بہار اور آندھرا پردیش کے سکریٹریوں کو کیا طلب
نئی دہلی،19؍ جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سپریم کورٹ نے کورونا سے موت پر اہل خانہ کی مدد کے لیے 50 ہزار روپئے معاوضہ دینے کے حکم کے باوجود بہار اور آندھرا پردیش میں اہل خانہ تک یہ رقم نہ پہنچنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ آندھرا پردیش اور بہار کے چیف سکریٹریوں کو سپریم کورٹ نے طلب کیا ہے ،جسٹس ایم آر شاہ نے کہا کہ وہ قانون سے بالاتر نہیں ہیں۔
چیف سیکرٹری وجوہات بتائیں کہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کیوں نہ کی جائے۔بہار کے اعداد و شمار پر سوال اٹھاتے ہوئے بنچ نے کہا کہ یہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ کووڈ کی وجہ سے صرف 12,000 لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ جسٹس شاہ نے کہا کہ آپ ڈیٹا بھی اپ ڈیٹ نہیں کرتے۔ آپ کے مطابق صرف 12000 لوگ مرے ہیں۔ ہم اصلی حقائق چاہتے ہیں۔
ہمارے گزشتہ حکم کے بعد بہار کو چھوڑ کر باقی تمام ریاستوں میں مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔بنچ نے بہار کے وکیل سے کہا کہ آپ اپنے چیف سکریٹری کو حاضر ہونے کو کہیں۔ ہم یہ ماننے کو تیار نہیں ہیں کہ بہار میں 12000 صرف لوگ مرے ہیں۔ آندھرا پردیش حکومت سے ناراض سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ ریاست آندھرا پردیش کی طرف سے پوری طرح سے لاپرواہی کی گئی ہے۔
14471 مقدمات کے خلاف 36000 کے قریب دعوے موصول ہوئے۔ بدقسمتی سے 31,000 درخواستیں درست پائی گئیں لیکن صرف 11,000 دعویداروں کو ادائیگی کی گئی۔ایسا لگتا ہے کہ ریاستیں عدالت کے احکامات کو لے کر بالکل سنجیدہ نہیں ہیں۔ لوگوں کو ادائیگی نہ کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ مستحقین کو عدم ادائیگی ہمارے سابقہ حکم کی نافرمانی کے مترادف ہوگی۔ جس کے ذمہ دار چیف سیکرٹری ہیں۔



