
نوجوان ٹیم (انڈر-19) کے کامیاب کپتان، بہترین بلے باز اور کور فیلڈر: محمد کیف۔
سلام بن عثمان
یکم دسمبر 1980 کو یوپی کے آلہ آباد شہر میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے۔ والد ریلوے میں ملازمت کرتے ہوئے اتر پردیش رنجی ٹرافی کے لیے کھیلا کرتے تھے۔ بھائی محمد سیف بھی مدھیہ پردیش اور اتر پردیش کے لیے نمائندگی کی۔ محمد کیف کو کرکٹ کا ہنر گھر ہی سے ملا۔ والد کے ساتھ میدان پر جانا آنا بچپن سے ہی تھا۔ جس کی وجہ سے محمد کیف کو کرکٹ میں بہت زیادہ دلچسپی تھی۔
محمد کیف نے کرکٹ کو ترجیح دی اور اتر پردیش رنجی ٹرافی کھیلتے ہوئے کلائی کے اسٹروک کے ذریعے شہرت حاصل کی۔ ساتھ ہی کور پرفیلیڈنگ میں شناخت بنائی۔ سال 2000 میں انڈر 19 کی ٹیم انڈیا کی کپتانی کرتے ہوئے ورلڈ کپ میں فتح حاصل کی۔
محمد کیف سال 2005 تک اتر پردیش کے ان کھلاڑیوں میں سے ایک تھے جنھوں نے بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کی نمائندگی کی۔ چاہے یک روزہ میچ ہو یا ٹیسٹ میچ۔ ان کھلاڑیوں کو مسلسل ٹیم انڈیا میں جگہ ملی جن میں محمد کیف، سریش رائنا، پروین کمار، رودر پرتاپ سنگھ شامل ہے۔ محمد کیف سینٹرل زون اور اتر پردیش دونوں ٹیموں کے کپتان تھے۔ اس وقت محمد کیف راہل دراوڑ کی غیر موجودگی میں 06-2005 کی چیلنجر ٹرافی میں کپتانی بھی کی۔
ویسے تو 20 سال کی عمر میں محمد کیف نے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ سال 2000 میں جنوبی افریقہ کے خلاف بنگلور میں کھیلا اور نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے پہلے انٹیک کھلاڑی منتخب ہوئے۔ سال 2002 کے نیٹ ویسٹ سیریز کے فائنل میں محمد کیف کی بہترین کارکردگی رہی 75 گیندوں میں 87 شاندار رنز بنائے۔
اس وقت ٹیم انڈیا کو پہلی مرتبہ 326 رنز کا تعاقب کرنا تھا۔ بہت مشکل مرحلہ تھا مگر محمد کیف کی کوشش اور جد جہد نے کھیل کے رخ کو موڑا اور ہندوستان کو فتح حاصل ہوئی۔
محمد کیف کو پہلا مین آف دی میچ کا ایوارڈ ملا۔ اس کے بعد بنگلہ دیش کے ساتھ تینوں یک روزہ میچوں میں بہترین کارکردگی کی وجہ سے محمد کیف کو مین آف دی سیریز سے نوازا گیا۔ اسی سال آسٹریلیا کے خلاف دو نصف سنچریاں بنا کر ٹیم میں واپسی کی۔ محمد کیف میدان میں بہترین کور فیلڈنگ کے لیے مشہور تھے۔
پچ پر وکٹوں کے درمیان بھی ان کی تیز دوڑ دیکھنے لائق تھی۔ کور فیلڈنگ میں چستی اور گیند کو وکٹ کیپر کے پاس تیزی سے پھینکنے کا طرز انداز ایسا تھا کہ بلے باز آؤٹ ہو جاتا یا پھر رن لینے سے اپنے آپ کو روک لیتا، اس طرح کیف کی فیلڈنگ کی وجہ سے مخلاف ٹیم کے بلے بازوں کو رنز بنانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ ورلڈ کپ کے ایک میچ میں چار کیچیز لینے کا ریکارڈ بھی محمد کیف کے پاس ہے۔
