہے کہ فیاض کو وہ لڑکی ملنے کے لیے اپنے گھر بلالیتی ہے۔ فیاض لڑکی کے گھر جاکر اس سے ملتا ہے اور دونوں خوب ہنسی مذاق کرتے ہیں۔ جس وقت فیاض اپنی گرل فرینڈ سے اسی کے گھر میں مل کر واپس ہورہا ہوتا ہے عین اسی وقت لڑکی کا چھوٹا بھائی فیاض اس کو دیکھ لیتا ہے اور یوں لڑکی کے دیگر بھائی بھی فیاض کو اپنے دوستوں کی مدد سے خوب مارپیٹ کا نشانہ بناتے ہیں اور مار کھاکر زخمی ہونے والا فیاض بالآخر میلادیو پلی پولیس اسٹیشن سے رجوع ہوکر شکایت کرتا ہے۔
یہ کوئی اکلوتا واقعہ نہیں ہے۔ 24؍ دسمبر 2021ء کو ہی کیرالا کے آن لائن جرنل Kaumudi آن لائن نے ایک دل دہلا دینے والا واقعہ رپورٹ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ملاپورم پولیس کو ایک اسکول اسٹوڈنٹ کی شکایت موصول ہوئی ہے۔ لڑکی کسی اورکے خلاف نہیں بلکہ اپنے ہی حقیقی بھائی پر اس کا مسلسل استحصال کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے شکایت درج کراتی ہے کہ وہ جب چھوٹی تھی تب ہی سے اس کا بھائی اس کو زیادتی کا نشانہ بناتا آرہا ہے۔ معاملہ حساس تھا۔ شکایت سنگین تھی۔ پولیس نے اس واقعہ کی سائنسی انداز میں تحقیقات شروع کی۔ 
لڑکے کو پولیس حراست میں لے لیا گیا اور مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا۔ لڑکی کا بھی پولیس نے بیان قلم بند کیا اور دونوں کے بیانات میں زبردست تضاد کے بعد لڑکی کو ایک سائیکالوجسٹ کے ہاں بھیج دیا گیا اور سائیکالوجسٹ کی کونسلنگ کے دوران لڑکی نے جو انکشافات کیے وہ سب کے لیے چونکا دینے والے تھے۔ تفصیلات کے مطابق اسکولی لڑکی کو دراصل آن لائن کلاسز کے لیے والدین نے ایک موبائل فون دیا تھا۔ 
آن لائن کلاسز کے علاوہ بھی لڑکی موبائل فون کے ذریعہ سوشیل میڈیا کا خوب استعمال کر رہی تھی اور لڑکی کے بھائی کو جب اپنی بہن کے ان حرکات کا پتہ چلا تو اس نے اپنی بہن کو فون کے غلط استعمال پر ڈانٹ ڈپٹ کی۔
اپنے بھائی کی ڈانٹ ڈپٹ اور موبائل فون کے استعمال پر پابندیوں کی وجہ سے ملاپورم، کیرالا کے اسکول کی اس کم عمر لڑکی نے اپنے بھائی کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا۔ اس لڑکی نے انتقام کے جذبہ کے تحت اپنے ہی بھائی پر زیادتی کا الزام عائد کرتے ہوئے حقوق اطفال کے لیے کام کرنے والے افراد سے اپنے بھائی کی شکایت کرڈالی اور بچوں کے حقوق کے لیے سرگرم عمل ان جہد کاروں نے بچی کی شکایت کو ملاپورم کی پولیس سے رجوع کردیا ملاپورم پولیس نے لڑکی کے بھائی کو گرفتار کرلیا ۔
اور جہاں پر تحقیقات کے بعد یہ پول کھلا کہ موبائل فون کا استعمال کرنے کے شوق میں ایک اسکولی طالبہ نے اپنے بھائی کے خلاف جھوٹی شکایت درج کرواتے ہوئے اس کو پولیس کے ذریعہ سبق سکھانے کا فیصلہ کیا۔ 
خواتین اور لڑکیوں کی آن لائن ہراسانی کے واقعات جس تیزی سے بڑھتے جارہے ہیں اس کے پس منظر میں ہر ممکنہ احتیاط ضروری ہے اور احتیاطی طور پر سب سے پہلے ہم نوجوان نسل کے لڑکے، لڑکیوں کو انٹرنیٹ اور موبائل فون کے محفوظ استعمال کے متعلق بیدار کرنا ضروری ہے۔ صرف مخصوص نظریات کی حامل تنظیموں کی طرف سے ہی نہیں بلکہ خواتین اور لڑکیوں کو ہر طرف سے اور ہر طرح سے ہراسانی کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ 
