قومی خبریں

یوپی اسمبلی الیکشن 2022: پورے ملک کی نظر یوپی کی اِن گیارہ ہاٹ سیٹوں پر، یہ نشستیں موضوعِ بحث کیوں ہیں؟

لکھنؤ ، یکم فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) اس بار سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو خود مین پوری ضلع کی کرہل اسمبلی سیٹ سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ ان کے خلاف بھارتیہ جنتا پارٹی نے مودی حکومت میں وزیر مملکت پروفیسر ایس پی سنگھ بگھیل کو میدان میں اتارا گیا ہے۔

اب تک جن سیٹوں کا اعلان کیا گیا ہے، ان میں کئی ایسی نشستیں ہیں جن پر پورے ملک کی نظر ہوگی۔ اس بار اسے الیکشن کی سب سے ہاٹ سیٹ سمجھا جا رہا ہے۔ ایسی ہی 10 ہاٹ سیٹ کچھ یوں ہیں۔

1- گورکھپور صدر: وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ یہاں سے بی جے پی امیدوار کے طور پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔ بھیم آرمی کے سربراہ چندر شیکھر آزاد نے سی ایم یوگی کے خلاف راگ الاپے ہیں، یہاں سے کانگریس اور سماج وادی پارٹی کے امیدوار کا ابھی تک اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

2 -کرہل: مین پوری ضلع کی کرہل سیٹ اب موضوع بحث ہے۔ سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو خود یہاں سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ ان کیخلاف بھارتیہ جنتا پارٹی نے پروفیسر ایس پی سنگھ بگھیل کو میدان میں اتارا گیا ہے۔ بگھیل ملائم سنگھ کے پی ایس او بھی رہ چکے ہیں۔

3- سیراتھو: اتر پردیش کے ڈپٹی سی ایم کیشو پرساد موریہ یہاں سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ بہوجن سماج پارٹی نے کیشوپرساد کیخلاف سنتوش ترپاٹھی کو میدان میں اتارا ہے، جب کہ سماج وادی پارٹی نے پٹیل برادری کے آنند موہن کو ٹکٹ دیا ہے۔ سراتھو میں پٹیل ووٹروں کا کردار اہم ہے، ایسے میں کیشو پرساد موریہ کے سامنے یہ ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
4- رامپور: لوک سبھا کے رکن پارلیمنٹ اور ایس پی کے قد آور لیڈر اعظم خان جو کہ تقریباً دو سال سے جیل میں ہیں، کو سماج وادی پارٹی نے یہاں سے پارٹی امیدوار نامزد کیا ہے۔

 

اعظم خان کیخلاف مبینہ طور پر 103 مقدمات درج ہیں۔ اعظم خان مسلسل ضمانت کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ابھی تک انہیں کامیابی نہیں ملی ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ جیل میں رہتے ہوئے ہی یہ الیکشن لڑیں گے۔ اعظم خان کیخلاف بی جے پی نے آکاش سکسینہ کو ٹکٹ دیا ہے،خیال رہے کہ یہ وہی آکاش سکسینہ ہیں ، جنہوں نے اعظم خان کیخلاف 35سے زائد کیس میں درخواست گزار بنے ہیں ،بی ایس پی نے صداقت حسین اور کانگریس نے یہاں سے کاظم علی خان کو میدان میں اتارا ہے۔

5-کیرانہ: یہ مغربی یوپی کی سب سے ہاٹ سیٹ سمجھی جاتی ہے۔ یہاں سے سماج وادی پارٹی نے اپنے ایم ایل اے ناہید حسن کو ٹکٹ دیا ہے۔ ناہیدحسن پر کیرانہ سے مبینہ طور پر ہندوؤں کی نقل مکانی کا الزام لگایا گیا ہے۔ناہیدحسن کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔

بی جے پی نے مرگیانکا سنگھ اور بی ایس پی نے راجندر سنگھ اپادھیائے کو یہاں سے میدان میں اتارا ہے۔ حاجی اخلاق کانگریس کے امیدوار بنائے گئے ہیں ۔