ویسے تو محمد کیف بلے بازی میں درمیان صف کے بہترین کھلاڑی میں ان کا شمار تھا۔ ٹیم انڈیا کا بھی رجحان محمد کیف کو درمیان میں بلے بازی کرانا تھا۔ اکثر محمد کیف کو شروعاتی وقت میں تین نمبر یا چار نمبر پر بلے بازی کے لیے بھیجا جاتا تھا۔ اور کبھی نمبر سات پر بھی بھیجا جاتا۔ مگر جب کبھی محمد کیف سات نمبر پر بلے بازی کے لیے میدان پر آئے تو بہت شاندار اننگ کھیلی۔
سال 2006 میں محمد کیف کو ناگپور میں انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ کے لیے زخمی یوراج سنگھ کی جگہ شامل کیا گیا۔ محمد کیف نے بہترین 91 رنز بناتے ہوئے ٹیسٹ میچ کو ہار کی گرفت سے باہر نکالا اور فتح دلائی۔ اس کے بعد سچن ٹینڈولکر کے زخمی ہونے کے بعد۔ ویسٹ انڈیز میں دوسرے ہی ٹیسٹ میچ میں 148 رنز کی ناٹ آؤٹ اننگ کھیلی۔ محمد کیف نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی پہلی ٹیسٹ سنچری بنائی۔
مائیکل بیون نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا "محمد کیف کا وکٹوں کے درمیان تیز دوڑ، بہترین بلے بازی کا طرز انداز میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھیل کے بدلتے رخ اور کم باؤنڈری کے بغیر نشانہ کا تعاقب کرنا محمد کیف میں ایک بے مثال صلاحیت ہے۔” میدان میں محمد کیف اکثر یوراج سنگھ کے ساتھ فیلڈنگ میں ایک بہترین جوڑی دیکھی گئی ہے۔ یوراج سنگھ پوائنٹ اور محمد کیف کور پر فیلڈنگ پر اگر ہو تو مخلاف ٹیم کے حوصلے پست ہوجاتے۔
محمد کیف نے پہلا ٹیسٹ میچ 2 مارچ 2000 میں ساؤتھ افریقہ کے خلاف کھیلا۔
30 جون 2006 میں آخری ٹیسٹ میچ ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلا۔
پہلا یک روزہ میچ 28 جنوری 2002 میں انگلینڈ کے خلاف کھیلا۔
آخری یک روزہ میچ 29 نومبر 2006 کو ساؤتھ افریقہ کے خلاف کھیلا۔
13 ٹیسٹ میچوں 624 رنز بنائے جس میں ایک سنچری اور تین نصف سنچریاں شامل ہے۔ بہترین اسکور 148 رنز ناٹ آؤٹ اور 14 کیچ بھی شامل ہے
125 یک روزہ میچوں میں 2753 رنز کی بہترین اننگز میں دو سنچریاں اور 17 نصف سنچریوں کے ساتھ بہترین 111 رنز کے ساتھ 55 کیچیز ۔
129فرسٹ کلاس میچوں میں 7581 رنز، 15 سنچریاں اور 45 نصف سنچریاں۔ بہترین کارکردگی میں 202 رنز ناٹ آؤٹ۔
گیند بازی میں 20 وکٹوں کو نشانہ بنایا۔ بہترین گیند بازی چار رنز دے کر تین قیمتی وکٹیں اور 116 کیچیز۔
سال 2008 میں آئی پی ایل کے افتتاحی میچ میں راجستھان رائلز اور 2011 میں رائل چیلنجرز بنگلور کے طرف سے نمائندگی کی۔ سال 2017 میں گجرات آئی پی ایل بریڈ ہوڈ کا اسسٹنٹ کوچ نامزد کیا گیا۔ اور سال 2020 میں دہلی کیپیٹلز کے اسسٹنٹ کوچ پر فائز رہے۔
سال 2014 میں انڈین نیشنل کانگریس پارٹی میں شامل ہوئے۔ اور اتر پردیش کے پھول پور سے لوک سبھا کا الیکشن لڑا اور بی جے پی کے کیشو پرساد سے ہار گئے۔
2011 میں نوائیڈا کی ایک صحافی پوجا یادو سے شادی کی۔



