بین ریاستی خبریں

دہلی : اومیکرون کا کمیونٹی ٹرانسمیشن ،تحقیق میں’حیران کن‘ حقائق عیاں

نئی دہلی ،15جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اومیکرون ویرینٹ کی وجہ سے دنیا بھر میں کرونا وائرس کے انفیکشن کے معاملات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ یہ ویری ینٹ ہندوستان میں کرونا کی تیسری لہر کی وجہ بھی ہے۔ راجدھانی دہلی میں اومیکرون کے کمیونٹی ٹرانسمیشن کے ثبوت ملے ہیں۔ یہ بات ایک مبینہ تحقیق میں سامنے آئی ہے۔

اس تحقیق میں ان تمام افراد کا ڈیٹا شامل کیا گیا تھا ،جو اومیکرون سے متاثر تھے۔ تحقیق میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ دہلی میں بریک تھرو انفیکشن کے معاملات میں اضافہ ہوا ہے ۔ اسپتال میں داخل ہونے کی شرح کم ہوئی اور زیادہ تر متاثرہ افراد میں علامات کم تھیں۔

اس تحقیق میں شامل محققین کا خیال ہے کہ اومیکرون نے انفیکشن کے کیسز میں ڈیلٹا ویرینٹ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور اس کی بنیادی وجہ کمیونٹی ٹرانسمیشن ہے۔ یہ ملک میں کی گئی پہلی تحقیق ہے۔تحقیق سے پتا چلا ہے کہ اومیکرون ویرینٹ سے متاثرہ 60.9% مریضوں کا کوئی بین الاقوامی سفری ریکارڈ نہیں تھا، اس لیے انفیکشن یقینی طور پر مقامی تھا۔

اس قسم کی کمیونٹی ٹرانسمیشن وبائی امراض پر قابو پانے میں چیلنجوں کا باعث بن سکتی ہے۔خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق انسٹی ٹیوٹ آف لیور اینڈ بلیری سائنسز کے شعبہ کلینیکل وائرولوجی نے دہلی میں ہونے والی اس تحقیق کے ذریعہ اومیکرون کی ابتدائی کمیونٹی ٹرانسمیشن کا پتہ لگایا ہے۔

اس تحقیق کے مطابق اومیکرون کے 60 فیصد کیسز غیر علامتی تھے اور انہیں ہسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں تھی۔ جبکہ 87 فیصد لوگ مکمل ویکسین لے چکے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button