درخواست میں مسلم لیڈروں کو بھی گرفتارکرنے کامطالبہ ،ضمیراور مذہب کی آزادی کاحوالہ دیا
نئی دہلی23جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ہریدوار میں منعقد اشتعال انگیزدھرم سنسد کے معاملے میں اب ہندو سینا بھی سپریم کورٹ پہنچ گئی ہے اور دھرم سنسد میں نفرت انگیز تقاریر کی کارروائی کی مخالفت کی ہے۔اس دھرم سنسدپرپوری دنیامیں جم کربدنامی ہوئی اورسیکولرزم اورجمہوری قدروں کوعزیزرکھنے والے متعددافرادنے کارروائی کے لیے دبائو ڈالا تب سپریم کور ٹ میں داخل عرضی پرپولیس سے جواب مانگا گیا جس کے بعد کارروائی کی گئی ہے۔
اس کارروائی پربھی متعددسخت گیرتنظیمیں اشتعال انگیز بیان دینے والوں کے دفاع میں کود گئیں۔درخواست گزار نے یہ بھی کہاہے کہ اگر دھرم سنسد معاملے میں کارروائی کی جاتی ہے تومبینہ نفرت انگیز تقریر پر مسلم لیڈروں کو بھی گرفتار کیا جانا چاہیے۔
یہ بیان دبائوبنانے کی کوشش کے تحت دیکھاجاسکتاہے ۔اس کے علاوہ درخواست میں ہندو سینا کو فریق بنانے کا مطالبہ کیاگیا ہے۔ ہندو سینا کے صدر وشنو گپتا کی طرف سے داخل کی گئی اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ ریاستی حکومتوں کو ہدایت کی جائے کہ وہ نفرت انگیز تقریر کرنے پر اسد الدین اویسی، توقیر رضا، ساجد رشیدی، امانت اللہ خان، وارث پٹھان کے خلاف ایف آئی آر درج کریں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار صحافی قربان علی کا تعلق مسلم کمیونٹی سے ہے۔
انہیں ہندودھرم سنسد سے متعلق معاملات یا سرگرمیوں کے خلاف اعتراض نہیں اٹھانا چاہیے۔ ہندوؤں کے روحانی پیشواؤں کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہندو رہنماؤں کی طرف سے دھرم سنسد کے انعقاد کو کسی دوسرے مذہب یا عقیدے کے خلاف نہیں سمجھا جا سکتا اور نہ ہی سمجھا جانا چاہیے۔
مذہبی رہنماؤں کے بیانات غیر ہندو برادری کے ارکان کی طرف سے ہندو ثقافت اور تہذیب پر حملوں کے جواب میں تھے اور اس طرح کے جوابات نفرت انگیزتقریرکے دائرے میں نہیں آئیں گے۔جب تک انکوائری آفیسر کی طرف سے تفصیلی انکوائری نہیں کی جاتی، درخواست گزار کی طرف سے مبینہ نفرت انگیز تقریر کا سراغ نہیں لگایا جا سکتا۔ ہر بیان کو نفرت انگیز تقریر نہیں سمجھا جا سکتا۔
ہندوستان کا آئین تمام مذاہب کے ماننے والوں کو یکساں تحفظ فراہم کرتا ہے۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے، اس ملک کے ہر شہری کو ضمیر، عمل اور مذہب کی تبلیغ کی آزادی ہے۔ ہندوؤں کی طرف سے دھرم سنسدکے انعقاد کو ہندوستان کے آئین کا تحفظ حاصل ہے، اس لیے کیس میں درخواست گزار کا اعتراض آئینی حقوق کے خلاف اور ہندوؤں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔



