نیویارک ، 18:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ڈبل روٹی کا سلائس ہمارے لیے ناشتے یا لنچ میں کھانے کی ایک معمول کی چیز ہے۔ لیکن امریکہ میں جب پہلی بار سلائس کی ہوئی ڈبل روٹی بازار میں فروخت کے لیے آئی تھی تو اس نے خریداروں کو حیران کر دیا تھا۔ لیکن کچھ ہی عرصے بعد اس پر لگنے والی اچانک پابندی نے بھی انہیں حیرت زدہ کر دیا تھا۔
سن 1928 سے قبل بیکری سے تیار ہونے والی ڈبل روٹی ثابت ہی فروخت ہوتی تھی اور اس کے استعمال کے لیے خریداروں کو اس کے سلائس خود کاٹنا پڑتے تھے۔ گھروں میں اکثر خواتینِ خانہ کو یہ کام کرنا پڑتا تھا جس کے لیے انہیں کافی تردد کرنا پڑتا تھا۔
امریکن سوسائٹی آف بیکنگ کے مطابق اوٹو روہویڈر نے سب سے پہلے اس مشکل کا ادراک کیا۔ وہ پیشے کے اعتبار سے سنار تھے اور ساتھ ہی نت نئی ایجادات میں دلچسپی رکھتے تھے۔اپنے زیورات کے اسٹور پر آنے والوں کی باتوں سے انہیں یہ اندازہ ہوا کہ بیکری سے تیار ہونے والی ڈبل روٹی کے برابر برابر سلائس کاٹنا ہر گھر کی مشکل ہے۔
انہوں نے اس مشکل کا حل نکالنے کا فیصلہ کیا اور 1912 میں بیکری میں تیار ہونے والی ڈبل روٹی کے سلائس کرنے کی مشین بنانے کی کوششوں کا آغاز کر دیا۔پہلے مرحلے میں وہ اس مشین کا ایک ابتدائی نمونہ یا پروٹوٹائپ بھی تیار کرنے میں کام یاب ہوئے لیکن اس ایجاد کو صنعتی پیمانے پر قابلِ استعمال بنانے کے لیے مزید کام درکار تھا۔اوٹو روہویڈیر کا زیورات کا کاروبار خوب چل رہا تھا لیکن ان کے سر پر ڈبل روٹی کے سلائس کرنے والی آٹو میٹک مشین ایجاد کرنے کا جنون سوار ہو چکا تھا۔
انہوں نے اس کام کے لیے علیحدہ ایک ورکشاپ تیار کرنے کے لیے اپنا زیورات کا اسٹور بیچ دیا۔ لیکن 1917 میں آتشزدگی کے واقعے میں ان کی ساری محنت ضائع ہو گئی۔
ورکشاپ میں آگ لگنے کے باعث روہویڈر کی سلائسنگ مشین کی ابتدائی ڈرائنگز اور پروٹوٹائپ جل کر خاکستر ہو گئے۔ لیکن روہویڈر نے ہمت نہ ہاری اور سلائسنگ مشین پر کام جاری رکھا۔ بالآخر 1928 میں ان کی کوششیں کام یاب ہوئیں اور وہ ڈبل روٹی کے سلائس کرنے والی آٹو میٹیک مشین تیار کرنے میں کام یاب ہو گئے۔
روہویڈر سے یہ مشین ریاست میزوری کی ایک بیکنگ کمپنی کے مالک نے خریدی اور سات جولائی 1928 کو پہلی بار سلائس کی گئی ڈبل روٹی فروخت کے لیے پیش کی گئی۔ایرون بیبرون اسٹرین کی کتاب ’’وائٹ بریڈ: اے سوشل ہسٹری آف دی اسٹور بوٹ لوف‘‘ کے مطابق ڈبل روٹی فروخت کرنے والے بیکرز نے بھی سلائس کی گئی ڈبل روٹی کی خوب تشہیر کی اور اسے ’بینکنگ کی صنعت کے لیے ایک تاریخی قدم‘ قرار دیا۔
سن 1939 میں دوسری عالمی جنگ شروع ہونے کے بعد امریکہ کے صدر فرینکلن روز ویلٹ نے جنگ کے دنوں میں انتظامی حکم نامے کے ذریعے آفس آف پرائس ایڈمنسٹریشن قائم کیا تھا۔امریکہ جریدے ’ٹائم‘ کے مطابق حکام اس بات پر قائل ہوچکے تھے کہ سلائسنگ مشین کی مانگ بڑھنے کی وجہ سے اسٹیل کی کھپت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس لیے جنگ میں سینکڑوں ٹن اسٹیل کی بچت کے لیے بھی یہ پابندی لگائی گئی تھی۔



