بین ریاستی خبریں

اتر پردیش میں ہندوتوا لہر مہنگائی اور بے روزگاری کے سبب ماند پڑ گئی

مین پوری 3فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ضلع مین پوری کے اسمبلی حلقہ بھوگائوں108 میں سماجوادی پارٹی اور بھارتی جنتا پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ کے آثار نظر آرہے ہیں۔ گزشتہ 2017میں ایک طرفہ معاملہ نظر آرہا تھا جس میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار رام نریش اگن ہو تری نے ہندوتوا کی لہر میں فتح حاصل کی تھی ، ضلع مین پوری کی یہی ایک ایسی سیٹ تھی جس پر بھگوا پرچم ہندوتوا لہر میں لہرا گیا تھا ۔

اتر پر دیش میں ذاتیات پر ہو نے والے انتخابات اس مرتبہ بھوگائوں میں تبدیلی پیدا کر سکتے ہیں ، گزشتہ2017کے انتخاب میں لودھی راجپوت سماج کابھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار رام نریش اگن ہوتری کوکامیاب کرا نے میں ایک اہم رول تھا ۔

بھوگائوں اسمبلی حلقہ میں سب سے زیادہ تعداد لودھی راجپوت سماج کی ہے ،اس مرتبہ لودھی سماج اگر بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدواررام نریش اگن ہوتری کابینہ وزیر سے خفا ہے تو وہیں لودھی سماج سماج وادی پارٹی سے بھی نالاں نظر آرہا ہے، سماجوادی پارٹی سے لودھی سماج کے ایک لیڈر پانچ سال سے ٹکٹ کی امید لا گائے بیٹھے تھے۔

مسلسل پانچ سال سے پارٹی کے لئے محنت بھی کر رہے تھے ،لودھی سماج کے لیڈر کو ٹکٹ کی ہر ایک ممکن یقین دہا نی کرا نے کے بعد عین وقت پر ٹکٹ نہ دیکر لودھی سماج کے ایک بڑے طبقہ کو ناراض کر دیا۔

وہیں لودھی سماج کا الزام ہے کہ موجودہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار رام نریش اگن ہوتری نے لودھی سماج کے مخصوص لوگوں کے سوا سب کو نظر انداز کیا ،لودھی سماج اسمبلی حلقہ میں سب سے زیادہ تعداد میں ہو نے کی حیثیت سے بھاجپا اور سماج وادی پارٹی سے ٹکٹ پانے کی امید لئے ہو ئے تھا،مگر دونوں سیاسی جماعتوں نے اس لودھی سماج کو ٹکٹ نہ دیکر ناراض گی مول لے لی ۔

یہ بات بھی حقیقت کے قریب تر ہے کہ لودھی سماج آنجہانی سابق وزیر اعلیٰ اتر پردیش کلیان سنگھ کے وقت سے ہی بھاتیہ جنتا پارٹی کا حامی رہا ہے ، لیکن اس مرتبہ اس اسمبلی حلقہ بھوگائوں میں بڑی تعداد ہو نے کے با وجود دونوں پارٹیوں سے ٹکٹ نہ دیئے جانے سے یہ لودھی سماج کہیں نہ کہیں سماج وادی پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی سے ناراض ضرور ہے ۔

البتہ کانگریس پارٹی نے ممتا راج پوت کو ٹکٹ دیکر سب کو حیرت میں ڈال دیا ہے ، ابھی گزشتہ دنو لودھی سماج کی ایک بڑی میٹنگ بھی ہو چکی ہے ،جس میں متحد ہو کر ووٹ کر نے کی اپیل بھی کی گئی ہے ۔ یہی اپیل رام نریش اگن ہوتری کے سیاسی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔

گزشتہ2017کے انتخابات میں ہندوتوا کی لہر میں مسلم سماج کو چھوڑ کر سبھی سماج اگن ہوتری کی طرف بہ گئے تھے ،لیکن ان پانچ سالہ یو گی کے اقتدار والی بھاجپا سرکار میں ٹھوک دو والی پالیسی سے ،مہنگائی سے،آوارہ جانوروں کے ذریعہ فصل کی بر بادی سے ، بے روزگاری سے ، سبھی سماج کہیں نہ کہیں بھارتیہ جنتا پارٹی سے ناراض بھی ہے ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button