قومی ترانے کی مبینہ توہین: ممبئی کی عدالت نے ممتا بنرجی کو کیاطلب ، 2 مارچ کو پیش ہونے کی ہدایت
ممبئی،2 فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ممبئی کی میٹروپولیٹن مجسٹریٹ عدالت نے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو 2 مارچ کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے بنرجی کو یہ حکم ان کیخلاف گزشتہ سال ممبئی کے دورے کے دوران قومی ترانے کی مبینہ توہین کے الزام میں درج شکایت پر دیاہے۔
یہ شکایت ممبئی بی جے پی لیڈر وویکانند گپتا نے درج کرائی ہے۔عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ ممتا بنرجی وزیراعلیٰ ہیں، ان کے خلاف کارروائی کو آگے بڑھانے کے لیے منظوری کی ضرورت نہیں ہے ،اور کوئی پابندی لاگو نہیں ہے کیونکہ وہ اپنی سرکاری ڈیوٹی نہیں کر رہی تھیں۔
عدالت نے یہ بات گزشتہ سال دسمبر میں ممبئی میں منعقدہ تقریب کے سلسلے میں کہی ہے۔بی جے پی کی ممبئی یونٹ کے کارکن وویکانند گپتا دسمبر 2021 میں ہی شکایت لے کر میٹروپولیٹن مجسٹریٹ کورٹ پہنچے تھے۔ انہوں نے اپنی شکایت میں الزام لگایا تھا کہ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی سربراہ وزیراعلیٰ بنگال ممتا بنرجی نے ممبئی کے دورے کے دوران قومی ترانے کی مبینہ توہین کی تھی۔
عدالت نے کہا کہ شکایت، شکایت کنندہ کے بیان، ویڈیو کلپ اور یوٹیوب پر موجود ویڈیو سے یہ بات واضح ہے کہ ملزم (چیف منسٹر ممتا بنرجی )نے قومی ترانہ گایا اور اچانک رُک گئے اور پھر اسٹیج سے چلے گئے۔ یہ پہلی نظر سے ثابت ہوتا ہے کہ ملزم نے قومی وقار کو مجروح کرکے ایکٹ 1971 کے سیکشن 3 کے تحت قابل سزا جرم کا ارتکاب کیا ہے۔
خیال رہے کہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے گزشتہ سال دسمبر میں ممبئی کا دورہ کیا تھا۔ یہاں انہوں نے حکمراں شیوسینا اور این سی پی کے لیڈروں سے ملاقات کی۔
شکایت کنندہ گپتا کا دعویٰ ہے کہ بنرجی نے وزارت داخلہ کے 2015 کے حکم کی خلاف ورزی کی ہے، جس میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ قومی ترانہ بجانے یا گائے جانے کے دوران وہاں موجود تمام افراد کو کھڑے ہونا چاہیے۔



