شاہی امام مولانابخاری کے دامادکے خلا ف بھی امیدواراتارا
نئی دہلی17جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) اس بار اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی کی پارٹی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) بھی قسمت آزمائی کر رہی ہے۔ اویسی نے یوپی انتخابات کے لیے 8 امیدواروں کی دوسری فہرست جاری کی ہے۔اویسی سوسیٹوں پرالیکشن لڑنے پر بضد ہیں جس سے بی جے پی کوفائدہ ہونا یقینی ہے۔ابھی ملک کے معروف عالم دین مولاناخلیل الرحمن سجادنعمانی نے خط لکھ کراویسی کومخلصانہ مشورہ بھی دیاہے کہ جتنی سیٹوں پران کی کامیابی یقینی ہے،اتنے پرہی الیکشن لڑیں،باقی سیٹوں پر اتحاد کو ووٹ دیں۔
زیادہ سیٹوں پرلڑنے سے سیدھا فائدہ بی جے پی کو ملے گا۔ابھی مقابلہ سخت گیرہندوتواسے ہے ،اکثریت کواقلیت کامخالف نہیں بنایاجاسکتا۔لیکن اویسی اپنی ضد پر مصر ہیں،یہی نہیں،انھوں نے شاہی امام مولانااحمدبخاری کے داماد اور ایس اپی امیدوارمحمدعمرکے خلاف بھی امیدواراتاردیاہے جس سے بیہٹ،سہارنپورمیں امجدعلی اورمحمدعمرکے درمیان ووٹ کی تقسیم ہوگی اوریہاں بی جے پی جیتنے کے لیے مطمئن ہوگئی ہے۔
یہی حال وہ دوسری سیٹوں پرکرنے والے ہیں۔حیدرآباد میں اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے کہا کہ ہم نے آنے والے یوپی اسمبلی انتخابات کے لیے100 سیٹوں پر مقابلہ کرنے کی تیاری کر لی ہے۔ امیدواروں کی دو فہرستیں جاری کر دی گئی ہیں۔ دیگر مراحل کے لیے مزید امیدواروں کا اعلان کیا جائے گا۔
اویسی نے کہاہے کہ ہم نے الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق ورچوئل ریلیوں کے انعقاد کے انتظامات کیے ہیں۔اے آئی ایم آئی ایم کی طرف سے جاری کردہ دوسری فہرست میں پنڈت منموہن جھا (صاحب آباد، غازی آباد)، انتظار انصاری (مظفر نگر صدر)، طاہر انصاری (چارتھوال مظفر نگر)، طالب صدیقی (بھوجپور، فرخ آباد)، صادق علی (جھانسی صدر)، شیر افغان (رودولی) ، توفیق پردھان (بیتھری چین پور، بریلی)، ڈاکٹر عبدالمنان (اتھراولی، بلرام پور) کو امیدوار بنایا گیا ہے۔
اویسی نے پہلی فہرست میں صرف مسلم امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے جبکہ اس دوسری فہرست میں 7 مسلم امیدواروں کو موقع دیا گیا ہے۔