6- نکوڑ: سہارنپور کی نکوڑ سیٹ اس بار بھی موضوع بحث ہے۔ سماج وادی پارٹی نے یہاں سے بی جے پی کے باغی وزیر دھرم سنگھ سینی کو ٹکٹ دیا ہے۔ سینی نے وزارتی عہدہ اور بی جے پی چھوڑ کر کچھ عرصہ قبل ایس پی میں شمولیت اختیار کی ہے۔

بی جے پی نے مکیش چودھری کو سینی کیخلاف میدان میں اتارا ہے۔ بی ایس پی نے ساحل خان اور کانگریس نے رندھیر سنگھ کو اپنا امیدوار قرار دیا ہے۔

7-سردھنہ: ایم ایل اے سنگیت سوم جو ہمیشہ اپنے مسلم مخالف بیانات کے باعث سرخیوں میں رہتے ہیں، ایک بار پھر یہاں سے بی جے پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑیں گے۔ سنگیت سوم کیخلاف سماج وادی پارٹی نے اتل اور بی ایس پی سنجیو کمار کو میدان میں اتارا ہے۔ سید راعن الدین کو کانگریس کا امیدوار بنایا گیا ہے۔

8- سوار: ایس پی نے یہاں سے اعظم خان کے بیٹے عبداللہ اعظم کو میدان میں اتارا ہے۔ بی جے پی نے یہ سیٹ اپنے اتحادی پارٹی اپنا دل ایس کو دی ہے۔ یہاں سے اپنا دل کے حیدر علی امیدوار ہیں،عبداللہ اعظم بھی گزشتہ دو سال سے جیل میں تھے۔

حال ہی میں انہیں ضمانت ملی ہے، عبداللہ مسلسل اپنی اور اپنے والد محترم کی جان کے متعلق فکر مند ہیں ۔9 آگرہ دیہات: یہ نشست اس بار بحث کا مرکز ہے۔ یہاں سے بی جے پی نے بے بی رانی موریہ کو ٹکٹ دیا ہے۔

بے بی رانی اتراکھنڈ کے گورنر تھے، کچھ عرصہ پہلے بی جے پی نے انہیں پارٹی کی ذمہ داری دی تھی۔ اب انہیں آگرہ دیہات سے میدان میں اتارا ہے۔ ایس پی آر ایل ڈی اتحاد کی جانب سے یہاں سے مہیش کمار جاٹو کو امیدوار بنایا گیا ہے۔

بی ایس پی نے کرن پربھا کیسری اور کانگریس نے اوپیندر سنگھ کو میدان میں اتارا ہے۔؎

10گھوسی: مئو کی گھوسی سیٹ بھی ایک بار زیر بحث ہے۔ یہاں سے سابق وزیر دارا سنگھ چوہان کو سماج وادی پارٹی نے امیدوار بنایا ہے۔

چوہان نے حال ہی میں یوگی کابینہ اور بی جے پی چھوڑ کر ایس پی میں شمولیت اختیار کی ہے۔ بی جے پی، بی ایس پی اور کانگریس نے ابھی تک یہاں اپنے امیدوار کھڑے نہیں کیے ہیں۔ مانا جا رہا ہے کہ بی جے پی دوبارہ وجے راج بھر کو ٹکٹ دے سکتی ہے۔

11- جسونت نگر: اٹاوہ کی جسونت نگر سیٹ بھی ہاٹ سیٹ میں شمار ہوتی ہے ، یہاں سے سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے اپنے چچا اور پرگتی شیل سماج پارٹی کے صدر شیو پال سنگھ یادو کو میدان میں اتارا ہے۔

2017 میں علیحدگی کے بعد اب لگتا ہے کہ دونوں کے درمیان بہت کچھ اچھا چل رہا ہے۔ بی جے پی نے یہاں سے وویک شاکیا کو میدان میں اتارا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button