سلام بن عثمان،کرلاممبئی
8 اکتوبر 1978 میں مہاراشٹر کے احمد نگر ضلع، سری رامپور میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام بختیار اور والدہ ذکیہ۔ متوسط مراٹھی گھرانے میں پرورش پائی۔ بڑے بھائی ذیشان اور چھوٹا بھائی انیس دونوں نے کرکٹ کی کوچنگ اتسو یادو سے حاصل کی۔ ظہیر خان Zaheer Khan نے نیو مراٹھی پرائمری اسکول اور کے جے سومیہ سریرامپور سیکنڈری اسکول سے حاصل کی۔
اسی دوران مقامی ریونیو کالونی کرکٹ کلب کی طرف سے کرکٹ کھیلنے کا آغاز کیا۔ اس کے بعد پونے کرکٹ کلب سے منسلک ہوئے۔ ظہیر خان 1996 میں ممبئی شہر آئے۔ ممبئی میں ڈیویژن اے کے ذریعے نیشنل کرکٹ کلب میں شامل ہوئے۔ وہیں سے انھوں نے کانگا لیگ، کامریڈ شیلڈ، اور پرشوتم شیلڈ جیسے مقابلوں میں حصہ لیا اور اپنی بہترین کارکردگی سے اپنی شناخت بنائی۔
اس وقت ان کے کپتان سندیپ مہادکر کے ساتھ مل کر 50 اوورز گیند پھینکی گئی جس میں گیند کو ریورس سوئنگ کیا گیا۔ جس دس میڈن اوورز بھی رہے۔ ساتھ ہی کامریڈ شیلڈ میں فتح بھی دلائی۔ ظہیر خان نے ایک ایسی مثال بنائی جسے آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔ ظہیر خان نے اس وقت نویں وکٹ کی بہترین اشتراکی اننگ کھیلتے ہوئے اپنے ساتھی کے ساتھ 102 رنز بھی بنائے۔
ٹیم انڈیا کو ایک تیز گیند باز کی ضروت درکار تھے۔ پہلے تو کپل دیو کے ساتھ کرشن گھاوری کی بے مثال جوڑی ٹیم انڈیا کے لئے تھی۔ اس کے بعد راجر بنی اور مدن لال نے کافی حد تک کپل دیو کا ساتھ دیا اور تیز گیند باز ٹیم انڈیا کے پاس تھے۔
اس کے بعد ایک وقت آیا راجر بنی اور مدن لال ٹیم انڈیا میں جگہ نہیں بنا سکے دوسری طرف کپل دیو اکیلے ہوگئے اس وقت ٹیم انڈیا کو بائیں ہاتھ کے تیز گیند باز کی ضروت درکار تھی۔
اسی درمیان بڑودہ کی طرف سے رنجی میں تیز گیند بازی میں دھوم مچانے والے نوجوان کھلاڑی ظہیر خان پر سب کی نظریں تھیں۔ ظہیر خان فرسٹ کلاس کرکٹ سے اپنے کرئیر کا آغاز بڑودہ سے کیا۔ ظہیر خان ان دنوں اپنی تیز گیند بازی میں خاص طور سے تیز ان پرفیکٹ کے لیے جانے جاتے تھے۔
ٹیم انڈیا نے ظہیر خان کو سال 2000 میں بنگلہ دیش کے خلاف کھیلنے کا موقع دیا۔ اپنے پہلے ٹیسٹ میچ سے ہی بہترین تیز گیند بازی سے شہرت حاصل کی۔ اور کپل دیو کا متبادل کہا جانے لگا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں رہی کہ ظہیر خان کپل دیو کے بعد سب سے کامیاب تیز گیند باز رہے۔
اپنی تیز گیند بازی کو اور بہتر بنانے کے لیے ظہیر خان 2006 میں وہ انگلینڈ گئے اور وہاں انھوں نے وورسٹر شائر کی طرف سے میچ کھیلے۔ انھوں نے وہاں تیز گیند بازی میں گیند کو وکٹ کے دونوں طرف سوئنگ کرنے کے ہنر کو سیکھا۔
اپنی اس صلاحیت سے انھوں نے پرانی گیند کو بھی اسی رفتار سے ریورس سوئنگ کیا کرتے تھے۔ اور کرکٹ میں اپنی اسی صلاحیت اور ریسورس سوئینگ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے نظر آئے۔ بر صغیر کی ہموار پچوں پر ان کی بہترین کارکردگی ایک مختلف قسم کی رہی۔ ظہیر خان 2011 ورلڈ کپ فتح حاصل کرنے والی ٹیم انڈیا کے رکن تھے۔
اس ورلڈ کپ میں ظہیر خان نے 9 میچوں میں 21 وکٹوں کا نشانہ بنایا۔ اپنی تیز رفتار گیند بازی کے حملے سے مخالف ٹیم کے کھلاڑیوں کو پچ پر سانس لینے کا موقع تک نہیں دیا۔ ان کی بہترین کارکردگی کی وجہ سے انھیں 2011 میں ہندوستان کے صدر کی طرف سے انھیں ہندوستان کا دوسرا سب سے بڑا ایوارڈ "ارجن ایوارڈ” سے نوازا گیا-
