اسپورٹسسرورق

بہترین آل راؤنڈر  بائیں ہاتھ کے بے مثال تیز گیند باز اور بلے باز، عرفان خان پٹھان۔

عرفان خان پٹھان 7 اکتوبر 1984 کو گجرات کے شہر بڑودہ میں ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔ والد مسجد کے مؤذن کے طور پر خدمات انجام دیتے تھے۔ والدین کی خواہش تھی کہ دونوں بچے اسلامی اسکالر بنیں۔ مگر دونوں بھائیوں کی دلچسپی کرکٹ سے تھی۔ علاقے کے کلب میں شدید گرمی میں چھ گھنٹے کی سخت تربیتی کیمپ میں خاندان کے نظم و ضبط کے احساس نے یہ دیکھا کہ کرکٹ میں دونوں بھائیوں کی دلچسپی ہے اور سخت محنت کے ساتھ جدو جہد بھی مسلسل جاری ہے۔
گھر کے لوگ اور قریبی رشتے داروں کو یہ احساس ہوگیا کہ  ضرور ایک روز کامیابی کی منزل پر گامزن ہوں گے۔
کپل دیو کے بعد تیز گیند باز کی کمی محسوس ہورہی تھی۔ جسے پورا کیا ظہیر خان، لوگوں نے کہا کپل دیو کا متبادل اور ظہیر خان کے ساتھ بہترین جوڑی جمی عرفان پٹھان کے ساتھ، عرفان پٹھان کے آل راؤنڈر مظاہرے نے لوگوں کو یہ کہنے پر مجبور کیا کہ کپل دیو کی جگہ عرفان پٹھان نے ’پر کیا-
سابق ہندوستانی کپتان دتا گائیکواڑ کی رہنمائی میں عرفان پٹھان کو انڈر 14 بڑودہ کرکٹ ٹیم میں شامل کیا گیا۔ جب انھیں ایک مرتبہ پھر انڈر 15 کی سطح پر قومی ٹورنامنٹ کے لیے منتخب کیا گیا اس وقت انھیں کرکٹ کا سامان (کٹس) دیا گیا اس کے پہلے عرفان پٹھان کے پاس سیکنڈ ہینڈ کٹس ہوا کرتی تھی وہ بھی صحیح سے نہیں تھا۔
عرفان پٹھان کامیابی پر برابر گامزن تھے۔ دسمبر 1997 میں عرفان پٹھان کو بڑودہ کے انڈر 16 ٹیم میں شامل کیا گیا۔ اس وقت گجرات کے خلاف کھیلتے ہوئے 35 رنز دے کر ایک وکٹ حاصل کی اور 11 رنز بنائے۔ ان کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں ہونے کی وجہ سے دو سال تک انڈر 16 میں شامل نہیں کیا گیا۔

