
سنگِ ماہ، عاطف اسلم کا ڈیبیو ڈرامہ
ممبئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) ’او پروردگارا۔۔۔ تیرے ہلمند نے ہے تجھے پکارا۔۔۔ خودکشی میں اگر نہ ہوتا آخرت کا خسارا تو تیرا ہملند گردن میں پھندا ڈال کے جھول جاتا۔۔۔ خود کو مار دیتا اور کھوپڑی میں سیسہ اُتار لیتا۔۔۔ اپنے لب سی جاتا اور زہر کا پیالہ پی جاتا۔‘بلآخر عاطف اسلم کے فینز کا انتظار ختم ہوا اور ڈرامہ سیریل ’سنگِ ماہ‘ کی پہلی قسط نشر ہوئی۔
سوشل میڈیا پر نظر دوڑائیں تو بظاہر یہی نظر آتا ہے کہ ’ہملند خان‘ کے کردار میں عاطف اسلم کی انٹری نے سب کے دل جیت لیے ہیں۔
جہاں ایک طرف گلوکار عاطف اسلم ’سنگ ماہ‘ میں ڈیبیو کر رہے ہیں، وہیں اس ڈرامے کی دیگر کاسٹ میں ثانیہ سعید، سامیہ ممتاز، نعمان اعجاز اور ان کے بیٹے زاویار اعجاز، کبریٰ خان، ہانیہ عامر اور میکال ذوالفقار شامل ہیں۔اس ڈرامے کے ہدایت کار سیفی حسن ہیں، جنھوں نے سنہ 2016 میں نشر ہونے والے سنگِ ماہ کے پہلے سیزن ’سنگ مرمر‘ کی ہدایات کاری کی تھی۔
’سنگِ مرمر‘ کی طرح ’سنگِ ماہ‘ کی کہانی بھی پاکستان کے قبائلی علاقہ جات کی فرسودہ روایات اور رسم و رواج کے گرد گھومتی ہے اور اس ڈرامے میں قبائلی روایت ’غگ‘ یا ’ژغ‘ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔اس ڈرامے پر آنے والے سوشل میڈیا ردعمل پر نظر ڈالنے سے قبل پڑھیے کہ ’غگ‘ کی رسم کیا ہے اور فی الحال پاکستان میں اس کی قانونی حیثیت کیا ہے۔
’غگ‘یا ’ژغ‘ کی رسم کیا ہے؟
غگ پشتو زبان کا لفظ ہے جس کے معنی آواز لگانے یا اعلان کرنے کے ہیں۔ یہ قدیم روایت بیشتر قبائلی علاقوں میں رائج تھی اس روایت کے تحت جس بھی مرد کو کوئی خاتون پسند آ جاتی تھی تو وہ اس خاتون کے گھر آ کر شادی کا اعلان کر دیتا تھا کہ یہ خاتون اب میری ہے، اسے غگ یا ژغ کہتے ہیں۔
اس رسم کے تحت اگر برادری کا کوئی شخص کسی خاتون سے شادی کا اعلان کرتا ہے تو برادری کا کوئی اور شخص اس خاتون کے لیے رشتہ نہیں بھجواتا اور اس خاتون کے لیے شادی کے رشتے آنا بند ہو جاتے تھے۔اس روایت یا رسم کے زیادہ تر واقعات بھی جنوبی علاقوں خاص طور پر جنوبی وزیرستان میں پیش آتے رہے ہیں۔
اس روایت کے تحت اس میں خاتون، اس کے والدین یا رشتہ داورں کی رضامندی کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی تھی۔اس فرسودہ روایت کے تحت بعض اوقات لوگوں کا مقصد خاتون سے شادی کرنا نہیں ہوتا تھا بلکہ خاتون کے خاندان کو تنگ کرنا یا اپنی شرائط پر ان سے معاملات طے کرنا ہوتا تھا۔
یہ رسم بنیادی طور پر جنوبی وزیرستان سے شروع ہوئی اور پھر صوبے کے دیگر علاقوں تک پھیل گئی۔شیر عالم شنواری کلچر ثقافت اور تاریخی واقعات پر گہری نگاہ رکھتے ہیں اور ان سے متعلق ڈان اخبار میں لکھتے رہتے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ یہ ایک انتہائی بدترین رسم تھی جسے 2012 میں ایک قانون کے تحت قابل گرفت جرم بنا دیا گیا ہے۔



