قومی خبریں

ہریدوار دھرم سنسد نفرت انگیز تقریر کیس: سپریم کورٹ کا اتراکھنڈ حکومت کو نوٹس، 10 دنوں میں جواب طلب

نئی دہلی ،12؍ جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سپریم کورٹ ہریدوار دھرم سنسد میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقریر کے معاملے کی جانچ کرے گی۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے بدھ کو اتراکھنڈ حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس سے جواب طلب کیا ہے۔ اتراکھنڈ حکومت کو 10 دن کے اندر جواب دینے کو کہا گیا ہے۔

نیز عدالت نے مرکز اور دہلی پولیس کو بھی نوٹس دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے درخواست گزار کو آزادی دی ہے کہ وہ 23 جنوری کو علی گڑھ میں ہونے والی دھرم سنسد کو روکنے کے لیے مقامی اتھارٹی سے رجوع کر سکتے ہیں۔بدھ کو سپریم کورٹ نے پٹنہ ہائی کورٹ کی سابق جج جسٹس انجنا پرکاش اور صحافی قربان علی کی درخواست پر سماعت کی۔ انہوں نے مسلم کمیونٹی کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کے واقعات کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) کے ذریعہ آزادانہ، قابل اعتماد اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنے کی ہدایت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ ہریدوار، اتراکھنڈ میں منعقدہ دھرم سنسد میں ہندو سادھوؤں اور دیگر لیڈروں نے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے اور ان کی مبینہ نسل کشی کی اپیل کی تھی۔درخواست پر سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) این وی رمنا نے کہا کہ ہم اس معاملے میں ابھی کچھ نہیں کہنا چاہتے۔ ہم ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کریں گے اور جواب طلب کریں گے۔

قبل ازیں درخواست گزار کی جانب سے کپل سبل نے کہا کہ میں معاملے کو سنسنی خیز نہیں بنانا چاہتا۔ کورٹ ٹرانسکرپٹ پڑھے۔ اس معاملے میں مرکز کو بھی نوٹس بھیجا جائے تاکہ معاملے کی جلد سماعت ہو۔ علی گڑھ میں 23 تاریخ کو دوبارہ دھرم سنسد منعقد ہو رہی ہے۔

تشار گاندھی کی جانب سے ایڈوکیٹ اندرا جے سنگھ نے کہا کہ ہم نے مداخلت کی درخواست بھی دائر کی ہے۔ سپریم کورٹ کے پہلے کے احکامات پر عمل ہو۔ ہم روک تھام چاہتے ہیں۔سی جے آئی نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ دوسری بنچ ایسے کیس کی سماعت کر رہی ہے۔

جسٹس کھانولکر کی بنچ اسی طرح کے ایک کیس کی سماعت کر رہی ہے۔ اس پر سبل نے کہا کہ ہمارے پاس ایک نئی عرضی ہے۔ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ جسٹس کھانولکر نے آپ کو بھیجا ہے۔ کوئی کیس زیر التوا نہیں ہے۔درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ دوسرے بنچ میں نفرت انگیز تقاریر کے معمول کے مقدمات ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button