یہاں پر نئی دہلی کے اخبار ہندوستان ٹائمز کی 8؍ اکتوبر 2021ء کو شائع رپورٹ کا حوالہ موزوں معلوم ہوتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نئی دہلی کے پاش علاقے میں واقع لڑکیوں کے ایک اسکول میں لڑکیوں کے ساتھ ساتھ ٹیچرس کو آن لائن ہراسانی کے الزام میں دہلی پولیس نے ایک 19 سالہ طالب علم مہاویر کمار کو گرفتار کرلیا ہے۔ 
قارئین سب سے تعجب خیز پہلو تو یہ ہے کہ مہاویر کمار انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، کھڑگپور سے انجینئرنگ کا کورس میں سال دوم کا طالب علم ہے اور اس کو اسکول کی 50 لڑکیوں اور ٹیچرس کو ہراساں کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
قارئین ایک اور خبرملاحظہ فرمائیں۔ اخبار دی ہندو نے 12؍ دسمبر 2021ء کو یہ خبر شائع کی تھی۔ تاملناڈو کے علاقے تریپور سے شائع ہونے وال اس رپورٹ میں 23 سال کے نیاز کی گرفتاری کی اطلاع دی گئی۔ نیاز پر الزام ہے کہ وہ ایک خاتون کی آئی ڈی بناکر لڑکیوں سے دوستی کرتا۔
دوستی کے نام پر ان سے پرسنل فوٹوز حاصل کرتا اور پھر ان فوٹوز میں ردو بدل کر کے انہی لڑکیوں کو بلیک میل کرتا تھا۔ پولیس نے نیاز کے ہاں سے موبائل فون ضبط کر کے اس میں سے کئی قابل اعتراض تصاویر برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
قارئین ان تمام واقعات کا تجزیہ کرنے کے بعد یہ بات ابھر کر سامنے آتی ہے کہ ہمارے سماج میں ہر طرف ہر زاویہ سے اگر کسی طبقے کو نشانہ بنایا جارہا ہے تو وہ خواتین اور لڑکیاں ہے۔ ایسے میں خواتین اور لڑکیوں کو سوشیل میڈیا کے استعمال کے متعلق جب تک آگاہ نہیں کیا جائے گا ان میں شعور بیداری نہیں کی جائے گی۔ اس وقت تک اس طرح کے مجرموں کے بڑھتے قدموں کو روکنا ممکن نہیں ہے۔
یقینا پولیس اور مختلف ادارے اپنا کام دیر سے ہی سہی کر رہے ہیں لیکن والدین کو بھی چاہئے کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت پر توجہ مرکوز کریں۔ سوشیل میڈیا کے حوالے سے ان کو آگاہ کریں۔ آن لائن سیکوریٹی کے متعلق ان میں شعور بیدار کریں۔
اور سب سے اہم بات اپنے بچوں کے دلوں میں خوفِ خدا وندی کا جذبہ بیدار کریں۔ کیونکہ پولیس کی نظروں سے بچا جاسکتا ہے۔ کیمرے اور موبائل کو چھپایا جاسکتا ہے۔ تصاویر کو ڈیلیٹ کیا جاسکتا ہے۔ لیکن خدا کی نظروں سے کیسے بچا جاسکتا ہے اور خدا کا خوف انہیں کو ہوسکتا جن کو خدا کی پہچان کروائی گئی ہو۔
کیا ہم یہ کام کر رہے ہیں۔ ذرا غور کریں اور سونچیں کہ غیر جب سلی اور بلی کے نام سے ہراساں کر رہے ہیں تو ہم پولیس سے رجوع ہوتے ہیں۔ جب اپنی صفوں سے ہی اپنی ہی لڑکیوں اور خواتین کے خلاف کچھ ہوتا ہے تو کیا یہ لمحۂ فکر نہیں۔ 

(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)

متعلقہ خبریں

Back to top button