قومی خبریں

چھتیس گڑھ : ملک کو ہندو راشٹر بنانے کا حلف لینے والے ملزمان کیخلاف ایف آئی آر

کوربا؍رائے پور ، 24جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانے کا حلف لئے جانے کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر دھڑلے سے وائرل ہو رہا ہے۔ اس ویڈیو کی بنیاد پر چھتیس گڑھ کے کوربا میں ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانے کا حلف لینے ملزمان اور کلیدی ملزم پرمود اگروال کیخلاف ایف آئی آر درج کرلیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ چھتیس گڑھ کے سرگوجا میں لاؤڈ اسپیکر لگا کرمسلمانوں کے خلاف سماجی بائیکاٹ کے حلف لئے جانے کا ویڈیو دسمبر کے مہینے میں وائرل ہوا تھا۔ اس کے بعد اب ضلع کوربا کے بانکی موگرا تھانہ علاقہ سے ملک کو ہندو راشٹر بنانے اور صرف ہندوؤں کو ہی اپنی کمپنی یا متعلقہ اداروں میں کام دینے کے حلف لئے جانے کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔

اگنی(آگ) کو ساکچھی (گواہ) مان کر ’’ہندو سورکچھا سینا‘ سے وابستہ افراد ملک کو ہندو راشٹربنانے کا حلف لیتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔چھتیس گڑھ کے کوربا میں ایک تاجر پرمود اگروال پر مذہبی شدت پسندی بھڑکانے کا الزام ہے۔

پرمود اگروال کا تعلق ہندوشدت پسند تنظیم سے بھی بتایا جاتا ہے۔ پرمود اگروال پر الزام ہے کہ اس کلیدی ملزم نے لوگوں کو اکٹھا کرکے ہندو راشٹر بنانے کا حلف لیا تھے، اور صرف ہندوؤں کو ہی ا پنی کمپنی اور گھروں میں کام دینے کا حلف بھی لیا ہے، اس کے لیے ملزمان نے اگنی(آگ) کو ساکچھی (گواہ) بنایا۔

اس طرح کے شدت پسندانہ حلف برداری کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس نے اس معاملہ میں تاجر پرمود اگروال اور دیگر ملزمان کیخلاف سٹی کوتوالی پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کیا ہے۔بتایا جا رہا ہے کہ یہ ویڈیو ہفتہ کو ٹوئٹر اور فیس بک پربھی پوسٹ کیا گیا تھا۔

رات کے وقت شوٹ گئے اس ویڈیو میں ملزمان آگ جلانے کے بعد دائرے میں کھڑے ہیں، ایک شخص لاؤڈ اسپیکر کے ذریعہ دیگر ملزمان سے ہندوستان کو ایک ہندو راشٹر بنانے کا حلف لیتا ہے ۔

نیز وہ ہندوؤں کی ہر طرح سے سماجی، مالی مدد کرنے اور اپنی کمپنی اور گھروں میں صرف ہندؤوں کو ہی کام دینے کا بھی حلف لیتا ہے ۔ ویڈیو کے آخر میں جے شری رام کا نعرہ بھی لگایا جاتا ہے ۔ کوربا پولیس نے ٹوئٹ کرکے بتایا کہ جانچ کے دوران پتہ چلا کہ معاملہ بانکی موگرا تھانہ علاقہ کا ہے۔

پولیس کے مطابق کلیدی ملزم تاجر پرمود اگروال کا تعلق ہندوشدت پسند تنظیم ’ہندوسورکچھا سینا ‘سے ہے، اس پردوسرے لوگوں کو جمع کر کے مذہبی ہم آہنگی بگاڑنے اور ناروا زبان کے استعمال کا الزام ہے ، پولیس نے سٹی کوتوالی تھانے میں پرمود اگروال اور دیگر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button