سوانح حیات فلمی و اسپوریٹس

ٹیسٹ میچ کے افتتاحی بلے باز، وسیع تجربہ کے ساتھ آئی پی ایل کنگز الیون پنجاب کے بیٹنگ کوچ، اتراکھنڈ اور اڑیسہ کے ہیڈ کوچ رہے: وسیم جعفر

سلام بن عثمان،کرلاممبئی

وسیم جعفر 16 فروری 1978 کو مہاراشٹرا کے شہر ممبئی میں پیدا ہوئے۔ دائیں ہاتھ کے بہترین افتتاحی بلے بازی کے ساتھ ساتھ وقتاً فوقتاً دائیں ہاتھ کے آف بریک گیند بازی بھی کیا کرتے تھے۔ رنجی ٹرافی میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی کا ریکارڈ قائم کیا۔

اپنے شروعاتی دور میں مشہور رنجی کھلاڑی امول مجومدار کو رنز میں پیچھے چھوڑ دیا۔ رنجی میں نومبر 2018 میں 11000 رنز بنانے والے پہلے بلے باز کا ریکارڈ بھی وسیم جعفر کے نام ہے۔ اس وقت جنوری 2019 میں اپنے 146 ویں میچ میں مدھیہ پردیش کے دیویندر بندیلا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے سب سے زیادہ رنجی کھیلنے والے کھلاڑی کا ریکارڈ بھی قائم کیا۔

وسیم جعفر کو بچپن ہی سے کرکٹ میں بہت زیادہ دلچسپی تھی۔ جس کی وجہ سے اپنے اسکولی زمانے سے کرکٹ کے میدان میں نظر آنے لگے۔ اور پندرہ سال کی عمر میں 400 رنز کی ناٹ آوٹ اننگ کھیلی۔ جس کی وجہ سے فرسٹ کلاس کرکٹ میں بہت جلد جگہ ملی۔

فرسٹ کلاس کرکٹ میں وسیم جعفر نے شاندار آغاز کرتے ہوئے اپنے دوسرے ہی میچ میں 314 رنز کی ناٹ آوٹ شاندار اننگ کھیلی۔ ان کی اس بہترین اننگ کی وجہ سے ممبئی کے لیے پہلی شاندار سیریز ثابت ہوئی۔

یہ پہلا ایسا موقع تھا جب کسی بلے باز نے گھر سے باہر دور رہ کر ممبئی کے لیے ٹریپل سنچری بنائی۔ اپنے ساتھی افتتاحی بلے باز کلکرنی کے ساتھ ایک بہت بڑی459 رنز کی اشتراکی اننگ کھیلی۔ یہ جوڑی ممبئی کی جانب سے 400 سے بھی زائد رنز بنانے والے کھلاڑی کا ریکارڈ قائم کیا۔ اس وقت انڈین ایکسپریس نے اپنے اسپورٹس کالم میں لکھا ” 675 منٹس پچ پر کھڑے رہنے کے باوجود مزاج ایسا تھا کے یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا کہ وسیم جعفر اپنا دوسرا میچ کھیل رہے ہیں۔

اس زیادہ قابل تعریف بات یہ تھی کہ ان میں اپنی مرضی سے رنز بنانے کی صلاحیت دکھائی دے رہی تھی”۔

وسیم جعفر نے اپنے غیر ملکی کھلاڑی کی حیثیت سے ہڈرز فیلڈ ریکس لیگ میں scholes cc کی نمائندگی بھی کی۔ 2010 کے سیزن کے لیے وہاں کے کرکٹ کلب گئے اور ایک ہی سیزن میں رنز بنانے کا لیگ ریکارڈ بھی توڑا۔ 2011 کے سیزن میں وسیم جعفر نے برمنگھم اور ڈسٹرکٹ پریمئیر لیگ ہملی سی سی کلب سے معاہدہ کیا۔

وسیم جعفر نے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ 24 فروری 2000 میں ساؤتھ افریقہ کے خلاف کھیلا۔ اور 11 اپریل 2008 میں اپنا آخری ٹیسٹ میچ بھی ساؤتھ افریقہ کے خلاف ہی کھیلا۔ یک روزہ کرکٹ کا آغاز 22 نومبر 2006 کو ساؤتھ افریقہ کے خلاف کھیلا۔ اور 29 نومبر 2006 میں آخر یک روزہ میچ ساؤتھ افریقہ کے خلاف رہا۔ فرسٹ کلاس کرکٹ ممبئی کے لیے 2015-1996 تک۔ 20-2015 ودربھ سے کھیلا۔ 09-2008 آئی پی ایل رائل چیلنجرز بنگلور کی طرف سے کھیلا۔

ٹیسٹ میچ کا سفر کچھ اس طرح رہا۔ 31 ٹیسٹ میچ میں 1944 رنز بنائے جس میں پانچ سنچریوں کے ساتھ گیارہ نصف سنچریاں شامل ہیں۔ بہترین کارکردگی رہی 212 رنز اور 27 بہترین کیچ رہے۔ گیند بازی میں 18 رنز دے کر دو وکٹ حاصل کی۔ یک روزہ میچوں میں دو میچ کھیلے جس میں صرف دس رنز بنائے اور یہی ان کا بہترین اسکور رہا۔

فرسٹ کلاس میچوں میں 260 میچوں کی بہترین اننگز کھیلتے ہوئے 19410 رنز بنائے جس میں 57 سنچریاں اور 92 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ بہترین اسکور رہا 314 رنز ناٹ آؤٹ کے ساتھ بہترین 297 کیچ بھی شامل ہیں۔ اسی طرح لسٹ اے محدود اوور کرکٹ کے 118 میچوں 4849 رنز بنائے جس میں دس سنچریاں اور 33 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ لسٹ اے میچ میں بہترین اسکور 178 رنز ناٹ آؤٹ رہا۔ اور 45 شاندار کیچ۔

وسیم جعفر کے ٹیسٹ میچ کے سفر میں پانچ سنچریوں میں دو ڈبل سنچریاں بھی شامل ہیں۔ انھوں نے پاکستان، انگلینڈ، ویسٹ انڈیز، اور جنوبی افریقہ کے خلاف سنچریاں بنائیں۔

2013 کے سیزن میں وسیم جعفر نے انگلینڈ کا سفر کیا۔ جہاں انھوں نے ایل ڈی سی سی لیگ اور دیگر لیگ کے لیے کھیلا۔ یہاں وہ سیزن کے پہلے مرحلے میں متعدد سنچریاں بنائیں اس وقت ان کا اسٹرائیک ریٹ 93.97 کا اوسط تھا۔ جس میں ان کی بہترین کارکردگی رہی 153 رنز ناٹ آوٹ۔ گھٹنے میں چوٹ لگنے کی وجہ سے انھیں علاج کے لیے واپس ہندوستان آنا پڑا۔

وسیم جعفر نے 2015 میں رنجی سیزن کے لیے ودربھ کا رخ کیا۔ اور 2018 میں ودربھ سے رنجی ٹرافی میں دہلی کے خلاف کھیلتے ہوئے فائنل میچ میں فتح کی باؤنڈری ماری اور ودربھ کو فتح دلائی۔ اگلے ہی سال میں اپنے فرسٹ کلاس کرکٹ میں اپنی 55 ویں سنچری بنائی اور اسی سال کے آخر میں رنجی میں سب سے زیادہ میچ کھیلنے کا ریکارڈ قائم کیا۔ اور 19-2018 میں رنجی ٹرافی گروپ مرحلے میں ودربھ کے لیے آٹھ میچوں میں 763 رنز کے ساتھ سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ بھی بنایا۔

ٹورنامنٹ کے کوارٹر فائنل میچ میں اترا کھنڈ کے خلاف وسیم جعفر نے 19000 رنز مکمل کئے۔20-2019 میں رنجی ٹرافی کے ابتدائی دور میں 150 میچ کھیلنے والے پہلے کرکٹر بنے۔ اس کے بعد وسیم جعفر نے تمام طرز کی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔

وسیم جعفر کی افتتاحی بلے باز کے طور پر ان میں محمد اظہر الدین کے طرز انداز سے مشابہت کو دیکھتے ہوئے بہت زیادہ توقع کی جارہی تھی۔ کیونکہ وسیم جعفر نے سال 2000 میں جنوبی افریقہ کے خلاف گھریلو سیریز میں ٹیسٹ میچ کا آغاز کیا۔

