بین ریاستی خبریں

یوپی: ایس پی کا نیا کاسٹ کارڈ: غیر یادو او بی سی کے لیے 30 فیصدٹکٹ

اونچی ذات اور مسلمانوں کے لیے بھی 20 فیصد حصہ داری

نئی دہلی،25؍ جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) تمام سیاسی پارٹیاں اتر پردیش اسمبلی انتخابات 2022 کے لیے اپنے امیدواروں کی فہرست جاری کر رہی ہیں۔ تمام پارٹیاں امیدواروں کے اعلان میں ذات پات کا توازن برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں۔ ریاست کی اہم اپوزیشن پارٹی سماج وادی پارٹی نے بھی ٹکٹوں کی تقسیم میں ذات پات کی مساوات پر خصوصی زور دیا ہے۔

ایس پی نے ٹکٹوں کی تقسیم میں غیر یادو او بی سی پر بڑا داؤ لگایا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ایس پی بھی بی جے پی کی طرح او بی سی پر توجہ دے رہی ہے۔ایس پی اتحاد (بشمول راشٹریہ لوک دل اور سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی) نے اب تک 192 امیدواروں کی فہرست جاری کی ہے۔ ان میں سے سب سے زیادہ 79 سیٹیں او بی سی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے لیڈروں کو دی گئی ہیں۔

ایس پی نے پسماندہ ذاتوں پر دائو کھیلا ہے۔ سماج وادی پارٹی نے فہرست میں 79 او بی سی امیدواروں کو ٹکٹ دیا ہے جس میں 20 یادو اور 59 غیر یادو او بی سی شامل ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی اپنے روایتی یادو ووٹ بینک کے ساتھ ساتھ غیر یادو او بی سی ووٹوں پر زیادہ توجہ مرکوز کر رہی ہے۔

نیز ٹکٹوں کی تقسیم میں اونچی ذات کو تقریباً 20 فیصد حصہ دے کر ایس پی نے بی جے پی کے اونچی ذات کے ووٹ بینک کو توڑنے کی کوشش کی ہے۔ پارٹی نے 41 دلتوں اور 36 مسلمانوں (تقریباً 20 فیصد) کو بھی ٹکٹ دیا ہے۔ ایس پی نے بھی 14 برہمنوں کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔ اس کے علاوہ 10 بنیا، 7 ٹھاکر، تین سکھ اور دو دیگر امیدواروں پر دائو کھیلا ہے ۔

ٹکٹوں کی تقسیم میں اعلیٰ ذاتوں (برہمن + ٹھاکر + کیاستھ / بنیا) کا حصہ 16.14 فیصد ہے۔اکھلیش یادو کی پارٹی ایس پی نے اپنے اتحادی جینت چودھری کی راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کو کل 32 سیٹیں دی ہیں۔ ان 32 سیٹوں پر بھی پسماندہ ذاتوں پر دائو کھیلا گیا ہے ۔

13 سیٹوں پر او بی سی امیدوار کھڑے کیے گئے ہیں، جن میں 9 جاٹ، 3 گجر اور ایک سینی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 8 دلت، 5 مسلمان، 3 برہمن، 2 ٹھاکر اور ایک بنیا کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ سپا اپنے 5 امیدواروں کو آر ایل ڈی سے میدان میں اتارہے ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button