
لکھنؤ ، 24جنوری(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)بی جے پی نے اتر پردیش انتخابات میں اب تک 194 امیدواروں کے ٹکٹ فائنل کر لیے ہیں۔ ان میں ایک بھی مسلم امیدوار شامل نہیں ہے۔ مسلم اکثریتی مغربی اتر پردیش میں بھی بی جے پی نے کوئی مسلم امیدوار کھڑا نہیں کیا ہے۔
بی جے پی رہنما جمال صدیقی نے کہا ہے کہ پارٹی امیدواروں کو ان کی الیکشن جیتنے کی صلاحیت کی بنیاد پر ٹکٹ دے رہی ہے۔ انتخابات کے بعد حکومت اور پارٹی سماج کے تمام طبقات کے وکاس کے لیے کام کرتی ہے ، اور اس بار بھی ایسا ہی ہوگا۔۔ این ڈی اے کیمپ کی اپنا دل (ایس) پارٹی سے حیدر علی خان کو پہلی بار مسلم امیدوار کے طور پر میدان میں اتارا گیا ہے۔
وہ 2014 کے بعد یوپی میں این ڈی اے کیمپ سے پہلے مسلم امیدوار ہیں۔اترپردیش اسمبلی انتخابات کی تیاری کے دوران بی جے پی کے اقلیتی محاذ کے قومی صدر جمال صدیقی نے کارکنوں کو یقین دلایا تھا کہ وہ جیتنے کی بنیاد پر کارکنوں کو ٹکٹ دلانے کی کوشش کریں گے۔
اقلیتی محاذ نے تمام مسلم اکثریتی سیٹوں پر بی جے پی کے حق میں کم از کم 5000 مسلم ووٹ حاصل کرنے کی حکمت عملی بنائی تھی۔ اس کے لیے ہر اسمبلی میں 100 خصوصی کارکنوں کو تیار کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اقلیتی مورچہ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ پوری تیاری کے ساتھ انتخابات میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
بی جے پی اقلیتی مورچہ کے قومی صدر جمال صدیقی نے مزید کہا کہ انتخابات کے وقت جیتنا پارٹی کی سب سے بڑی ترجیح ہے۔ جیت کی بنیاد پر امیدواروں کو ٹکٹ دیئے جاتے ہیں۔ لیکن الیکشن جیتنے کے بعد پارٹی سماج کے تمام طبقوں کو حکومت میں شرکت یقینی بناتی ہے۔ پچھلی بار بھی 2017 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے کسی مسلم امیدوار کو ٹکٹ نہیں دیا تھا لیکن حکومت بننے کے بعد محسن رضا کو پارٹی میں لایا گیا اور اتر پردیش حکومت میں اقلیتی بہبود کا وزیر بنایا گیا۔
جمال صدیقی کے مطابق مرکز کی مودی حکومت اور اتر پردیش کی یوگی حکومت کی تمام اسکیمیں سماج کے تمام طبقات کے لیے ہیں۔ اسکیموں کا فائدہ پہنچانے میں مذہب، فرقہ، ذات، طبقے یا جنس کی بنیاد پر کسی کے ساتھ کوئی امتیاز نہیں برتا جاتا ہے۔



