تبدیلی ٔمذہب پر کجریوال کی رائے : مبینہ تبدیلی ٔ مذہب کے خلاف مؤثر قانون بنانا ہوگا: کجریوال
چنڈی گڑھ ،29جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے ہفتہ کو جالندھر میں کہا کہ مذہب ایک نجی معاملہ ہے۔ ہر ایک کو بھگوان کی عبادت کرنے کا حق ہے۔ تبدیلی ٔ مذہب کے خلاف قانون ہونا چاہیے لیکن اس کے ذریعے کسی کو غیر منصفانہ طور پر ہراساں نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہیں ڈرا دھمکا کر کی گئی تبدیلی ٔ مذہب غلط ہے۔
مہم کے دوران کجریوال نے کہا کہ دہلی میں صنعتکاروں کو بی جے پی کا ووٹ بینک سمجھا جاتا ہے، میں خود بنیا ہوں لیکن دہلی کے بنیا نے مجھے کبھی ووٹ نہیں دیا۔ میرا دل جیتنے کے بعد اس نے ووٹ دینا شروع کر دیا۔ ہمیں 5 سال دیں ہم آپ کا بھی دل جیت لیں گے۔کجریوال پنجاب کے دورے پر ہیں۔
نوجوت سدھو پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ سدھو نہ تو علاقے میں جاتے ہیں اور نہ ہی کسی کا فون اٹھاتے ہیں۔ کجریوال نے فلور میں کہا کہ آپ کے امیدوار پرنسپل پریم کمار کے پاس یہاں پیسہ نہیں ہے اور نہ ہی ریاستی سربراہ بھگونت مان کے پاس ہے۔
بھگونت مان پچھلے سات سالوں سے ایم پی ہیں لیکن وہ اب بھی کرائے کے مکان میں رہتے ہیں۔ اکالی دل اور کانگریس پر حملہ کرتے ہوئے کجریوال نے کہا کہ دونوں پارٹیوں پر منشیات اور غیر قانونی کانکنی کا الزام ہے۔کجریوال نے کہا کہ پنجاب میں تعلیم اور ہسپتالوں کا معیار بہتر کیا جائے گا۔
یہ سب تب ممکن ہوگا جب پنجاب میں ایماندار حکومت آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ 1966 سے اب تک پنجاب میں 26 سال سے کانگریس کی حکومت ہے اور 19 سال سے بادل کی حکومت ہے ،سب نے مل کر پنجاب کو لوٹا۔
چیف منسٹر چرنجیت سنگھ چنی پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان پر ریت کانکنی کے الزامات ہیں۔ ای ڈی نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا، نوٹوں کے بنڈل ملے ہیں۔اسے صرف 111 دن ملے اور اس میں اس نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔



