حافظ محمد الیاس چمٹ پاڑہ مرول ناکہ ممبئی
ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو ایک بار جیسے ہی پارلیمنٹ ہاؤس میں گاڑی سے اترے تو انہیں ایک بوڑھی خاتون نے پکڑ لیا بوڑھی عورت نے پوچھا، ملک تو آزاد ہو گیا، آپ وزیراعظم بن گئے ،لیکن مجھے کیا ملا؟
کہا جاتا ہے کہ نہرو نے جواب دیا کہ آپ اتنی آزاد ہیں کہ آپ ملک کے وزیر اعظم کا گریبان پکڑ سکتی ہیں کیا آزادی کے 75ویں سال میں اب ایسی آزادی باقی ہے؟ موجودہ وقت میں اس ملک کے عوام اپنے وزیر اعظم کےگریبان پکڑنا تو دور، ان سے سوال بھی نہیں کرسکتے ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں جس طرح کا خراب ماحول تیار کیا گیا ہے۔
اس میں اگر کوئی مودی کا گریبان پکڑنے کی بات تو دور اس بارے میں سوچ بھی لے اس کے خلاف غدار وطن کا مقدمہ درج کرادیا جائیگا وزیر اعظم کسی پارٹی کا نہیں بلکہ پورے ملک کا ہوتا ہےاور مودی اس ملک کے وزیراعظم ہیں ان کی حفاظت کے تعلق سےکسی طرح کی چوک برداشت نہیں کی جانی چاہئے اس لئے سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو مودی کے دورہ سے متعلق تمام ریکارڈ محفوظ رکھنے کی ہدایت دی ہے۔
سوال یہ بھی ہے کہ کیا اس ملک کےوزیر اعظم کوکسی دورے پرسڑک پر کچھ لوگوں کے اچانک نمودار ہونے سے اتنا خوفزدہ ہونا چاہیےکہ وہ واپس آتے ہوۓ کچھ افسروں سے کہے کہ اپنے وزیراعلی کا شکریہ ادا کرنا کہ میں زندہ واپس آگیا ہوں 56 انچ کا سینہ رکھنے والا وزیراعظم پر اس طرح کے بول کیا ان کے منصب کے منافی نہیں؟
یا پھر یہ بھی ایک سیاسی چال تھی؟ کیا وہ اپنی ایک ریلی میں اچانک مداخلت پر اتنا ناراض تھے کہ انہوں نے مظاہرین کے ساتھ صریح دشمنوں کا سلوک کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کردیا؟ کیاکانگریس کا یہ الزام واقعی درست ہے کہ خراب موسم کے بعد ہیلی کاپٹر سے نکل کر سڑک کا انتخاب کرنے والے وزیر اعظم اچانک اس لئے واپس آگئے کیونکہ فیروز پور میں خالی کرسیاں ان کا انتظار کر رہی تھیں یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کسی وزیراعظم یا اہم لیڈر کو بھیڑ کی وجہ سے رکنا پڑا ہو۔
اندرا گاندھی جنہیں آئرن لیڈی کہا جاتا تھا ان کی بھیڑ سے کئی بار چھڑپیں ہوئیں۔8 فروری1967 کی اس رپورٹ کے مطابق بھونیشور میں ایک اجلاس میں وزیر اعظم اندرا گاندھی پر پتھر پھینکے گئے انہیں چوٹ لگ گئی ان کا ہونٹ کٹ گیا لیکن اندرا گاندھی اسٹیج چھوڑ نے کو تیار نہیں تھیں انہوں نے مڑ کر مجمع سے پوچھا کہ کیا آپ ایسے لوگوں کو ووٹ دینگے؟
اندرا گاندھی نے اس میٹنگ میں جان کے خطرے کی بات نہیں کی جمہوریت کو خطرےکی بات کہی نہرو سے لے کر منموہن سنگھ تک ایسی کئی مثالیں موجود ہیں مشہور ہے کہ دہلی میں جاری فسادات کے دوران پنڈت نہرو کئی بارسڑک پر آئے اور فسادیوں کو روکنے کا کام کیا اس دوران انہیں لوگوں کے سخت جملے بھی برداشت کرنے پڑےسابق وزیراعظم منموہن سنگھ کوگولڈن ٹیمپل سے لے کر جے این یو تک احتجاج کا سامنا کرنا پڑا انہوں نے اپنی جان بچانے کے بارے میں نہیں کہاہندوستانی جمہوریت کی باڈی احتجاج کے دوران ہی بنی ہے جدوجہد آزادی کے سب سے بڑے جنگجو ہیرو مہاتماگاندھی مسلسل حملوں میں گھرے ہوۓ تھے۔
30 جنوری سے پہلے 20جنوری1948کو ان کے جلسے میں بم دھماکہ ہوا انہوں نے کہا کہ ڈرونہیں، بیٹھے رہو وزرائے اعظم کے علاوہ جئے پرکاش نارائن جیسے لیڈروں نے لاٹھیاں چلائیں،لاٹھیاں کھائیں، جیل گئے، لیکن کبھی نہیں کہا کہ وہ مرسکتے ہیں بلکہ اپنی جان کوایک طرح سےداؤپرلگاکرجمہوریت کا تحفظ کیا ہمارے موجودہ پی ایم کو احتجاج اور حملوں کے فرق سے اچھی طرح آگاہ ہونا چاہیے۔
ایسا کیا ہوا کہ انہیں کچھ افسروں کو بتانا پڑا کہ ان کی جان بچ گئی 5 ریاستوں میں ہونے والے انتخابات کے پیش نظر بی جے پی اور مودی مداح معاملے کو بہت زیادہ طول دے رہے ہیں ماحول گرمانے کی مکمل منصوبہ بندی ہوگئی ہے ایسے میں ملک کی جمہوریت کو بچانے کی ضرورت ہے اور فرقہ پرستوں کے زہریلے اثرات سے دیش کو محفوظ رکھنے کی جدوجہد کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔



