نئی دہلی، 19جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) تہاڑ جیل میں بند ایک قیدی نے پولیس سے بچنے کے لیے موبائل فون نگل لیا، جس کی وجہ سے اسے جیل سے ڈی ڈی یو اسپتال میں داخل کرایا گیا، تاہم قیدی کی حالت نازک ہونے کی وجہ سے قیدی کو جی بی پنت اسپتال منتقل کردیا گیا۔ جہاں ڈاکٹروں نے اینڈو اسکوپی تکنیک کی مدد سے موبائل فون آپریشن کے بغیر نکال لیا۔
ڈاکٹروں نے موبائل فون کے سائز کو پیمانے سے ناپا تو یہ تقریباً ساڑھے چھ انچ لمبا اور تین انچ چوڑا تھا۔بھارت کے سب سے محفوظ ترین نظام میں ایک تہاڑ جیل پھر بحث میں ہے۔ جیل کے ڈائریکٹر جنرل سندیپ گوئل نے بتایا کہ 5 جنوری 2022 کو تہاڑ جیل نمبر 1 کے ایک قیدی نے موبائل فون نگل لیاتھا، جب ہمارے عملے نے تلاش کے لیے اس سے رابطہ کیا تو اس کا انکشاف ہوا۔
پولیس کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ واقعہ کے فوراً بعد قیدی کو پہلے دہلی کے دین دیال اپادھیائے اسپتال میں داخل کرایا گیا، لیکن قیدی کی حالت بگڑنے کے بعد اسے جی بی پنت اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جہاں ڈاکٹروں کی ٹیم نے قیدی کے پیٹ سے بغیر سرجری کے موبائل نکال لیا ۔ سندیپ گوئل نے کہاکہ اب قیدی کی حالت ٹھیک ہے، ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ قیدی کے پاس موبائل فون کہاں سے آیاتھا؟ اس کی تفتیش کی جا رہی ہے۔