ظہیر خان اکثر کھیل کے دوران کئی مرتبہ چوٹ لگنے سے بھی جانے جاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر کئی سیریز میں انھیں خاموش بیٹھنا پڑا۔ گیند بازی میں متھیا مرلی دھرن 325 اور شان پولاک 262 وکٹیں حاصل کیں۔
ظہیر خان ایسے گیند باز رہے جنھوں نے ان دونوں کو کئی مرتبہ پیچھے چھوڑا اور بازی ماری۔ظہیر خان نے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ 10 نومبر 2000 میں بنگلہ دیش کے خلاف کھیلا۔ اور آخری ٹیسٹ میچ 14 فروری 2014 میں نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلا۔
ظہیر خان نے اپنے 92 ٹیسٹ میچوں میں 1230 رنز بنائے جس میں تین نصف سنچریوں کے ساتھ بہترین اسکور 75 رنز رہا۔ گیند بازی میں 311 وکٹوں کو نشانہ بنایا۔ جس میں 11 مرتبہ پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ ایک مرتبہ دس وکٹوں کا ریکارڈ بنایا۔ بہترین کارکردگی رہی 87 رنز دے کر 7 وکٹیں اور بہترین 19 کیچیز۔
یک روزہ بین الاقوامی 200میچوں میں 793 رنز بنائے جس میں کوئی بھی سنچری یا نصف سنچری نہیں رہی۔ بہترین اسکور 34 رنز ناٹ آؤٹ۔ اسی طرح گیند بازی میں 282 وکٹیں، ایک مرتبہ پانچ وکٹ۔ بہترین گیند بازی رہی 42 رنز دے کر پانچ وکٹ اور 43 کیچیز۔
فرسٹ کلاس میچوں کی 169 انگز میں 2489 رنز بنائے جس میں پانچ نصف سنچریاں رہیں۔ بہترین کارکردگی 75 رنز۔ گیند بازی میں 672 وکٹیں اور 35 مرتبہ پانچ وکٹیں لینے کا اعزاز حاصل ہے۔ بہترین کارکردگی رہی 138 رنز دے کر 9 وکٹ اور 47 کیچیز۔
بین الاقوامی سطح پر نمائندگی کی لسٹ اے محدود اوور کرکٹ میں انڈیا کی جانب سے 253 میچوں میں 1047 رنز 43 نصف سنچریاں۔ گیند بازی میں 357 وکٹیں، ایک مرتبہ پانچ وکٹیں۔ بہترین گیند بازی رہی 42 رنز دے کر پانچ وکٹیں اور 57 شاندار کیچیز۔
سال 2014 میں ظہیر خان نے ممبئی میں ایک فٹنس اور اسپورٹس کمپنی کی بنیاد رکھی۔ جس میں فٹنیس تربیت کے ساتھ فیوزوتھراپی جس میں مشہور اور ماہر اہلکار انڈریو لیپس اور ایڈریان لی روکس جیسے اہلکار شامل ہیں۔ کمپنی کا مقصد ذاتی طور پر معاون فٹنس پروگراموں کے ذریعے لوگوں اور کھلاڑیوں کی زیادہ سے زیادہ صلاحیت کو بڑھانا۔
ظہیر خان نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ "اس کا مقصد کھیلوں کے درمیان چوٹ لگنے سے کھلاڑیوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عالمی معیار پر فٹنس پروگرام کو ہندوستان میں پیش کرنا بہت ضروری تھا۔ اس میں کارپوریٹس اور اسکول کالج کے لیے جسمانی تندرستی کے بارے میں بیداری کے لیے ورکشاپ اور سیشنز کا انعقاد کرتے ہوئے سائنسی طور پر پروگرام کے ذریعے علاج کرنا اور لوگوں کی خدمات کا ذریعہ بننا بہت ضروری ہے۔”
ظہیر خان نے 23 نومبر 2017 میں اداکارہ ساگاریکا گھاٹکے سے شادی کی۔
ظہیر خان کو سال 2008 میں وزڈن کے بہترین کرکٹرز میں ان کا انتخاب کیا گیا اور انھیں ایوارڈز سے نوازا گیا۔ ظہیر خان نے سال 2015 میں بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔ مگر بعد میں انھوں نے کاؤنٹی کرکٹ وورسٹ شائر کے لیے کھیلتے رہے۔ اور فرسٹ کلاس کرکٹ میں ممبئی، رائل چیلنجرز بنگلور اور دہلی ڈیئر ڈیولز کے لیے بھی کھیلے۔


