نیویارک ، 11،جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکہ میں میری لینڈ یونیورسٹی کے میڈیکل کالج سے تعلق رکھنے والے طبی محققین ایک مریض میں خنزیر کے دل کی پیوند کاری میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ مریض کا دل بیکار ہو چکا تھا اور وہ امریکہ میں روایتی انسانی دل کی پیوندکاری پروگرام سے مستفید ہونے کے قابل نہیں تھا۔
تفصیلات کے مطابق 57 سالہ ڈیوڈ بینیٹ David Bennett گذشتہ ماہ دسمبر میں اس تجربے پر آمادہ ہوا تھا۔ آپریشن سے قبل ڈیوڈ کا کہنا تھا کہ یا تو میں مر جاؤں یا پھر اس پیوند کاری کا آپریشن کراؤں، میں جینا چاہتا ہوں، یہ میرے پاس آخری راستہ ہے۔اس پیوند کاری کو انجام دینے والے سرجنوں کی ٹیم میں پاکستانی نژاد ڈاکٹر محمد محی الدین بھی شامل ہیں۔
محمد محی الدین جانوروں کے اعضاء کی پیوند کاری میں پہل کرنے والی شخصیت ہیں۔
خنزیر کے دل کی انسان میں پیوند کاری کا آپریشن 8 گھنٹے تک جاری رہا۔ اس کے لیے امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی سے 10روز قبل ہنگامی اجازت نامہ حاصل کیا گیا تھا۔ یہ کسی انسان کے جسم میں خنزیر کے دل کی پیوند کاری کا پہلا کامیاب آپریشن ہے۔میری لینڈ یونیورسٹی میں ہارٹ ٹرانسپلانٹیشن سینٹر کے ڈائریکٹر اور آپریشن میں شامل سرجن ڈاکٹر بارٹلے گریفتھ کے مطابق پیوند کاری کے بعد ڈیوڈ کے اندر یہ دل طبعی صورت میں کام کر رہا ہے۔
البتہ چوں کہ اس سے قبل اس طرح کا آپریشن انجام نہیں دیا گیا، لہٰذا مریض کے مستقبل کے حوالے سے کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی ہے۔واضح رہے کہ چند ہفتے قبل نیویارک میں سرجنوں نے ایک شخص کے اندر خنزیرکے گردے کی پیوند کاری کی تھی۔ یہ شخص دماغی طور پر موت کا شکار ہو چکا تھا۔
ماضی میں بھی انسان کے اندر جانوروں کے دلوں کی پیوند کاری کی کوششیں کی جا چکی ہیں۔ پہلی مرتبہ سال 1964میں ایک مریض کے اندر بندر کے دل کی پیوند کاری کی گئی تھی۔ تاہم مریض آپریشن کے بعد دو گھنٹے کے اندر فوت ہو گیا۔اسی طرح 1984ء میں دل کے عارضے میں مبتلا ایک بچے کے اندر بی بون (بندر) کے دل کی پیوند کاری کی گئی۔ یہ بچہ آپریشن کے 20 روز بعد چل بسا۔



