تلنگانہ کی خبریں

ٹیچرس کو سینیارٹی کی بنیاد پر نہیں قابلیت کی اساس پر ترقی

 مرکزی کی جانب سے مسودہ کی تیاری، اگست سے عمل آوری، چار کیریئر مراحل کی تجویز
حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مستقبل میں ٹیچرس کو سینیاریٹی کی بنیاد پر نہیں بلکہ اُن مضمون میں قابلیت اور صلاحیتوں کے اساس پر ترقی دی جائے گی۔ نیشنل کونسل فار ٹیچرس (این سی ٹی ای) نے نیشنل پروفیشنل اسٹانڈرڈس فار ٹیچرس (این پی ایس ٹی) کے نام سے ایک مسودہ تیار کیا ہے جس میں اس کی وضاحت کی گئی ہے۔ گزشتہ نومبر میں تیار کردہ اس مسودہ کو ویب سائٹ پر پیش کرتے ہوئے مختلف گوشوں اور طبقات سے تجاویز طلب کی جارہی ہیں۔
گزشتہ سال کے مرکزی بجٹ میں اس کی تجویز پیش کی گئی تھی جس پر عمل آوری کے تعلق سے یکم فروری کو پارلیمنٹ میں پیش کردہ بجٹ میں اس کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس مسودہ پر قومی اور ریاستی سطح پر مشاورت کرتے ہوئے عمل آوری کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔
جاریہ سال اگست سے اس پر عمل کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ اگست سے ترقیوں اور تنخواہوں کی نظرثانی میں اس کو اہمیت دی جائے گی۔ مرکزی حکومت کی جانب سے اس کو منظوری دینے کے بعد ہی ریاستوں میں اس پر عمل آوری ہوگی۔ ٹیچرس کے پیشہ کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
(1 بیگنرس ٹیچر Beginners Teacher۔
(2 پروفیشنٹ ٹیچر   profesnist Teacher۔
(3 اکسپرٹ ؍ اڈوانسڈ ٹیچر Expert Advanced Teacher۔
(4 لیڈ ٹیچر  lead Teacher۔
ان زمروں میں ٹیچرس کے اپنے مختص کردہ کاموں میں بہتر مظاہرہ کرنے پر ہی دوسرے مرحلوں میں وہ داخل ہوں گے۔ ماہرین کی جانب سے ان کی قابلیت اور صلاحیتوں کو قبول کرنے پر ہی انہیں ترقی حاصل ہوگی۔
ترقی دینے سے قبل۔ تدریس کا طریقہ کار، تکنیکی انداز اپنانے کے شعور کے علاوہ دوسرے مختلف امور کا سنجیدگی سے جائیزہ لیا جائے گا۔ ٹیچرس کو اپنی صلاحیتوں کو ابھارنے کا بھی موقع فراہم کیا جائے گا۔
ہر ٹیچر کو سال میں 50 گھنٹے پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو ابھارنے آن لائن اور آف لائن تربیت لازمی ہے۔ تعلیم کو آسان اور کہانیوں کے طور پر پڑھانے کیلئے ٹیچرس کو تربیت بھی فراہم کی جائے گی۔ 

متعلقہ خبریں

Back to top button