نٹھاری جیسا معاملہ: نجی اسپتال کے بائیو گیس پلانٹ سے انسانی کھوپڑیاں اور ڈھانچہ برآمد
غیر قانونی طور پرکرایا جاتا تھا اسقاط حمل
ممبئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مہاراشٹر کے وردھا ضلع سے نٹھاری واقعہ جیسا معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہاں کے ایک نجی اسپتال سے انسانی ڈھانچے اور کھوپڑیاں برآمد ہوئی ہیں۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کردی۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ انسانی ڈھانچے کس کے ہیں۔دراصل معاملہ وردھا کے آر وی علاقے کے قدم اسپتال کا ہے۔
جب پولیس غیر قانونی اسقاط حمل کیس کی تحقیقات کے لیے یہاں آئی تو بائیو گیس پلانٹ کی تحقیقات کرنے پرہوش اڑ گئے۔ پلانٹ سے 11 انسانی کھوپڑیاں اور 56 جنین کی ہڈیاں ملی ہیں۔ پولیس نے ہسپتال سے سونوگرافی مشین کے کاغذات ضبط کر لیے ہیں۔
ساتھ ہی پولیس نے بتایا کہ اسپتال کی ڈاکٹر ریکھا کدم اور ایک نرس کو بھی 13 سالہ لڑکی کے غیر قانونی اسقاط حمل کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک 13 سالہ نابالغ بچہ حاملہ ہو گئی اور اسے قدم ہسپتال میں 30 ہزار روپے میں غیر قانونی طور پر اسقاط حمل کر دیا گیا۔
اس کے بعد متاثرہ لڑکی کے والدین اور ملزم لڑکے کے درمیان لڑائی شروع ہوگئی۔ جب معاملہ پولیس تک پہنچا تو اس کا پردہ فاش ہوا اور پولس نے نابالغ نوجوان اور اس کے والدین بشمول ڈاکٹر ریکھا کدم کو اسقاط حمل کے الزام میں گرفتار کرلیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ تمام ڈھانچوں کو طبی معائنے کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔
اس کے ساتھ یہ بھی جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ہسپتال نے ان جنین کا اسقاط قانونی طور پر کیا تھا یا غیر قانونی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسپتال انتظامیہ نے 18 سال سے کم عمر لڑکی کا اسقاط حمل کرنے سے قبل حکام کو آگاہ نہیں کیا تھا۔