عرفان پٹھان نے ہمت نہ ہارتے ہوئے مسلسل سخت محنت کی۔

اس مرتبہ عرفان پٹھان کو ایک اور موقع ملا بڑودہ انڈر 16 میں انتخاب ہوا۔ مہاراشٹر کے خلاف بہترین کارکردگی پیش کرتے ہوئے 61 اور 9 رنز کی بہترین بلے بازی کی۔ اور گیند بازی میں 41 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کرتے ہوئے فتح میں مجموعی طور پر سر فہرست رہے۔ سیزن کے چھ میچوں میں 38 رنز دے کر چار وکٹیں حاصل کیں۔
گیند بازی کے علاوہ بلے سے زیادہ کامیابی حاصل کی۔ ممبئی کے خلاف کھیلتے ہوئے بہترین 72 رنز بنائے۔ اور سیزن میں 253 رنز۔ سال 2000 میں عرفان پٹھان نے انڈر 19 میں بہترین گیند بازی کی۔انھیں ہر میچ میں 20 اوورز کروائے گئے۔ چار میچوں میں 102 رنز بنائے۔ بہترین کارکردگی رہی 36 ناٹ آؤٹ رنز۔
گیند بازی میں 32.50 اوورز میں۔ 10 قیمتی وکٹیں حاصل کیں۔ اس کے بعد سوراشٹر کے خلاف کھیلتے ہوئے بہترین 44 رنز اور گیند بازی میں 71 رنز دے کر 4 وکٹیں۔ اس بہترین کارکردگی کی وجہ سے سیلیکٹرز نے انھیں سینئر ٹیم میں شامل کیا۔ سال 2003 میں عرفان پٹھان کو پاکستان اور سری لنکا کے محدود اوورز کی سیریز کے لیے انڈیا ایمرجنگ پلیئرز منتخب کیا گیا۔
عرفان پٹھان نے دو میچوں میں 22 رنز دے کر چار وکٹیں اور 35 رنز دے کر تین وکٹیں اور سیریز میں سات وکٹیں حاصل کیں۔ اس کے بعد 2003 میں انھیں پاکستان کے ایشین یوتھ ون ڈے مقابلے میں انڈر 19 کے لیے منتخب ہوئے۔ اس سیریز میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 18 وکٹیں حاصل کیں اور سر فہرست تیز گیند باز بنے۔
انھیں ٹورنامنٹ کا بہترین کھلاڑی کے اعزاز سے نوازا گیا۔ اس وقت ٹیم انڈیا نے سری لنکا کو فائنل میں آٹھ وکٹوں سے شکست دی اور ایک زبردست فتح حاصل کی۔ عرفان پٹھان نے اپنی زبردست شناخت بناتے ہوئے سرخیوں میں رہے۔  انھوں نے بنگلہ دیش کے خلاف 16 رنز دے کر 9 وکٹیں حاصل کیں اور سری لنکا کو 34 رنز آؤٹ کیا۔
اسی دوران سری لنکا کے خلاف کھیلتے ہوئے 33 رنز دے کر 3 وکٹ کے ساتھ بلے بازی میں 94 رنز بھی بنائے اور  ٹیم انڈیا کو فتح دلانے میں نمایاں رہے۔ اس وقت سیزن کے پہلے رنجی ٹرافی میچ میں آندھرا پردیش کے خلاف کھیلتے ہوئے بلے بازی میں 26 اور 12 رنز بنائے اور سات وکٹیں بھی حاصل کیں۔
عرفان پٹھان 2002 میں ٹیم  انڈیا انڈر 19 میں انگلینڈ دورہ کے لیے منتخب ہوئے۔ نوجوان کھلاڑی کے طور پر انھوں نے تین ٹیسٹ میچوں میں 15 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کی اس وقت بہترین کارکردگی 83 رنز دے کر 4 وکٹیں۔ اور انگلینڈ کو شکست دینے میں سر فہرست نظر آئے۔
اس کے بعد 42 رنز پر چار وکٹیں ساتھ ہی بلے بازی میں بہترین 66 رنز بھی بنائے اور ہندوستان نے سیریز 2-1 سے فتح حاصل کی۔ جس کے بعد عرفان پٹھان کا انتخاب ہوا اور انھیں بہترین کارکردگی کے لیے اعزاز سے بھی نوازا گیا۔ عرفان پٹھان عروج کے کامیابی کا سلسہ جاری رہا۔
اسی دوران ایرانی ٹرافی میں ریلوے کے خلاف 84 رنز دے کر دو وکٹ اور 29 رنز کی اننگ کھیلی۔انھوں نے رنجی میں جد و جہد کرتے ہوئے ساتھ میچوں میں 18 وکٹیں حاصل کیں۔ اڑیسہ کے خلاف کھیلتے ہوئے 31 رنز پر 6 وکٹیں اور 46 رنز پر تین وکٹوں کے ساتھ میچ پر مضبوط گرفت بناتے ہوئے فتح حاصل کی۔ انھوں نے اپنے پہلے سیزن کے اختتام تک اڑیسہ کے خلاف بلے بازی کرتے ہوئے 40 ناٹ آؤٹ اور بہترین 75 رنز کے ساتھ سات وکٹیں بھی حاصل کی۔ 
رنجی کی اس بڑی فتح نے بڑودہ کو اگلے سیزن کی ایرانی ٹرافی کے لیے کوالیفائی کیا۔  ایرانی ٹرافی کے دوسرے سیزن میں 32 رنز بنائے اور 95 رنز دے کر 3 وکٹ بھی لیتے ہوئے بہترین آل راؤنڈر کی نشاندہی کی۔ 
اسی سال گجرات کے خلاف کھیلتے ہوئے 41 رنز کے عوض 6 وکٹ اور ناٹ آؤٹ 63 رنز بھی بنائے۔ تمل ناڈو کے خلاف کھیلتے ہوئے 54 رنز بنائے اور اپنی فرسٹ کلاس ففٹی بنانے میں کامیاب ہوئے۔     04-2003 میں عرفان پٹھان کو بارڈر اور گواسکر ٹرافی سیریز میں انھیں ہندوستانی قومی اسکواڈ کے لیے منتخب کیا گیا۔
عرفان پٹھان کی بہترین کارکردگی کو دیکھتے ہوئے انھیں سینئر ٹیم میں شامل کیا گیا۔ اور عرفان پٹھان نے ممبئی کے خلاف کھیلتے ہوئے اپنا پہلا لسٹ اے میچ کھیلا۔ نو اوورز کے اس میچ میں 69 رنز کے عوض ایک وکٹ لیا۔ چنئی میں ایم آر ایف پیس فاؤنڈیشن میں شامل ہونے کے بعد اپنی گیند بازی کو مزید بہتر بنایا۔
اس دوران ٹیم انڈ کے  سیلیکٹر کرن مورے عرفان پٹھان کی گیند بازی سے بہت متاثر ہوئے اور انھوں نے ان کی سفارش کی۔  اس کے بعد سال 2002 کے شروعات میں انھیں انڈر 19 کرکٹ ورلڈ کپ کے لیے ٹیم میں شامل کیا گیا۔
عرفان پٹھان نے بلے بازی کرتے ہوئے 15 اور 30 رنز بنائے جو بہت کار آمد ثابت ہوئے ساتھ ہی گیند بازی میں 18 رنز کے عوض دو وکٹ بھی لیتے ہوئے جنوبی افریقہ کے خلاف جیت میں شامل رہے۔ ہندوستان واپس آنے کے بعد عرفان پٹھان کو پہلی مرتبہ سینئر زونل ٹیم میں لیا گیا۔ 
پہلے ہی میچ میں عرفان پٹھان نے 74 رن کے عوض چار وکٹ اور 72 رنز کے عوض چھ وکٹ لے کر ٹیم انڈیا کے سیلیکٹرز کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ عرفان پٹھان  زون کے تمام میچوں میں بہترین گیند بازی اور بلے بازی کرتے ہوئے عرفان پٹھان نے ٹورنامنٹ کو اپنے نام کیا۔
ان کی اس بہترین کارکردگی کی وجہ سے انھیں سری لنکا کے دورے کے لیے انڈیا اے ٹیم میں شامل کیا گیا۔ جہاں انھوں نے تین فرسٹ کلاس میچوں میں 6 وکٹیں حاصل کیں۔ اس کے بعد انگلینڈ دورے پر بھی عرفان پٹھان کو ٹیم انڈیا میں شامل کیا گیا۔
عرفان پٹھان نے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ 12 دسمبر 2003 میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلا۔ 5 اپریل 2008 کو اپنا آخری ٹیسٹ میچ ساؤتھ افریقہ کے خلاف کھیلا۔ پہلا یک روزہ بین الاقوامی میچ 9 جنوری 2004 میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلا اور آخری یک روزہ میچ 4 اگست 2012 کو سری لنکا کے خلاف کھیلا۔
اسی طرح پہلا 20ٹی میچ یکم دسمبر 2006 میں ساؤتھ افریقہ کے کھیلا اور آخری ٹی 20 میچ سال 2012 میں ساؤتھ افریقہ کے ہی خلاف کھیلا۔
آئی پی ایل میچ 10-2008 تک کنگز الیون پنجاب, 13-2011 دہلی ڈیئر ڈیولز، 2014 سن رائزرز حیدرآباد، 2015 چنائی سپر کنگز، 2016 رائزنگ ہونے سپر، 2017 گجرات لائن، 2020 کینڈی ٹسکرس۔
عرفان پٹھان نے 29 ٹیسٹ میچوں میں 1305 رنز جس میں ایک سنچری اور سات نصف سنچریاں، بلے بازی میں بہترین کارکردگی 102رنز، گیند بازی میں 100 وکٹیں، سات مرتبہ پانچ وکٹیں، اور دو مرتبہ دس وکٹیں لینے کا بہترین ریکارڈ کے ساتھ آٹھ بیش قیمتی کیچ بھی ہے۔
اسی طرح یک روزہ 120 میچوں میں 1544 رنز پانچ نصف سنچریاں، بہترین اسکور 83 رنز، گیند بازی میں 173 وکٹیں، دو مرتبہ پانچ وکٹ, بہترین گیند بازی 27 رنز کے عوض پانچ قیمتی وکٹیں اور 21 کیچ۔ ٹی20 کے 24 میچوں میں 172 رنز، بہترین اسکور 33 رنز ناٹ آؤٹ۔گیند بازی میں 28 وکٹیں جس میں بہترین کارکردگی رہی 16 رنز دے کر پانچ وکٹیں اور دو کیچ۔
فرسٹ کلاس کرکٹ کے 122 میچوں میں 4559 رنز، تین سنچریاں، 29 نصف سنچریاں بہترین اسکور 122 رنز، گیند بازی میں 384 وکٹیں، 19  مرتبہ پانچ وکٹوں کا بہترین ریکارڈ، 35 رنز کے عوض سات وکٹیں۔ اور 30 شاندار کیچ۔
آسٹریلیا میں مقیم شیوانگی دیو کے ساتھ 10 سال کا طویل رشتہ تھا۔ شیوانگی چاہتی تھی ان کے بڑے بھائی سے پہلے شادی کرے، اس وجہ سے دونوں میں اختلافات بڑھنے لگے اور رشتہ ٹوٹ گیا۔ اس کے بعد عرفان پٹھان نے حیدرآباد کی ایک ماڈل صفا بیگ سے 4 فروری 2016 میں شادی کی۔ عرفان کے دو بیٹے ہیں۔ 2019 میں جموں و کشمیر کرکٹ ٹیم میں بطور کوچ۔کم۔مینٹر شمولیت اختیار کی۔
سلام بن عثمان

متعلقہ خبریں

Back to top button