نئی دہلی،25؍ جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس میں صرف چند دن رہ گئے ہیں۔ کوویڈ کی وبا کے درمیان یہ تیسرا موقع ہے جب مودی حکومت اپنا مرکزی بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے۔ یہ بجٹ سیشن 31 جنوری سے شروع ہو رہا ہے۔ اگلے دن یکم فروری کو وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن مرکزی بجٹ پیش کریں گی۔
کوویڈ کی وجہ سے اس بار بھی سیشن میں کووڈ پروٹوکول نافذہوگا۔ نیز پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اجلاسوں کے اوقات بھی الگ الگ رکھے گئے ہیں۔
بجٹ سیشن کا شیڈول
۱۔سب سے پہلے بتادیں کہ بجٹ اجلاس دو مرحلوں میں مکمل کیا جائے گا۔ بجٹ سیشن 31 جنوری سے شروع ہو رہا ہے۔ اس کا آغاز حسب معمول صدر کے خطاب سے ہوگا۔ سیشن کا پہلا حصہ 11 فروری کو ختم ہوگا۔ اس کے بعد بجٹ اجلاس کا دوسرا مرحلہ 14 مارچ سے شروع ہوگا جو 8 اپریل تک جاری رہے گا۔
۲۔پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اجلاسوں کے وقت میں تبدیلی کی گئی ہے۔ سیشن کے پہلے مرحلے کے دوران، دن کے مختلف اوقات میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے اجلاس ہوں گے تاکہ کووڈ سے متعلق سماجی دوری کے اصولوں پر عمل کیا جا سکے۔
۳۔بجٹ اجلاس کے پہلے مرحلے کے دوران دونوں ایوانوں کی نشستیں مختلف اوقات میں پانچ پانچ گھنٹے کے لیے ہوں گی۔ لوک سبھا کا اجلاس یکم فروری کو صبح 11 بجے ہوگا اور اس دن عام بجٹ پیش کیا جائے گا۔ 2 فروری سے لوک سبھا کی کارروائی شام 4 بجے سے رات 9 بجے تک چلے گی۔ بجٹ اجلاس کا پہلا مرحلہ 11 فروری تک چلے گا۔
۴۔وبائی امراض کے پیش نظر ایوان زیریں کی نشست کے دوران دونوں ایوانوں کے چیمبرز اور گیلریوں کو ارکان کے بیٹھنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ راجیہ سبھا کی کارروائی کا اصل وقت کیا ہوگا اس کے بارے میں کوئی باضابطہ معلومات نہیں ہے۔ تاہم امکان ہے کہ اس کا اجلاس صبح 9 بجے سے دوپہر 2 بجے تک ہوگا۔
۵۔واضح رہے کہ سال 2020 کا مانسون اس طرح کا پہلا سیشن تھا جس کے دوران کووڈ کی وجہ سے دونوں ایوانوں کی میٹنگیں ایک ہی دن مختلف اوقات میں ہوئیں۔ گزشتہ سال کے بجٹ اجلاس کے پہلے مرحلے کے دوران بھی یہی انتظام کیا گیا تھا۔ بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلے اور پھر مانسون اجلاس اور سرمائی اجلاس کے دوران لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی معمول کے مطابق شروع ہوئی۔