اپنی چار اننگز میں صرف 46 رنز ہی بنا سکے۔ انھیں دوسری مرتبہ 2002 میں ویسٹ انڈیز دورہ کے لیے ٹیم میں شامل کیا گیا۔ اس وقت وسیم جعفر نے برج ٹاؤن میں 51 اور اینٹیگوا میں بہترین 86 رنز بنائے۔ ان کے لیے ایک قابل احترام سیریز رہی۔ اس کے بعد دوسرا سیزن انگلینڈ دورے کے لیے ایک مرتبہ پھر وسیم جعفر کا انتخاب کیا گیا۔

وہاں پر انھوں نے لارڈز میں سنچری بنائی۔ مگر اس کے بعد کچھ مشکلیں پیش أنے کی وجہ سے انھیں دو ٹیسٹ میچ میں موقع نہیں دیا گیا۔ہندوستان میں اگلے سیزن میں انگلینڈ کے خلاف ناگپور ٹیسٹ میں اپنی پہلی سنچری بنائی۔ اور پھر جون 2006 میں ویسٹ انڈیز دورے کے وقت اینٹیگوا میں 212 رنز کے ذریعےاپنی پہلی ڈبل سنچری بنائی۔

کیریبین میں ہندوستانی بلے بازوں میں ڈبل سنچری بنانے والے دوسرے نمبر پر وسیم جعفر ہیں۔ اسی سال جولائی 2006 میں ویریندر سہواگ کے ساتھ ہندوستان کے پہلے افتتاحی بلے باز کے طور پر ان کی پوزیشن کی تصدیق بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ انڈیا کے طرف سے کی گئی۔

وسیم جعفر نے ہر طرز کے کرکٹ میں شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا چاہے وہ رنجی ٹرافی رہی ہو یا اور بھی فرسٹ کلاس میچ رہے ہو۔ مگر جب انھیں 2006 میں یک روزہ میچوں کے لیے ان کا انتخاب، جنوبی افریقہ کے خلاف موقع دیا گیا۔ اپنے دونوں یک روزہ میچوں میں ان کی مایوس کن کارکردگی رہی جس کی وجہ سے ان کو یک روزہ میچ سے الگ رکھا گیا۔

مگر وسیم جعفر نے ٹیسٹ میچ میں اپنی بہترین کارکردگی کو قائم رکھتے ہوئے تیسری ٹیسٹ سنچری نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کے خلاف بنائی۔ بنگلہ دیش کے چٹگانگ میں سیریز کے دوران ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وسیم جعفر ریٹائرمنٹ کے قریب نظر آرہے ہے۔ مگر 138 رنز کی شاندار اننگز کے ساتھ واپسی کی۔ اس کے بعد کلکتہ کے ایڈن گارڈن میں پاکستان کے خلاف سال 2002 میں دوسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگ میں شاندار 202 رنز بنائے۔

وسیم جعفر کی عمدہ کارکردگی اور وسیع تجربہ کو دیکھتے ہوئے انھیں بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کا کوچ مقرر کیا گیا۔ اس کے بعد انھیں کنگز الیون پنجاب کا بیٹنگ کوچ مقرر کیا گیا۔ انھیں اترا کھنڈ کا ہیڈ کوچ مقرر کیا گیا۔ اس کے بعد انھیں اڑیسہ کرکٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ مقرر کیا گیا۔

وسیم جعفر نے 2021 میں اترا کھنڈ کے ہیڈ کوچ سے اس لیے استعفیٰ دیا تھا کہ ان پر الزام عائد کیا گیا کہ وسیم جعفر تعصبی نگاہ رکھتے ہیں۔ اور اتراکھنڈ ٹیم میں مسلم کھلاڑیوں کو پروموٹ پر زور دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ڈریسنگ روم میں نماز کے لیے مولیوں کو لاتے ہے۔

وسیم جعفر نے تمام الزام کی تردید کی۔ جس کے بعد متعدد کرککٹرز ان کی حمایت میں سامنے آئے، مگر وسیم جعفر نے یہ سوچا کہ مذہب کو نشانہ بنایا جارہا ہے بہتر ہے استعفیٰ دیا جائے۔ انھوں نے استعفیٰ کو اہمیت دی۔

سلام بن عثمان

٭٭٭٭

متعلقہ خبریں

Back to top button